👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

ADMIN

👑 OWNER ✨
  • Posts

    225,926
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    67

Blog Entries posted by ADMIN

  1. ADMIN
    ... جویریہ صدیق ... زیکا وائرس اڈیس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہے جس کے باعث ڈینگی بخار اور زرد بخار پھیلتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق 1947 میں پہلی بار یوگنڈا میں اس کا پہلا کیس سامنے آیا۔حال ہی میں برازیل میں اس کی وبا پھوٹ پڑی ہے اس کے ساتھ یہ جنوبی امریکا کے 20 ممالک میں پھیل گیا ہے۔اس سے سب سے زیادہ خطرہ حاملہ خواتین کو ہے ۔ زکا وائرس کی شکار خواتین کے بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں۔ پھیلاو : زیکا وائرس ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔اڈیس مچھر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں کاٹتا ہے۔یہ مچھر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے۔یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے.اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں. یہ مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے. انسانوں سے انسانوں میں منتقلی بنیادی طور پر تو یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔کچھ کیسز میں متاثرہ شخص کے خون کے ذریعے سے یہ صحت مند انسان میں منتقل ہوسکتا ہے ۔اگر مریض کا خون یا استعمال شدہ سرنج یا اس کے ساتھ دوران بیماری جنسی ملاپ کیا جائے ۔زکا وائرس جسم میں صرف ایک ہفتے تک رہتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے۔ علامات : اس کی علامات میں بخار،جوڑوں میں درد، آنکھوں کا سرخ ہونا،جسم پر لال دھبے ،سر درد شامل ہے ۔کچھ لوگوں میں تو یہ علامات عام زکام کی طرح آتی ہیں ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ زکا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر : اس وائرس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رکھے۔ان کی افزائش کو ختم کیا جائے۔مکمل لباس پہنا چاہیے تاکہ مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رہیں۔پانی نا کھڑا ہونے دیں۔فالتو سامان کو پھینک دیں۔ پرانے ٹائر گھر سے نکال دیں.اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں.گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی نا جمع نا ہونے دیں پرانے.باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں.روم کولرز میں سے پانی نکال لیں۔ اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا رپلینٹ کا استعمال کریں .گھر میں جالی لگوائیں اور بلا ضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں. ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں.سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیں.کوائیل کا استعمال کریں. علاج : اس بیماری کے لئے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔نا ہی ویکسین دستیاب ہے ۔بس مریض کو بہت سا پانی پلایا جائے،تازہ پھلوں کے جوس اور سوپ ۔اس کے ساتھ درد کم کرنے کے لئے ادویات۔مریض کو آرام کروایا جائے۔یہ جان لیوا بیماری نہیں ہے۔ حاملہ خواتین اور زیکا وائرس : اگر حاملہ خواتین کو زکا وائرس ہوجائے تو ہونے والے بچے کے اعصاب کو متاثر کردیتی ہے۔بچےmicrocephaly کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کا سر چھوٹا رہ جاتاہے۔ برازیل میں اب تک 270 سے زاید بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایبولا کی طرح ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو لاطینی امریکا کے ممالک سفر سے گریز کرنا چاہیے۔ زیکا وائرس صرف ایک ہفتے تک جسم میں رہتا ہے ۔اس کے بعد ختم ہوجاتاہے۔لیکن اس کے پھیلاو سے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو بہت تشویش ہے۔اس کی کوئی ویکسین تو موجود نہیں اس لئے احتیاط ہی میں اس کا علاج ہے۔خاص طور پر حاملہ خواتین کو ان علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنا چاہیے جہاں زیکا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias
     
    View the full article
     

     
  2. ADMIN
    ... سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ پاکستان کی سپریم کورٹ پاکستانیوں کے لیئے ہے اور انکے مفاد میں سوچتی ہے ،،، اسکا کسی حد تک ثبوت چنگچی والے غریبوں کو انکا روزگار لوٹانے کے فیصلے سے مل گیا جو کہ تین ماہ میں انکی رجسٹریشن کرانے سے مشروط ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس پہ عملدرآمد کیلیئے پابند کردیا گیا ہے ،،،، کئی ماہ سے اندرون سندھ بالعموم اور کراچی میں بالخصوص ہزاروں چنگچی چلانے والے غریب ڈرائیور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھےاور انکے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے تھے ،،، اور اسکے بعد جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا اور ساتھ ہی ٹریفک پولیس والوں کو کئی بار جانی نقصانات اٹھانے پڑگئے تھے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ان ہلاکتوں کا اس پابندی سے کوئی نہ کوئی تعلق ہو،،، ہزاروں لوگوں کی اس بیروزگاری کی وجہ یہ بنی تھی کہ ٹریفک پولیس کے ایک بہت با اختیار افسر نے آتے ہی نت نئے شاہی فرامین کی '' آندھی '' چلا دی تھی ،،، اس افرس کو نہ تو دھواں چھوڑتی گاڑیوں سے عوام کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق محسوس ہورہا تھا اور نہ ہی فٹنیس سے بے نیاز ٹرانسپورٹ سے انکو کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی جابجا دوڑتی پھرتی اشرافیہ کی گاڑیوں کے کالے شیشوں سے ٹریفک قوانین کی بکھرتی دھجیاں دکھائی دیتی تھیں ،،، اسے جو بھی خدشات تھے انکا تمامتر مرکز چنگچی موٹرسائیکل رکشے تھے یا سی این جی کے 6 اور 9 سیٹر رکشے ،،، اس پابندی کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ تگڑے چالانوں کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار گرم ہوگیا اورٹریفک پولیس والوں کے رشوت کے ریٹ بہت زیادہ بڑھ گئے اور ساتھ ہی عام پولیس والے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلیئے سڑکوں پہ ناکے لگا کر بیٹھ گئے ۔۔۔ اس سے قبل اس ہی پولیس افسر نے یہ کمال ھی دکھایا تھا کہ اس نے یہ نادر شاہی حکمنامہ بھی جاری کردیا تھا کہ موٹر سائیکل پر بیٹھنے والی تمام سواریاں خوہ مرد ہو یا عورت ، لازمی ہیلمیٹ پہننے کی پابند ہونگی ،،، اس پہ تو عوام اس قدر شدید مشتعل ہوگئے تھے کہ اگر دوچارروز ہی میں یہ حکم واپس نہ لےلیا جاتا تو ہر سڑک پہ ٹریفک پولیس والے اور عوام روز ہی دست و گریباں ہوتے نظر آتے،،، ادھر کچھ بقراط ان چنگچی والوں کو مجرم ٹہرا رہے تھے اور خوشی کے شادیانے بجارہے تھے کیونکہ انکا عوامی مسائل سے کبھی کوئی لینا دینا نہیں تھا ،بس جشن کا سبب یہ تھا کہ انکی کاروں کے رستے میں مزاحم ہونے والے بدتمیزوں کا ماکو جو ٹھپ گیا تھا ،،، لیکن اسکے نقد نتیجے میں کراچی بھر میں ہر بس اسٹاپ پہ ٹرانسپورٹ کے منتظر عوام کے ٹھٹھ لگنا معمول بن گیا تھا اور خواتین ، بچوں و بوڑھوں کی بری طرح سے درگت ہی بن گئی تھی ۔۔۔ چند دانشور البتہ ٹرانسپورٹ کی اس قلت کے مسئلے کا حل لمبی گرین بسوں کو بتا رہے تھے اور جلد ہی انکے بڑی تعداد میں چلنے کی نوید دے رہے تھے ۔۔۔ تاہم میں نے جواباً یہ عرض کیا تھا کہ اول تو اتنی گرین بسیں چلائی ہی نہیں جائینگی کہ طلب و رسد کے فرق کو مٹا سکیں ، دوسرے وہ صرف شہر کی مرکزی سڑکوں ہی تک محدود ہونگی ،،، جبکہ اب کراچی کی آبادی کا 70 سے 80 فیصد حصہ تو اندرونی و ذیلی سڑکوں سے منسلک ہے اور ان سڑکوں پہ یہ بڑی بڑی گرین بسیں چلانے میں کسی کو دلچسپی نہیں ،،، کیونکہ یہ پوری بس اگر بھر کے نہ چلے تو منفعت بخش نہیں رہے گی اور ان سڑکوں پہ انکے بھرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے ،،جس سے آگے کے اسٹاپوں کے منتظر مسافر شدید پریشانی اور انتظار کی کوفت میں مبتلا ہونگے ،،، یوں ویسے بھی ان کم چوڑی سڑکوں پہ چلنے سے وہاں ٹریفک جام کا مسئلہ نہایت گھمبیر صورت اختیار کرلے گا ،،،، ان بغلی و ذیلی سڑکوں پہ تو وہ چھوٹی ٹرانسپورٹ ہی مناسب ہے کہ جو کم نشستوں کی ہو اور جلدی بھر کے چل پڑتی ہو اور اس وجہ سے اسکا کرایہ بھی کم ہو ،،، اور یہ ضرورت چنگچی و 6 سیٹر و 9 سیٹر رکشے کسی نا کسی طور پوری کرنے لگے تھے ،،، دیکھنے والوں نے کھلی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ گزشتہ دنوں جن گرین بسوں کا بڑا غلغلہ بلند ہوا تھا وہ ماضی کی پرانی روایت کے مطابق بہت کم مقدار میں چلائی گئیں اور اب ان میں سے کئی واپس ڈپوؤں میں کھڑی کردی گئی ہیں - چنگچی یقینناً ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا واحد حل نہیں لہٰذا شہر میں آبادی کےبڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ضروری ہے کہ نئی ہائی روفوں اور سیٹوں والی تین طرف سے بند نئی سوزوکیوں کو بھی متبادل ٹرانسپورٹ کے طور پہ چلائے جانے کی اجازت دی جانی چاہیئے اور ساتھ ہی ماس ٹرانزٹ اسکیم کی برسوں پرانی اسکیم مکمل کی جائے،،،سمندر کنارے کی بستیوں کیلیئے ساحلی کنارے کے ساتھ ساتھ فیری سروس بھی شروع کی جاسکتی ہے اسی طرح اب لوکل ریلوے کی بحالی بھی ناگزیر ہے اور یہ بھی شدید مطلوب ہے کہ سڑکوں کےبیچ میں موجود گرین بیلٹس پہ کھمبے لگا کر بالائی سطح پہ مونو ریل چلائی جائے اور ان سب منصوبوں پہ پوری سنجیدگی و سرگرمی سے کام کیا جائے یہ منصوبے مکمل ہوگئے تو سڑکوں پہ ٹرانسپورٹ کا دباؤ خاطر خواہ حد تک کم ہوجائےگا۔۔۔ ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ اب کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ (‌خواہ چھوٹی ہو یا بڑی) کی فٹنیس اور کنڈیشن پہ کوئی سمجھوتہ ہرگز نہ کیا جائے اور سڑک پہ چلنے والی تمام کمرشیل گاڑیوں کی کنڈیشن بہتر کرائی جائے اور انکے چلنے کی اجازت کو فٹنیس کےساتھ مشروط کیا جائے اور اسی طرح ڈرائیور کیلیئے درکار اہلیت کے ضوابط بھی سختی سے نافذ کیئے جائیں ،،، اور اس معاملے میں کوئی نرمی ہرگز نہ برتی جائے ،،، یہاں آخر میں اس حقیقت کا تذکرہ کیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ عوام کو سستی و بروقت ملنے والی ٹرانسپورٹ یعنی چنگچی سے جب محروم کردیا گیا تھا تو میں نے سوشل میڈیا پہ احتجاج کیا تھا اس پہ صرف جماعت اسلامی اور پاسبان ہی نےکان دھرا اور کسی سیاسی و دینی جماعت کو یہ توفیق تک نہ ہوسکی کہ وہ اس ضمن میں صدائے احتجاج بلند کرتا ۔۔۔ لیکن اب بھی موقع ہے کہ اس شہرکی تمام سیاسی و دینی جماعتیں مل کر آواز بلند کریں اور اس شہر کے باشندوں کو درپیش ٹرانسپورٹ کی تنگی کے مسئلے کو حل کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں -
     
