Jump to content

Recommended Posts

Posted

جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی
ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی
یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے
جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی

وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے
جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی
شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں
مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی

کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر
تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی
پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم
جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی

بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا
اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی
ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا
تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی

کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا
نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی

  • 1 month later...
Posted

ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﭘُﻮﭼﮭﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍِﺱ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺰّﺕِ ﺳﺎﺩﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﯽ

ﻣﯿﺮ ﺗﻘﯽ ﻣﯿﺮ

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.