waqas dar⚙ Posted December 26, 2016 Posted December 26, 2016 جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھییہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھیشہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھیپھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھیردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی 3
jannat malik👑 Posted February 5, 2017 Posted February 5, 2017 ﭘِﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﭘُﻮﭼﮭﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍِﺱ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺰّﺕِ ﺳﺎﺩﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﺮ ﺗﻘﯽ ﻣﯿﺮ 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now