    View the full article
     
     

     
  3. ADMIN
    ... فاضل جمیلی ... اخترحسین جعفری نے چار اپریل انیس سو اناسی کو ایک نوحہ لکھا تھاجس کے ایک ایک لفظ میں درد کی وہی شدت تھی جو ہم نے من حیث القوم چار اپریل کو محسوس کی۔وہی سوگواری تھی جوستائیس دسمبر دوہزار سات کو پورے ملک پر طاری ہوئی۔وہی ملال تھا جس نے سولہ دسمبر دوہزارچودہ کو پوری قوم کو غم سے نڈھال کیا اور وہی کرب کی کیفیت ہے جس نے بیس جنوری دو ہزارسولہ کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں نہتے طالبعلموں پر ہونے والے اذیت ناک حملے کی وجہ سے ہم سب کو ایک بار پھر اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔اخترحسین جعفری نے لکھا تھا۔ اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے جس قدر حرفِ عبادت یاد تھے، پَو پھٹے تک انگلیوں پر گن لیے اور دیکھا رحل کے نیچے لہو ہے شیشئہ محفوظ کی مٹی ہے سرخ سطر ِ مستحکم کے اندر بست و در باقی نہیں یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو ایلچی کیسے بلادِ مصر سے سوئے کنعاں آئے ہیں اِک جلوس ِ بے تماشا گلیوں بازاروں میں ہے تعزیہ بردوش انبوِہ ہوا روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں، منّتوں کا اجر، خوابوں کی زکٰوۃ سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیو! اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو کچّی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں لیکن ہم ہیں کہ جنازے دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں پک چکی ہیں ۔اس دوران کتنی ہی مساجد، کتنی ہی امام بارگاہوں، کتنے ہی کلیسائوں اور کتنے ہی سیکورٹی اداروں کو دہشت گرد حملوں کانشانہ بنایا گیا۔جواب میں کتنے ہی آپریشن ہوئے، کتنے ہی سیکورٹی پلان بنے۔دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کےبلندو بانگ دعوے کیے گیےلیکن دہشت گردوں کی نرسریاں اسی طرح پھلتی پھولتی رہیں اور آج ان کی جڑیں اتنی مضبوط اور اتنی توانا ہو چکی ہیں کہ اب ان کا ہدف علم و ادب کی نرسریاں بننے لگی ہیں۔قلم اور کتابیں ان کے نشانے پر ہیں۔ہم لاکھ کہتے رہیں کہ ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے لیکن پہلے جو کچھ ان دہشت گردوں کو تعلیم ہوا ہے ، اس ناسورکو دُور کرنے کی حکمت کون کرے گا؟ ہم برادر ملکوں میں پائی جانے والی شکررنجیوں کے مٹانے کے لیے ثالثی کرتے ہیں لیکن اپنی صفوں میں پائی جانے والی دراڑوں کو پُر کرنےکاکوئی درماں ہمارے پاس نہیں۔ہم سب کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا پڑے گاکہ انفرادی یا اجتماعی طورپرخاموشی اختیار کرکے، مزاحمت نہ کرکےاور نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہ کرکے اپنے دشمنوں، دہشت گردوں ، شرپسندوں اور ان کے سرپرستوں کے سہولت کار تو نہیں؟ کیا ہم خالد احمد کے اس شعر کی مثال ہی بنے رہیں گے؟ کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
     
