Urooj Butt Posted December 1, 2016 Report Posted December 1, 2016 میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع کرتے ہوئے صدف سے چاہتے پھرتے ہیں موتیوں کی فصل کسی حباب میں تالاب جمع کرتے ہوئے خزانہ کیسی محبت کا دل کے دریا سے ملا ہے ملبہ ء غرقاب جمع کرتے ہوئے بدن کے جار میں کتنی دراڑیں آئی ہیں عجیب طرح کے تیزاب جمع کرتے ہوئے جنابِ صدر پہ پھینکا وہ دیکھئے کیا ہے کسی غریب نے اعصاب جمع کرتے ہوئے اداسیاں ہیں ، جدائی ہے اور آنسو ہیں گزر گئی یہی احباب جمع کرتے ہوئے چراغاں کر لیا بخت ِسیاہ میں منصور دکھوں کے گوہر ِ نایاب جمع کرتے ہوئے میں جل گیا گل و گلزار جمع کرتے ہوئے بدن میں سایہ ء دیوار جمع کرتے ہوئے مقابلے پہ لے آئی ہے واہموں کے ہجوم فسردگی بھی مددگار جمع کرتے ہوئے کسی نشیب ِ سیہ میں ہے گر پڑی شاید نگاہ ، صبح کے آثار جمع کرتے ہوئے خود اپنا آپ بھی کونے میں دھر دیا میں نے کہانی کے کہیں کردار جمع کرتے ہوئے برِصغیر کے لوگوں کو بھوک دی افسوس بھیانک اٹیمی ہتھیار جمع کرتے ہوئے ہزاروں روز جہنم رسید ہوتے ہیں جہاں میں درہم و دینار جمع کرتے ہوئے بدل دی تُو نے تغزل کی شکل بھی منصور غزل میں درد کے انبار کرتے ہوئے محسن نقوی ۔۔ Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.