Urooj Butt👑 Posted December 1, 2016 Posted December 1, 2016 جو مخالف تھے کبھی شہر میں دیوانوں کے آج مہمان ہی لوگ ہیں ویرانوں کے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ، ابھی زندہ ہوں پھول مرجھائے نہیں ہیں ابھی گلدانوں کے شمع کو اور کوئی کام نہ تھا محفل میں رات بھر پَر ہی جلاتی رہی پروانوں کے ایک تہمت بھی اگر اور لگائی ہم پر راز ہم کھول کے رکھ دیں گے شبستانوں کے تجھ کو معلوم نہیں گیسوئے برہم کا مزاج روگ تجھ کو بھی نہ لگ جائیں پریشانوں کے 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now