    View the full article
     

     
  4. ADMIN
    ... جویریہ صدیق ... زکا وائرس اڈیس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہے جس کے باعث ڈینگی بخار اور زرد بخار پھیلتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق 1947 میں پہلی بار یوگنڈا میں اس کا پہلا کیس سامنے آیا۔حال ہی میں برازیل میں اس کی وبا پھوٹ پڑی ہے اس کے ساتھ یہ جنوبی امریکا کے 20 ممالک میں پھیل گیا ہے۔اس سے سب سے زیادہ خطرہ حاملہ خواتین کو ہے ۔ زکا وائرس کی شکار خواتین کے بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں۔ پھیلاو : زکا وائرس ایک مخصوص مچھر aedes aegypiti کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔اڈیس مچھر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں کاٹتا ہے۔یہ مچھر صاف پانی پر پرورش پاتا ہے۔یہ مچھر زیادہ تر گھروں میں افزائش پاتا ہے.اس مچھر کی ایک مخصوص پہچان ہے اس کے جسم پر سیاہ سفید نشان ہوتے ہیں. یہ مچھر زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے. انسانوں سے انسانوں میں منتقلی بنیادی طور پر تو یہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔کچھ کیسز میں متاثرہ شخص کے خون کے ذریعے سے یہ صحت مند انسان میں منتقل ہوسکتا ہے ۔اگر مریض کا خون یا استعمال شدہ سرنج یا اس کے ساتھ دوران بیماری جنسی ملاپ کیا جائے ۔زکا وائرس جسم میں صرف ایک ہفتے تک رہتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے۔ علامات : اس کی علامات میں بخار،جوڑوں میں درد، آنکھوں کا سرخ ہونا،جسم پر لال دھبے ،سر درد شامل ہے ۔کچھ لوگوں میں تو یہ علامات عام زکام کی طرح آتی ہیں ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ زکا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔ احتیاطی تدابیر : اس وائرس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خود کو مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رکھے۔ان کی افزائش کو ختم کیا جائے۔مکمل لباس پہنا چاہیے تاکہ مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رہیں۔پانی نا کھڑا ہونے دیں۔فالتو سامان کو پھینک دیں۔ پرانے ٹائر گھر سے نکال دیں.اگر پانی ذخیرہ کرنا ہو تو اس کو لازمی طور پر ڈھانپ دیں.گھر میں لگے پودوں اور گملوں میں پانی نا جمع نا ہونے دیں پرانے.باتھ روم میں بھی پانی کھڑا نا ہونے دیں اور اس کا دروازہ بند رکھیں.روم کولرز میں سے پانی نکال لیں۔ اپنی حفاظت کے لئےمچھر مار اسپرے استعمال کریں یا رپلینٹ کا استعمال کریں .گھر میں جالی لگوائیں اور بلا ضرورت کھڑکیاں نا کھو لیں. ڈینگی کا مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے اس لئے اس وقت خاص طور پر احتیاط کریں.سوتے وقت نیٹ کے اندر سوئیں.کوائیل کا استعمال کریں. علاج : اس بیماری کے لئے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔نا ہی ویکسین دستیاب ہے ۔بس مریض کو بہت سا پانی پلایا جائے،تازہ پھلوں کے جوس اور سوپ ۔اس کے ساتھ درد کم کرنے کے لئے ادویات۔مریض کو آرام کروایا جائے۔یہ جان لیوا بیماری نہیں ہے۔ حاملہ خواتین اور زکا وائرس : اگر حاملہ خواتین کو زکا وائرس ہوجائے تو ہونے والے بچے کے اعصاب کو متاثر کردیتی ہے۔بچےmicrocephaly کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کا سر چھوٹا رہ جاتاہے۔ برازیل میں اب تک 270 سے زاید بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایبولا کی طرح ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو لاطینی امریکا کے ممالک سفر سے گریز کرنا چاہیے۔ زکا وائرس صرف ایک ہفتے تک جسم میں رہتا ہے ۔اس کے بعد ختم ہوجاتاہے۔لیکن اس کے پھیلاو سے عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو بہت تشویش ہے۔اس کی کوئی ویکسین تو موجود نہیں اس لئے احتیاط ہی میں اس کا علاج ہے۔خاص طور پر حاملہ خواتین کو ان علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنا چاہیے جہاں زکا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias

    View the full article
  5. ADMIN
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ تیل پیدا کرنے والے ملک لرز اٹھے ہیں انکی معیشتیں کانپ رہی ہیں کیونکہ انکا سیال سونا یعنی تیل تیزی سے اپنی قدرو قیمت کھوتا جا رہا ہے کبھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بِکنے والا تیل اب 30 ڈالر میں دستیاب ہے جو کہ گزشتہ 12 برس کی سب سے کمترین قیمتوں کی بازگشت ہے ،،، یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ یہی رجحان جاری رہا تو چند ہی ہفتوں میں ایک بیرل تیل 20 ڈالر میں دستیاب ہوگا ۔۔۔ کیونکہ تیل سستا ہونے کی وجہ سے مال بردار جہازوں کے کرائے بھی کم ہوتے چلے جارہے ہیں اسلیئے شپنگ انڈسٹری بھی شدید دباؤ میں آچکی ہے اور ابتک تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مال برداری کے کرایوں میں 40 فیصد سے زائد کمی آچکی ہے اور اس وجہ سے ان دنوں دنیا بھر میں سستے درآمدی اجناس اشیاء اور خام مال کی بہاریں لگی ہوئی ہیں اور اسی سبب درآمدی خام مال اور ان سے بننے والی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ بھی مسلسل جاری ہے - یہ تو سب مگر دنیا کے دیگر ممالک میں ہورہا ہے لیکن جہانتک پاکستان کا معاملہ ہے تو یہاں ایسا کچھ بھی نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہماری درآمدات ہماری برآمدات کی نسبت بہت زیادہ ہیں اب یہی مثال لے لیجیئے کہ خوردنی تیل کی سب سے زیادہ پیداوار ملائیشیا میں ہے اور وہاں سے جو بھی ممالک خوردنی تیل منگواتےہیں وہاں کرائے کم ہونے کے باعث خوردنی تیل کی قیمتیں کافی نیچے آچکی ہیں لیکن پاکستان میں خوردنی تیل کا نرخنامہ اب بھی جوں کا توں ہے اور اس کام سے منسلک صنعتکار عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہیں اور ایسا ہی دیگر برآمدات سے جڑی صنعتوں کا معاملہ ہے اور ایسا صرف اسلیئے ہے کیونکہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے گو کہنے کو یہاں پرائس کمیشن بھی ہے کنزیومر کونسل بھی ہے ہر صوبے کے وزیراعلیٰ کے زیرانتظام ایک نام نہاد شکایتی مرکز یا کمپلینٹ سیل بھی قائم ہے لیکن یہ محض نمائشی معاملات ہیں عملی طور پہ عوام کے درد کا مداوا کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور وہ بدحال سے بدحال تر اور صنعتکار خوشحال سے خوشحال تر ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن اس گرانی کی سرگرانی کے عالم میں بھی ہمارے محترم وزیراعظم کی غفلت اور عام آدمی کے حالات سے بیخبری کا یہ عالم ہے کہ ایک بیان میں انہوں نے آلو کی قیمت پانچ روپے فی کلو بتا ڈالی ،،، لیکن وہ جگہ نہ بتائی کہ جہاں اس ارزاں ترین قیمت پہ آلو دستیاب ہے ،،، یہ ٹھیک ہے کہ ان دنوں آلو کی قیمتیں کم ہوکر 20 سے 30 روپے کلو کے آس پاس ہیں لیکن 5 روپے تو کہیں بھی نہیں ہیں - یہاں یہ بھی واضح کردیا جانا ضروری ہے کہ غذائی اجناس میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ تو معمول کی بات ہے کیونکہ نئی فصل آتے ہی رسد اور طلب کا تناسب بدل جاتا ہے اور چونکہ یہ اشیاء زیادہ دیر محفوظ بھی نہیں کی جاسکتیں لہٰذا انکی قیمتوں پر اسٹاک کی صورتحال کا فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے لیکن کسی ملک میں قیمتوں پہ حکومتی کنٹرول کو ان اشیاء کے حوالے سے جانچا جاتا ہے کہ جنہیں طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے کہ انکی ذخیرہ اندوزی کو حکومت کیسے روکتی ہے اور ناجائز منافع خوری کے امکانات کا انسداد کیسے کرتی ہے اور اس حوالے سے ہماری مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی نہایت مایوس کن ہے بلکہ مطلق مفقود ہے برسرزمین حقائق یہ ہیں کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو ملنے کے بجائے برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور حکومت کو مل رہا ہے اور مہنگائی میں کوئی خاص کمی ابتک دیکھنے میں نہیں آئی اور اب بھی عوام کی اکثریت کو حسب سابق مہنگائی کی عفریت نے اپنے دیوہیکل شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہ بدستور مفلسی و بدحالی کی مہیب آگ میں جل رہے ہیں لیکن انکا پرسان حال کوئی نہیں ،،، اس معاملے میں تو لگتا ہے کہ اپوزیشن نے بھی حکومت اور سرمایہ داروں سے مک مکا کرلیا ہے کیونکہ وہ بھی زبانی جمع خرچ سے آگے کچھ کرنے پہ آمادہ دکھائی نہیں دیتی ،،، یقین کامل ہے کہ نیلی چھتری والا اپنی مخلوق کو بے آسرا نہیں چھوڑے گا اور ان لوگوں پہ زمین تنگ کردی جائیگی کہ جو اسکی بہترین تخلیق یعنی انسان کا جینا دوبھر کررہے ہیں اور انکی کی زندگیوں سے دن رات آسائشیں اور راحتیں چھین چھین کر اپنے گھروں اور زندگیوں میں بھررہے ہیں

