Jump to content

Recommended Posts

Posted

flower.jpgسال بہ سال ، یہ سال بدل جاتے ہیں
ایّامِ زیست کمال ، زوال بدل جاتے ہیں

اِک لمحہ خاص بھی ہوجاتے ہیں خاک 
لوگ بھی کیا کیا ، کمال بدل جاتے ہیں

مُحبتیں ، عشق ، نفرتیں ، دائمی جُدائیاں 
دھیرے دھیرے سب خیال بدل جاتے ہیں

تشنہ لبیِ مانندِ دشت صحرا جاتی نہی 
جواب مل جائیں تو سوال بدل جاتے ہیں

سمجھ جاؤں ، جب فریب یار و اغیار کے
سب یہ میرے پھر نئی چَال بدل جاتے ہیں

مطلب ہوجائیں پورے ، جب بے وفاؤں کے
حسبِ ضرورت ، یہ حال بدل جاتے ہیں

پہلو میں روز ، نئے لوگ بدلتے ہوئے یہ لوگ 
سمتیں جنوب سے شمال بدل جاتے ہیں

خواہشِ وصلِ حُسن کو جب مل جائے تعبیر
پھر نظریں ، زاویہ جمال بدل جاتے ہیں

جفا ، دھوکہ ، فریب ، جھوٹ ، خود غرضی 
مطلب ، ضرورتیں ، رویّے ، اشکال بدل جاتے ہیں

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.