Jump to content

Recommended Posts

Posted

حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
ایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں

یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائے
ہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں

یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالو
یہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں

کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟
گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں

دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیا
جی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں

تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن
تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں

جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوں
کب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں

کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بن
تُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں

یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرے
مر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں

 

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.