    View the full article
  6. ADMIN
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اس ملک کے بڑے عہدے شاید بڑے اس لیئے کہے جاتے ہیں کہ انہیں بروقت چھوڑنے کیلیئے بڑے دل اور بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے اور جنرل شریف اس لحاظ سے اپنے بڑے عہدے سے بھی بڑے ثابت ہوئے کہ انہوں نے تقریباً ایک برس قبل ہی یہ واضح بیان دیدیا ہے کہ وہ اس برس 29نومبر کو اپنے منصب کی تین سالہ آئینی مدت پوری ہونے پہ ریٹائر ہوجائینگے اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں توسیع بھی قبول نہیں کرینگے اور باضابطہ طور پہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان سے ان تمام قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے کہ جو انکے منصب میں توسیع کے حوالے سے ہر طرف گردش میں تھیں ،،، پاکستانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ،، گو اس سے قبل جنرل اسلم بیگ اور وحید کاکڑ بھی اپنے اپنے وقت پہ سبکدوش ہوگئے تھے اور جہانگیر کرامت نے تو وزیراعظم نواز شریف سے ایک ممکنہ تنازع سے بچنے کیلیئے وقت سے تین ماہ پہلے ہی گھر چلے جانے کو از خود ترجیح دیکر سب کو حیران کردیا تھا ،،، لیکن پھر بھی یہ بہت بڑا فیصلہ ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہ روایت ہمارے وطن میں مستحکم نہیں ہے اور 4 آرمی چیفس نے تو وقت پہ ریٹائرمنٹ تو دور ، آئینی حکومتوں کا بستر بوریا گول کرکے اور راج پاٹ سنبھال کر اپنی مدت ملازمت کا ٹنٹا ہی ختم کردیا تھا اوپر بیان کردہ پاکستانی تاریخ کے حقائق کی روشنی میں آرمی کے سربراہ کا منصب اس لیئے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی مدت ملازمت کو بڑھانے یا نہ بڑھانے کے معاملے کی جانب سارے ملک کی نظریں لگی رہتی ہیں جبکہ چند چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھر میں یہ بڑی عام سی بات ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں تو بالخصوص اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں کہ کسی آئینی عہدیدار کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے جبکہ وہاں فوجی سربراہان کو تو حالت جنگ میں بھی سبکدوش اور تبدیل کیئے جانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ چلن مطلق نہیں ہے - تاہم ایک بات یہ بھی ہوئی ہے کہ چند لوگوں کو جنرل راحیل کے اس بیان سے بہت طمانیت نصیب ہوئی جن میں سابق صدر آصف زرداری کا نام سب سے نمایاں ہے کیونکہ فوج کی جانب سے رینجرز کے جاری آپریشن میں کرپشن کے معاملات کی چھان بین پہ وہ شدید برہم بتائے جاتے تھے اور اس ضمن انکی گھبراہٹ اور پریشانی کا عالم یہ تھا کہ 4 اپریل کو بھٹو کی برسی کے موقع پہ انہوں نے گڑھی خدا بخش میں اپنے خطاب میں ایک انتہائی جارحانہ تقریر کی تھی جس میں کھل کھلا کر فوج کے سربراہ کو موضوع سخن بناتے ہوئے بہت سے طنزیہ و تنقیدی کلمات کہ ڈالے تھے اور یہ بالالتزام یہ بھی فرمایا تھا کہ ہمیں تو ہمیشہ رہنا ہے اور آپکو چلے جانا ہے ،،، اس پہ فوج کی جانب سے بہت نپا تلا ردعمل دیکھنے میں آیا لیکن زرداری صاحب ممکنہ شدید خطرات کو بھانپ کر دبئی میں جابیٹھے اور پارٹی رہنماؤں کے اجلاس بھی وہیں منعقد کررہے ہیں جس سے اب انکی اخلاقی جرآت اور سیاسی بصیرت پہ متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں جہانتک دیگر سیاسی رہنماؤں کا تعلق ہے تو تقریباً سبھی نے راحیل شریف کے اس بیان کا خیرمقدم کیا اور اسے بہت خوش آئند فیصلہ قرار دیا ہے اور بظاہر یہ اطمینان اصول و قانون کے پہلو سے کم اور ایک ممکنہ مارشل لا کے وسوسوں کے معدوم ہوجانے کے لحاظ سے زیادہ نسبت رکھتا ہے ،،، جنرل صاحب کے اس بیان سے درحقیقت اندر خانے وزیراعظم کو بھی بہت سکون ملا ہے کیونکہ ملک کے اندر اور باہر ہر طرف جنرل صاحب کے اچھے اقدامات کی جے جے کار اور اسکے ممکنہ نتائج سے وابستہ خدشات نے انہیں یقینی طور پہ حد درجہ مضطرب کررکھا تھا اور اب اس فیصلے سے انکے سر پہ مبینہ طور پہ خطرے کی لٹکتی ہوئی تلوار کا نیام میں جانا خاصی حد تک یقینی ہوگیا ہے - تاہم چند محب وطن افراد کے نزدیک یہاًں اس معاملے سے جڑا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ ایک تشویش پہ مبنی ہے جو کہ خاصی غور طلب ہے اور وہ یہ ہے کہ جنرل صاحب نے قریباً ایک سال قبل ہی اپنی سبکدوشی کا جوواضح عندیہ دیدیا ہے تو کہیں اس سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں کمزوری نہ آجائے کیونکہ بدقسمتی سے یہ اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آپریشن سے جڑے ارباب اختیار تاخیری حربوں کی راہ نہ اختیار کرلیں اور نئے آرمی چیف کی تقرری تک ، مبادا معاملات کو لٹکا کر وقت گزاری کی طرف مائل نہ ہوجائیں - پاکستان میں روایتی طور پہ بیوروکریسی کا طرزعمل ڈھلتے سورج کی طرف پشت کرنے اور چڑھتے سورج کی پوجا کا ہی چلا آرہا ہے اور یہی طبقہ پاکستان کے حقیقی حکمرانوں کا طبقہ ہے -ان برسر زمین حقائق کی روشنی میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سے ملازمت میں توسیع نہ لینے کا یہ فیصلہ خاصا قبل از وقت ہے ۔۔۔ لیکن بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوگیا ،،،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نشاندہی کیئے گئے خدشات کی جانب بھی بھرپور توجہ دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جنرل راحیل کے اس اعلان کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن میں کسی طرح کی کمزوری آنے کے امکان کو یکسر ختم کردیا جائے اور میڈیا و سول سوسائٹی اب سے حکومت اور بیوروکریسی پہ سخت احتسابی و تادیبی نظر رکھیں ورنہ جنرل صاحب کا یہ احسن فیصلہ خدانخواستہ اچھے برگ و بار لانے کا سبب نہیں بن سکے گا-
     
