waqas dar⚙ Posted May 16, 2017 Posted May 16, 2017 Mai Ishq Ki Shidat Sy Pereshan Bohat Hun میں عشق کی شدت سے پریشان بہت ہوں اے جاں تری چاہت سے پریشان بہت ہوں ہاں شورشِ ہجراں سے یہ دل شاد بہت تھا ہاں وصل کی راحت سے پریشان بہت ہوں چاہوں تو تجھے چھوڑ دوں میں غیر کی خاطر بس نکتہ وحدت سے پریشان بہت ہوں انصاف کی دنیا ہے فقط خواب کی دنیا یا رب میں حقیقت سے پریشان بہت ہوں جگنو، یہ چاند، تارے، بہاریں صدایئں دیں اف، میں تیری شہرت سے پریشان بہت ہوں ! غنچہ یا کوئی پھول کہوں، پنکھڑی کہوں ہونٹوں کی نزاکت سے پریشان بہت ہوں کیوں اے دل کم فہم تو مانے ہے انا کی؟ آمر کی حکومت سے پریشان بہت ہوں ہر ایک عمل پہ کہے 'یوں تو نہیں، یوں۔۔۔' ناصح تیری عادت سے پریشان بہت ہوں لڑکی ہوں، پگھل جاتی ہوں نظروں کی تپش سے میں حسن کی نعمت سے پریشان بہت ہوں وہ جان تکلم نہ بنا لے مجھے مداح اس زور خطابت سے پریشان بہت ہوں دنیا یہ فقط تجھ پہ جیا! کیوں ہے مہربان لہجوں کی ملاحت سے پریشان بہت ہوں 2
Zarnish Ali👑 Posted May 24, 2017 Posted May 24, 2017 یہ کھیل ہم نے فقط _ ہارنے کو_ کھیلا ہے تری انا کے لیٔے ھم __ تجھے جتا دیں گے 1
waqas dar⚙ Posted May 24, 2017 Author Posted May 24, 2017 میری آنکھوں میں آنسو پگھلتا رہا، چاند جلتا رہا تیری یادوں کا سورج نکلتا رہا، چاند جلتا رہا کوئی بستر پہ شبنم لپیٹے ہوئے خواب دیکھا کیے کوئی یادوں میں کروٹ بدلتا رہا، چاند جلتا رہا میری آنکھوں میں کیمپس کی سب ساعتیں جاگتی ہیں ابھی نہر پر تو مرے ساتھ چلتا رہا، چاند جلتا رہا میں تو یہ جانتا ہوں کہ جس شب مجھے چھوڑ کر تم گئے آسمانوں سے شعلہ نکلتا رہا ، چاند جلتا رہا رات آئی تو کیا کیا کرشمے ہوئے تجھ کو معلوم ہے؟ تیری یادوں کا سورج اُبلتا رہا ، چاند جلتا رہا رات بھر میری پلکوں کی دہلیز پر خواب گرتے رہے دل تڑپتا رہا، ہاتھ ملتا رہا ، چاند جلتا رہا یہ دسمبر کہ جس میں کڑی دھوپ بھی میٹھی لگنے لگے تم نہیں تو دسمبر سلگتا رہا، چاند جلتا رہا آج بھی وہ تقدس بھری رات مہکی ہوئی ہے وصی میں کسی میں ، کوئی مجھ میں ڈھلتا رہا ، چاند جلتا رہا 1
jannat malik👑 Posted August 7, 2017 Posted August 7, 2017 مسکرانے کے زمانے گزر گئے. . ..وقت دفنا گیا میرے شوق بھی میرے ذوق بھی 2
Zarnish Ali👑 Posted November 15, 2017 Posted November 15, 2017 سنو لفظوں کے جادوگر! محبت تو تمہیں ہر رنگ میں محسوس ہوتی ہے کبھی وہ رنگ بھی لکھو! جو تم کو سوچ کر میری نگاہوں میں اترتے ہیں وہ الفاظ جو دل سے زباں تک آ تو جاتے ہیں ادا لیکن نہیں ہوتے کبھی اس بے بسی کے رنگ کو تصویر کر دو ناں! مری خاطر اک ایسی نظم بھی تحریر کر دو ناں! جسے تم کو سناوں تو تمہیں معلوم ہو جائے میں کیوں خاموش رہتی ہوں..!
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now