Urooj Butt 861 Posted December 1, 2016 Posted December 1, 2016 مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟ اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے 1 Quote
Waqas Dar 7,050 Posted December 4, 2016 Posted December 4, 2016 اب یہ وِیران دِن کیسے ہوگا بسر رات تو کٹ گئی درد کی سَیج پر بس یہیں ختم ہے پیار کی رہگزر دوست اگلا قدم کچھ سمجھ سوچ کر اُس کی آوازِ پا تو بڑی بات ہے ایک پتّہ بھی کھڑکا نہیں رات بھر گھر میں طوفان آئے زمانہ ہُوا اب بھی کانوں میں بجتی ہے زنجیرِ در اپنا دامن بھی اب تو میسّر نہیں کتنے ارزاں ہُوئے آنسوؤں کے گُہر یہ شِکستہ قدم بھی تِرے ساتھ تھے اے زمانے ٹھہر، اے زمانے ٹھہر اپنے غم پر تبسّم کا پردہ نہ ڈال دوست! ہم ہیں سوار ایک ہی ناؤ پر شکیب جلالی 0 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.