    View the full article
     
  7. ADMIN
    ... جویریہ صدیق ... ملک کے بالائی اور میدانی علاقے اس وقت شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں۔بعض اوقات دھند کے باعث حد نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے۔اس وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوجاتے ہیں۔خاص طور پر ٹریفک کی روانی اس سے شدید متاثر ہوتی ہے۔دھند کے باعث ٹریفک حادثات کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔اس لئے دھند میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں اگر باہر جانا بہت ضروری ہو تو ان چیزوں کا خیال کریں۔ 1)موسم صاف ہونے کا انتظار کریں اگر آپ کہیں جارہے ہیں اور اچانک موسم تبدیل ہوجائے تو سروس اسٹیشن یا پارکنگ ایریا میں رک کر دھند کے چھٹنے کا انتظار کریں۔ 2) لو بیم کا استعمال کریں دھند میں گاڑی چلاتے وقت ہائی بیم کا استعمال نا کریں۔دھند میں گاڑی لو بیم پر چلائیں۔ 3)گاڑی کی رفتار کم رکھیں گاڑی کی رفتار مدھم رکھیں تیز رفتاری سے اجتناب کریں۔تیز رفتاری حادثات کا سبب بنتی ہے۔ 4)موبائیل کا استعمال نا کریں گاڑی چلاتے وقت موبائل فون پر بات نا کریں اپنی نظر اور فوکس سڑک پر رکھیں۔ 5)لین میں رہیں اپنی لین میں رہیں اور سڑک پر لائین پر نظر رکھیں۔ 6) سیٹ بلیٹ کا استعمال کرہیں بیلٹ کو لازمی باندھیں کیونکہ حادثے کی صورت میں بیلٹ آپ کو زخمی ہونے سے بچاتا ہے۔ 7)فوگ لائٹ استعمال کریں دھند کی صورت میں فوگ لائٹ کا استعمال کریں۔ 8)کار کے شیشے صاف رکھیں دوران ڈرائیونگ گاڑی کے شیشے صاف رکھیں۔ 9)اورٹیک سے پرہیز کریں کسی بھی تیز رفتار والی گاڑی کا پیچھا نا کریں گاڑی کی رفتار کم رکھیں۔اور ٹیک سے پرہیز کریں۔ 10) موسم کے حال سے واقف رہیں گھر سے نکلتے وقت محمکہ موسمیات کی ویب سائٹ اور ٹریفک پولیس کے ریڈیو پر موسم کی اپ ڈیٹ سن لیں اس کے بعد سفر کریں۔ 11)دیگر گاڑیوں سے فاصلہ رکھیں دھند میں اپنی گاڑی سے آگے اور پیچھے آنے والی گاڑی سے فاصلہ رکھیں۔ 12) ڈی فارسٹر اور ونڈ وائپر کا استعمال دھند کی وجہ سے شیشوں پر نمی آجاتی ہے اس لئے ڈی فارسٹر اور ونڈ شیلڈ وائپر کا استعمال کریں۔ 13)سفر میں وقفہ دیں اگر دھند کے باعث بلکل گاڑی چلنا مشکل ہوجائے تو گاڑی کو سائیڈ پر پارک کرلیں اور لائٹس آن رکھِیں تاکہ کوِئی گاڑی آپ کی گاڑی سے ٹکرا نا جائے۔ 14) ہیٹر آن رکھیں گاڑی کا ہیٹر آن رکھیں تاکہ گاڑی کے اندر نمی جمع نا ہو ۔ 15) الرٹ رہیں گاڑی کا شیشہ تھوڑا سا کھول لیں تاکہ آپ نے ارداگرد آوازیں سن سکیں ۔ 16)موٹر سائیکل سوار، سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کا خاص خیال کریں۔ان سے مناسب فاصلہ رکھیں اور انہیں جگہ دیں۔ آپ کی زرا سی غفلت بعد بہت بھاری ثابت ہوسکتی ہے۔محتاط ہوکر ڈرائیونگ کریں ۔منزل مقصود پر کبھی نا پہنچنے سے بہتر ہے کہ دیر سے پہنچ جائیں . Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias
     
    View the full article
     
  8. ADMIN
    ... جویریہ صدیق ۔۔۔۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا دورہ سعودیہ عرب اور ایران بہت اہمیت کا حامل ہے۔یہ دورہ ایران اور سعودیہ عرب کے مابین بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔اس امن مشن کےدوران وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف مصالحت کے لئے مختلف تجاویز دونوں ممالک کے آگے رکھیں گے۔ سفارتی حلقے اس دورے کو بہت اہم قرار دئے رہے ہیں۔دو بڑے اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کسی طور پر بھی امہ کے حق میں نہیں ہے۔دوسرا اس کشیدگی کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ بات چیت کے ذریعے سے مسائل کو حل کیا جائے۔اس موقعے پر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کا ایک پیج پر ہونا بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ ۔مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال سے امت مسلمہ میں نفاق پیدا ہوا رہا ہے اس موقعے پر پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امن و آشتی کی طرف پہلا قدم ہے۔دورے کے پہلے حصے میں وزیر اعظم نوازشریف اور جنرل راحیل نے سعودیہ عرب کے فرمانروا شاہ سلیمان سے ملاقات کی۔آج ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرکے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر بھی یوزرز نے اس مصالحتی دورے کا خیر مقدم کیا.ایم پی اے حنا بٹ نے ٹویٹ کیا دونوں شریف پیس مشن پر ہیں۔ایم این اے مائزہ حمید نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور راحیل شریف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ صحافی وسیم عباسی نےٹویٹ کیا یہ ایک بہترین اقدام ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے ہم امت مسلمہ کے خیر خواہ ہیں اور نیوٹرل ہیں دوسری طرف سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس دورے کو سراہتے رہے ۔مریم مصطفی نے ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم نوازشریف اسلامی ممالک میں امن کے خواہاں ہیں جس کے لئے وہ بہت سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔عثمان دانش نے ٹویٹ کیا دونوں شریفوں کی امن کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔شہزادہ مسعود نے ٹویٹ کیا عالم اسلام میں امن اور یکجہتی کے لئے ایک اچھا قدم ہے اللہ اس نیک کام میں وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کو کامیابی دے۔ مبشر اکرم نے ٹویٹ کیا پاکستان مسلم ممالک کے حوالے سے جدید ڈپلومیسی رکھتا ہے پاکستان کی ضمانت پر یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔عاطف متین انصاری نے ٹویٹ کیا اس دورے سے پاکستان مخالف قوتوں کا خواب چکنا چور ہوگیا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگ میں جھونکا جاسکتاہے۔سول حکومت کےتدبر اور فوج کی عسکری قوت سے پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ۔محمد عثمان نے ٹویٹ کیا انشاء اللہ پاکستان کی کوششوں سے ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔جون ایلیا نے ٹویٹ کیا وقتی طور پر ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی ختم ہوجائے گی ۔ شہریار علی نے ٹویٹ کیا انشاءاللہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا مشترکہ دورہ ایران سعودیہ سود مند ثابت ہوگا۔عرفان علی نے ٹویٹ کیا پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اسلام کا قلعہ ہے۔ہینڈسم منڈا نے ٹویٹ کیا یہ ایک اچھا قدم ہے ایران اور سعودیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں ان کے درمیان کشیدگی پاکستان پر اثرانداز ہوگی۔عبد الخالق نے فیس بک پر پوسٹ کیا مجھے امید ہے اور میں خداکے حضوردعاگو ہوں کہ وہ وزیراعظم اورآرمی چیف کے سعودی عرب اورایران کے اس دورے کو کامیاب بنائے ، دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کاخاتمہ ہو، برادرانہ تعلقات قائم ہوں اورمشرق وسطیٰ میں پوری دنیا میں دیرپا امن واستحکام قائم ہو آمین جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔

