Popular Post Zarnish Ali 7,894 Posted January 9, 2017 Popular Post Posted January 9, 2017 تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے تشبیہہ وا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا پیکر تراش شعر کے فنکار مر گئے ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی شَاید غزل کے سَارے گناہ گار مر گئے شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مر گئے اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مر گئے مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار گھوڑوں پہ دوڑے آئے تھے سردار مر گئے ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا تہمد پکڑ کے صاحبِ دستار مر گئے یا رب طلسمِ ہو ش رہا ہے مُشَاعرہ جن کو نہیں بُلایا، وہ غم خوار مر گئے بشیر بدر 5 Quote
Waqas Dar 7,036 Posted January 9, 2017 Posted January 9, 2017 جب حرف ناشناس يهان لفظِ فهم هين كيون ذوق شعرديكي تماشه كيا مُجهـي 3 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Hareem Naz 1,576 Posted January 10, 2017 Posted January 10, 2017 Smj kuj bi nh i 2 Quote Mri dunia meri Maa
Zarnish Ali 7,894 Posted February 20, 2017 Author Posted February 20, 2017 سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں مانگا خدا سے رات دن تیرے سوا کچھ بھی نہیں سوچا تجھے، دیکھا تجھے، چاہا تجھے، پوجا تجھے میری خطا میری وفا، تیری خطا کچھ بھی نہیں جس پر ہماری آنکھ نے موتی بچھائے رات بھر بھیجا وہی کاغذ اسے، ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں اک شام کے ساۓ تلے بیٹھے رہے وہ دیر تک آنکھوں سے کیں باتیں بہت، منہ سے کہا کچھ بھی نہیں احساس کی خوشبو کہاں ، آواز کے جگنو کہاں خاموش یادوں کے سوا گھر میں رہا کچھ بھی نہیں دو چار دن کی بات ہے دل خاک میں سو جائے گا جب آگ پر کاغذ رکھا باقی بچا کچھ بھی نہیں بشیر بدر 1 Quote
Zarnish Ali 7,894 Posted May 23, 2017 Author Posted May 23, 2017 آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا بشیر بدر 0 Quote
Zarnish Ali 7,894 Posted May 23, 2017 Author Posted May 23, 2017 بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا گھر چھوڑ کے مت جاؤ کہیں گھر نہ ملے گا پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شام جب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا آنسو کو کبھی اوس کا قطرہ نہ سمجھنا ایسا تمہیں چاہت کا سمندر نہ ملے گا اس خواب کے ماحول میں بے خواب ہیں آنکھیں جب نیند بہت آئے گی بستر نہ ملے گا یہ سوچ لو اب آخری سایہ ہے محبت اس در سے اٹھوگے تو کوئی در نہ ملے گا بشیر بدر 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.