    View the full article
  9. ADMIN
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ ویسے یوں تو پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی سے سے عالم اسلام کے بحران مسلسل بڑھتے جارہے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد سے تو گویا بحرنوں کا سیلاب سا امنڈ آیا ہے ،،، کبھی عراق پہ امریکا کی جارحانہ افتاد تو کبھی افغانستان میں نیٹو افواج کی یلغار ،، پھر بشار الاسد کے شام کی خانہ جنگی میں ہونے والی مارا ماری اور لیبیا کے بے سمت و بے مہار اونٹ کے خونی شتر غمزے ،، ساتھ ہی کبھی صومالیہ و چاڈ میں خانہ جنگی تو کبھی نائجیریا کے بوکو حرام کی جدال و قتال ۔۔۔ القاعدہ ، الناصرہ اور حزب اللہ کی کارروائیوں سے عالم اسلام کیا کم لہورنگ ہوا تھا کہ یکایک داعش بھی جنم لیتے ہی خونریزیوں کی اس داستان کو مزید سنگین کرنے کیلیئے کود پڑی ،،، الغرض عالم اسلام کو چاروں طرف سے مہیب بحرانوں نے گھیر لیا تھا اور لگتا تھا کہ شاید اب یہ سب خونریزیاں عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلیئے تازیانہ بن جائیں ،،، مگر ہوا کچھ اور ،، اچانک ہی سعودی عرب اور ایران الجھ پڑے اور امن کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں کیونکہ یہ دونوں ممالک تو اس خطے کے بڑے چودہری ہیں ۔۔۔ ایران سعودی تنازع کیا ہے کیا نہیں ہے یہاں اسکا تجزیہ کرنا مقصود نہیں کیونکہ اسکی اپنی اک پرانی تاریخ ہے اور دونوں کے پاس اپنے حق میں کہنے کیلیئے بہت کچھ ہے ،، اور اسکا یہ وقت بھی نہیں ہے کیونکہ انکے درمیان فوجی سطح پہ الجھ پڑنے کےامکانات بہت بڑھ گئے ہیں تاہم یہ کہے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ دونوں ہی ممالک کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ انکے رویئے اور اقدامات کے مشرق وسطیٰ ہی نہیں تمام عالم اسلام پہ بہت شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں لہٰذا انکے درمیان حالیہ تنازع کو اگر ختم نہیں تو ممکنہ حد تک کم کیا جانا ازحد ضروری ہے اور وقت کے اسی اہم تقاضے کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا ڈوال ڈالنے پہ کمر کسی ہے اور اس ضمن میں انہں نے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کا رخ کیا ہے - راحیل شریف اور راحیل شریف کا یہ اہم اقدام نہایت لائق ستائش ہے اور اس حقیقت کا مظہر بھی کہ اب اگر تمامتر نہیں تو کئی اہم معاملات پہ سول اور فوجی قیادتیں ایک پیج پہ آچکی ہیں اور انکے درمیان یہ ہم آہنگی کئی اہم قومی امور پہ بھی معاملات کو بہتر بنانے کی مد میں بہت ممد و معاون ہوگی وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ثالثی اقدام کی کامیابی کے امکانات کی بابت بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جن میں سب سے بڑا تو یہ ہے کہ کیا اسکی کوششوں کو شرف قبولیت بھی مل پائے گا یا پھر دونوں جانب یا کسی ایک جانب سے اسکو ہری جھنڈی دکھادی جائیگی تو یہاں یہ سمجھا جانا بھی بیحد ضروری ہے کہ یقینناً اس ضمن میں پہلے کافی ہوم ورک کرلیا گیا ہوگا اور اندر خانے بیک ڈور ڈپلومیسی بالضرور بروئے کار لائی گئی ہوگی اور دونوں جانب سے خیرمقدمی ''گرین سگنل'' ملنے کے بعد ہی معاملات کا یہ رخ بنا ہوگا کہ دونوں اہم ترین پاکستانی اکابرین نے ثالثی کے اس سفر کیلیئے پاؤں باہر نکالے ہیں - درحقیقت اس وقت خطے کے یہ دونوں ممالک آپس میں کسی قسم کا براہ راست تصادم خود بھی نہیں چاہتے کیونکہ دونوں کو تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور اسکے نتیجے میں زوال پزیر معیشت کے آسیب نے بری طرح جکڑ رکھا ہے اور امن دونوں ہی کی لازمی ضرورت ہے ان دونوں ممالک نے گزشتہ ہفتے ایکدوسرے کے خلاف جو تلخ بیانات دیئے تھے اب انکی شدت میں کمی آگئی ہے کیونکہ دونوں ہی رفتہ رفتہ جذبات کے بجائے حقائق کی دنیا میں واپس آتے جارہے ہیں اس وقت انکو ضرورت تھی تو کسی ایسے قابل بھروسہ ملک کی کہ جو دونوں کیلیئے قابل قبول ہو اور وہ آگے بڑھکر انکے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کی راہ ہموار کردے اور یہ ضرورت پاکستان کی شکل میں پوری ہوتی نظر بھی آرہی ہے کیونکہ پاکستان خواہ وسائل میں کتنا ہی کم سہی لیکن اسکی عسکری و جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے اور دونوں ممالک سے اسکے تعلقات کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے یہاں آخر میں یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں او آئی سی کو بھی حقیقی طور پہ متحرک کرے اور اس سلسلے میں اسکے کردار کو بھی درمیان میں لائے ورنہ پھر یہ او آئی سی بھلا کس مرض کی دوا ہے ،، اسکے ساتھ ساتھ ثالثی کے اس عمل میں کم از کم دو اور ممالک کو بھی شامل کیا جائے کہ جن پہ یہ دونوں ممالک متفق ہوسکتے ہوں تاکہ کسی فریق کا بعد میں طے شدہ امور پہ آسانی سے دائیں بائیں ہونا ممکن ہی نہ رہے- یہ ثالثی اور بھی موثر اور بامعنی ہوسکتی ہے کہ جب اس میں فریقین ک یرضامندی سے چین کو بھی شریک کرلیا جائے کیونکہ امریکا کے بعد چین ہی وہ دوسری طاقت ہے کہ جسکی وجہ سے فریقین اپنے معاہدے کی پاسداری پہ مجبور و پابند ہوسکتے ہیں اور چونکہ چین کے کبھی کوئی توسیع پسندانہ عزائم رہے بھی نہیں چنانچہ اس میں بظاہر حقیقی خطرہ بھی کوئی نہیں ہے .

    View the full article
  10. ADMIN
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ وطن عزیز یوں تو متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے کہ جو درحقیقت کئی مسائل کی جڑ ہے اور وہ ہے قانون کا اطلاق صرف غریبوں اور کمزوروں پہ کیا جانا ،،،، اس مسئلے کی بنیاد دراصل معاشرتی اونچ نیچ یہ مبنی وہ رویہ ہے کہ جسکے تحت آبادی کے محروم طبقات کو شرف انسانی دیئے جانے کے لائق ہی نہیں سمجھا جاتا البتہ کسی بھی معمولی غلطی پہ بڑی مستعدی سے انکی گردن ناپ لی جاتی ہے اور قانون کا پوری شدت سے اطلاق کرڈالا جاتا ہے اور بالا دست طبقات کے ہر جرم کی طرف سے نہ صرف آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں بلکہ کسی مرحلے پہ انکا جرم کھل جانے پہ ہردور میں حکومتیں انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے میں بہت چوکسی دکھاتی ہیں ،،، بد قسمتی سے یہ وہ طرز عمل ہے جو کے آزادی کے چند ہی برس بعد سے ہمارے حکمرانوں کا شعار بن گیا تھا اور اب بھی کسی نہ کسی طور سرکاری معاملات میں جلوہ فرما دکھائی دیتا ہے لیکن ایک اچھی اور حیرت انگیز خبر شہباز شریف صاحب کے حوالے سے ہمیں سننے کو ملی ہے تو اؤل تو ہمیں یقین ہی نہیں آرہا اور دوسرے اگر یہ درست ہے تو ہمیں حیرانی ہے کہ آخر اسکی قومی سطح پہ کوئی تحسین سننے اور دیکھنے کو کیوں نہیں ملی ،،،؟ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چند برس قبل جبکہ لاہور کے زیر تعمیر رنگ روڈ کے کام کے معاملے میں اس وقت کھنڈت ڈال دی تھی کہ جب اسکے معیار کو مقررہ پیمانوں سے کہیں کم اورناقص پایا تھا ،،، اس سے قبل متعلقہ کنٹریکٹر کامران کیانی کو انہوں نے اس بارے میں دوبار وارننگ بھی دی تھی لیکن وہ موصوف اس تڑی کو خاطر میں اسلیئے نہیں لائی تھے کیونکہ وہ اس وقت کے برسرمنصب آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے بھائی تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ خواہ کیسی ہی اندھی مچائیں کوئی انکا ہاتھ نہیں روک سکتا کیونکہ وہ طاقت و اختیار کی ایک بہت بڑی علامت سے نہایت قریبی خونی رشتے میں منسلک تھے اوریہ وہ حقیقت ہے کہ جسے وطن عزیز میں روایتی طور پہ اب تک ''آخری دلیل'' سمجھ کر چپ سادھنے ہی میں عافیت سمجھی جاتی رہی ہے ،،، وہ چاہتے تو اس خوفناک حقیقت کے سامنے یہ کہکر اپنی جان چھڑا سکتے تھے کہ یہ ٹھیکہ ان سے پہلے والی پنجاب حکومت کے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے دیا تھا اور وہ اس ''گناہ'' کے ذمہ دار نہیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ یہ کرتے کہ بڑے کیانی صاحب کی سبکدوشی کے بعد اس ناقص سڑک کو پرویز الہٰی کو طعنے مارنے اور بدنام کرنے کیلیئے اپنی انتخابی اشتہاری مہم کا حصہ بنا ڈالتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کسی خوف کے آگے ڈھیر ہونے کے بجائے انہوں نے وہ ہی کیا جو انہیں کرنا چاہیئے تھا یعنی اس ٹھیکے کو منسوخ کرکے ایک کھلے مقابلے کے تحت ایک ذمہ دار اور اچھی ساکھ والے ادارے کو یہ کام سونپ دیا کہ جسنے واقعی اچھا اور معیاری کام کرکے اپنے نام اور ساکھ کی لاج رکھی اور اگر یہخبر درست ہے تو پھر شہباز شریف اس ایماندارانہ طرزعمل کیلیئے بجا طور پہ نہایت تعریف اور سائش کے مستحق ہیں یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اکیلے شہباز شریف ہی نہیں جنرل کیانی بھی لائق توصیف ہیں کہ انہوں ماضی کی روایتوں کے برعکس کسی غلط کار کا جو کہ خواہ انکا سگا بھائی ہی کیوں نہ تھا تو اسکا ساتھ دینا گوارا نہ کیا اور اپنی طاقت و اختیار کی قوت کو شہباز شریف کے اس سخت فیصلے کی راہ میں مزاحم ہونے نہ دیا اور کسی دوسرے کنٹریکٹر کیلیئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ یہ ٹھیکہ لے سکے اور صحیح سڑک کی تعمیر خوش اسلوبی سے مکمل کرسکے ۔۔۔ ترقی یافتہ ممالک کے پیمانے سے دیکھا جائے تو ان دونوں شخصیات نے کوئی ایسا بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا کیونکہ یہ انکے فرائض کا حصہ تھا اور مغربی ممالک میں یہ چلن نرالانہیں بلکہ ایسا نہ ہونا غیرمعمولی بات ہے لیکن یہاں ہمارے وطن کی نسبت سے یہ فی الواقع ایک بہت بڑی بات ہے جو کہ نہایت پزیرائی کے قابل ہے ،،، لیکن لگتا یوں ہے کہ ہم رفتہ رفتہ یا تو اچھے کاموں کو سراہنے کے ہنر سے ہی محروم ہوتے جارہے ہیں یا پھر اس امر سے ڈرنے لگے ہیں کہ ہمیں ''جانبدار'' نہ سمجھ لیا جائے ،، اور یہ دونوں ہی وجہیں قومی بہبود کی راہ میں نہایت تشویش کی باتیں ہیں ۔۔۔ اہل صحافت ہوں یا عام عوام ہم جہاں برے کاموں پہ تنقید میں مستعدی دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں‌ وہاں اچھے کاموں کو سراہنے میں بھی سرگرمی دکھانی چاہیئے،،، حق بحقدار رسید اسی کو کہتے ہیں

    View the full article
  11. ADMIN
    ۔۔۔ جویریہ صدیق ۔۔۔۔ نمونیا پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری ہے۔عام طور پر بچے اور عمر رسیدہ افراداس بیماری کاشکار ہوتے ہیں۔یہ فنگس بیکٹریا اور وائرس کے سبب پھیلتا ہے۔ انسان کے پھیپھڑے میں alveoli ducts میں ہوا بھرتی ہے لیکن اگر انسان نمونیا کے جراثیم کا شکار ہوجائے تو alveoli پس سے بھر جاتی ہے۔جس کے باعث انسان کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے ۔نمونیا کی اہم علامات کچھ یوں ہیں۔کھانسی کا ہونا،سانس کی بے ترتیبی اور سانس کا تیزچلنا،بخار،سانس باہر نکالتے وقت آواز کا پیدا ہونا،قے،دل کی دھڑکن کاتیز ہونا،کپکپی، سینے میں درد اور پسلیوں کا چلنا اگر بچے میں یہ علامات دیکھیں تو فوری طور پر اسے ہسپتال لئےکرجائیں۔ بچہ اگر شیرخوار ہے تواس بچے کو نمونیا کے دوران دودھ پینے اور نگلنے میں دشواری ہوگی ۔ان بچوں میں نمونیا کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے جو غذائی قلت کا شکار ہوں اور جنہوں نے ماں کا دودھ نا پیا ہو۔اس کے ساتھ ساتھ غربت ،ماحولیاتی آلودگی، پر ہجوم طرز رہائش اورتمباکونوشی بھی اس کےہونےکےامکان کو بڑھا دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015 میں 9 لاکھ 22 ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کہ منہ میں گئے۔ان میں سے زیادہ تر بچے 5 سال کی عمر سے کم تھے۔اس بیماری کا زیادہ شکار جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بچے ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال 80 ہزار سے زائد بچے نمونیہ کا شکار ہوکر انتقال کرجاتے ہیں۔ نمونیا کا علاج موجود ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ذریعے سے اسے کنٹرول کیا جاتاہے۔لیکن اگر بچے کی صحت کی حالت تسلی بخش نا ہو اس کو ہسپتال داخل کرلیا جاتا ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ کھانسی اور بخار کم کرنے کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔ادویات کے ساتھ اس کی غذا جاری رکھی جاتی ہے اور اگر بچہ شیر خوار ہے تو ماں کا دودھ اسے وقفے وقفے سے دیا جائے۔ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔بچہ اگر چھ ماہ سے اوپر ہو تو اس کو سوپ یا یخنی،شہد یا کم پتی والی چائے دی جائے یہ بھی بچے کے گلے کو سکون پہنچاتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروالیا جائے تو یہ بچے کو نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں معاون ہے۔اس کے ساتھ ماں بچے کے کام کرتے ہوئے ہاتھ ضرور دھوئے اس سے بھی نمونیا کے امکان کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ماں کا دودھ کم از چھ ماہ تک ہر بچے کا حق ہے اور ماں کا دودھ نمونیا بیماری کے امکان کو کم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ بچے کے اردگرد ماحول کو صاف ہونا چاہیے ۔والدین بچے کے قریب تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔بچے کے قریب جانور نہیں ہونے چاہیں۔ماں بچے کی چھاتی کا خود بھی معائنہ کرسکتی ہے جس وقت بچہ سو رہا ہو۔اگر بچے کی سانسیں تیز ہوں تو اس کو فوری طور پر ڈاکٹر کو دیکھا جائے۔ نمونیا بیماری میں 65 سے اوپر کے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں خطرے کی زد میں زیادہ وہ آتے ہیں جو فالج ،کینسر،شوگر ،سیربل پالسی اور ایڈز کا شکار ہوں۔اس کے ساتھ تمباکو نوشی،شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد بھی بڑھاپے میں اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5 لاکھ عمر رسیدہ افراد اس مرض کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔ اگر ضعیف افراد میں یہ علامات دیکھیں کہ دیکھیں کہ وہ کنفیوژن کا شکار ہے ، ان کا بلڈ پریشر گر رہا ہے،سانسیں بے ترتیب ہیں،بخار اور کھانسی ہے انہیں فوری طور پر ہسپتال شفٹ کریں۔ اگر اس کے علاج پر فوری توجہ نا دی جائے تو جراثیم خون میں پھیل سکتے ہیں ۔جس کی وجہ سے دوسرے اعضاء بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔اس لئے بروقت علاج سے قیمتی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ مریض کو مکمل آرام کروایا جائے ،بہت سارا پانی،سوپ اور یخنی دی جائے۔ادویات کو وقت پر دیا جائے اور مریض کو کورس مکمل کروایا جائے۔ہر عام انسان کو اس بیماری سے بچنے کے لئے ویکسین لگوانی چاہیے۔ جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔

    View the full article
  12. ADMIN
    ... جویریہ صدیق ۔۔۔۔ زلزلے زیر زمین ٹیکٹونک پیلٹس میں حرکت کی وجہ سے آتے ہیں۔ہماری زمین کی بالائی پرت مختلف پلیٹس پر کھڑی ہے۔زیر زمین میگما یعنی پگھلے ہوئے مادے سے ان پلیٹس میں حرکت ہوتی ہے اور ان پلیٹوں پر قائم ممالک میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔جس جگہ زلزلے کا اثر فوری طور پر ہوتا ہے وہ زلزلے کا مرکز ہوتی ہے۔یہاں سے ہی لہریں دیگر مقامات تک جاتی ہیں۔ پاکستان دو ہزار پانچ میں بدترین زلزلے کا شکار ہوا سات اعشاریہ چھ کی شدت سے آنے والے زلزلے سے کشمیر میں ہولناک تباہی آئی۔۷۵ ہزار سے افراد اس زلزلے میں ہلاک ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد زخمی۔اس کے بعد اکتوبر دو ہزار پندرہ میں ایک بار پھر سات اعشاریہ پانچ کا زلزلہ آیا جس کی شدت نے پاکستانیوں کو دو ہزار پانچ کی یاد دلا دی۔اس زلزلے کا مرکز افغانستان میں کوہ ہندہ کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ محمکہ موسمیات کے مطابق کسی بھی بڑے زلزلے کے بعد آفٹرشاکس ضرور آتے ہیں۔اس کے بعد کم شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔تاہم پچس دسمبر کو ایک بار پھر کوہ ہندوکش کے سلسلے سے زلزلے کے جھٹکے پاکستان تک محسوس کئے گئے اس کا شدت چھ اعشاریہ تین تھی اور اس تحریر کو مکمل کرتے ہوئے پاکستان میں ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا جس کی شدت پانچ اعشاریہ نو ہے۔ اس تمام صورتحال میں جب کوہ ہندوکش میں ٹیکٹونک پلیٹس متحرک ہوں تو فالٹ لائین پر قائم ممالک کے افراد کو زلزلے سے حفاظت کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر ضرور کرنی چاہیے۔زلزلوں کی پشین گوئی تو نہیں کی جاسکتی لیکن ماہرین کسی بھی ارضیاتی تبدیلیوں سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مزید زلزلے آسکتے ہیں۔لیکن کب کس وقت اور کہاں یہ نہیں بتایا جاسکتا۔ کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم زلزلے میں خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔قبل از وقت یہ اقدام کرلیں گھر کہ ایک حصے میں جو داخلی دورازے سے قریب ہو ایک بیگ میں فرسٹ ایڈ کٹ،پانی،نقدی،صابن اور خشک راشن رکھ لیں۔اس کے ساتھ ٹارچ،چارج بیٹری بھی رکھیں۔اگر زلزلے کی شدت سے آپ کو گھر سے باہر جانا پڑے تو اس بیگ کو لازمی ساتھ رکھیں ۔اپنے پرس میں اپنا شناختی کارڈ ، فون،اے ٹی ایم اورضروری نمبر ساتھ لکھ کر رکھ لیں۔ گھر میں تمام اشیاء جیسے ٹی وی ، فریج ،الماریوں ،فریمز اور فانوس وغیرہ کو اچھی طرح دیوار کے ساتھ فکس کروائیں تاکہ دوران زلزلہ یہ آپ نا گر جائیں۔تمام طرح کے ایسڈ جو فرش یا باتھ رومز کی صفائی میں کام آتے ہیں انہیں الماری کے سب سے نچلے خانے میں رکھیں۔تاکہ دوران زلزلہ یہ آپ پر نا گریں اور آگ لگنے کا سبب نا بن جائیں ۔ جیسے ہی زلزلے جھٹکے محسوس ہو تو چولھا یا ہیٹر فوری طور پر بند کردیں اور خود کو الماری فریج شیشے اور تصاویری فریم سے دور کرلیں۔اگر پاس کوئی میز یا سیڑھی ہے تو اس کے نیچے سر جھکا کر ہاتھ اس پر رکھ کر بیٹھ جائیں۔جب زلزلے کی شدت میں کمی ہو تو فوری تو پر عمارت سے نکل کر باہر آجائیں اگر گھر میں کوئی پالتو جانور ہے تو اس کو بھی ساتھ لِے کر نکلیں۔لیکن دیگر لوگوں سے اس کا فاصلہ رکھیں۔ کسی درخت، بورڈ یا کھمبے کے نیچے ہرگز نا کھڑے ہوں۔ اگر گھر میں کوئی دراڑ دیکھیں یا زلزلے کی شدت سے گھر یا عمارت کو کوئی نقصان بھی پہنچے تو فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں۔اس جگہ کو خالی کردیں۔ اگر سوتے ہوِئے زلزلہ محسوس ہو تو فوری طور پر سر کو تکیے سے ڈھانپ لیں۔جب تک جھٹکے رک نا جائیں چلنے بھاگنے سے پرہیز کریں۔اگر بجلی چلی جائے تو فون کی لائٹ یا ٹارچ کی مدد سےبا ہر جانے کا راستہ اختیار کریں۔اگر آپ کے ارداگرد بزرگ اور معذورافراد ہوں تو ان کی مدد کریں کیونکہ وہ اپنے مدد آپ کے تحت باہر نہیں جاسکتے۔ اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور زلزلہ آجائے تو فوری طور پر گاڑی روکیں اور اس سے نیچے اتر جائیں۔شور مچانے سے پرہیز کریں ۔زمین پر بیٹھ جائیں اور سر نیچا کرلیں ۔بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔دوران زلزلہ فلائی اور،انڈر پاس اور پل کراس کرنے سے پرہیز کریں۔زلزلہ ختم ہونے تک انتظار کریں۔اگر آپ سمندر کے قریب ہیں اور زلزلہ آجائےتو فوری طور پراونچی جگہ پرچڑھ جائیں تاکہ سونامی سےبچ سکیں۔ دوران زلزلہ اگر آپ کسی عمارت میں ہیں تو ہرگز بھی لفٹ کا استعمال نا کریں۔ہمیشہ سیڑھی سے نیچے آئیں۔اگر آپ زلزلےکے دوران کسی مال ، سیینما یا اسٹیڈیم میں موجود ہیں تو وہاں پر بیٹھ جائیں اور سر کو نیچے کر لیں ،یکدم مرکزی دروازے کی طرف جانے گریز کریں کیونکہ اس طرح آپ بھگدڑ میں پھنس سکتے ہیں۔ زلزلے کے دوران افواہوں پر یقین نا کریں نا ہی ان باتوں کو آگے پھیلائیں ۔اگر ٹی وی قریب نا ہو تو فون یا گاڑی میں ریڈیو آن کرکے حالات حاضرہ سے باخبر رہیں۔ زلزلہ ختم ہوجانے کے بعد اپنا جائزہ لیں اپنے ارداگرد لوگوں کو دیکھیں اگر کوئی زخمی ہے تو اس کو ابتدائی طبی امداد دیں اور ہسپتال منتقل کریں۔گھر یا دفتر میں چیک کریں کہ کوئی بجلی یا گیس پوائنٹ خراب تو نہیں ہوگیا۔ماچس جلانے سے پرہیز کریں۔کہیں پر پانی گیس کی لیکیج ہو تو متعلقہ محکمہ کے ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔ٹوٹے ہوئے کانچ اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔ان کو رپیئر کرنے کے لیے ماہر کو بلوایں۔ یہاں پر حکومت کا بھی فرض بنتا ہے وہ عوام الناس میں ان احتیاطی تدابیر کو عام کرے۔اس کے ساتھ انتظامیہ یہ دیکھے کہ سرکاری عمارت ،پل فلائی اور، سکولز اور ہسپتال کی تعمیر زلزلہ پروف کی جائے۔اسکے ساتھ ریلیف اور ریسکیو کے اداروں کو فعال کیا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری طور پر عوام کی مدد کی جائے۔ اس کے ساتھ سرکاری سطح پر ہر ضلع میں طلباء اور طالبات کو ابتدائی طبی امداد اور قدرتی آفات میں اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ٹرینگ کروائی جائے۔تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے میں لوگوں کی مدد کرسکیں۔سکول میں استاتذہ اور طالب علموں کی ٹرینگ کی جائےتاکہ وہ کسی بھی صورتحال کا سامنا کرسکیں۔ایسا مواد چھاپ کر عوام میں تقسیم کیا جائے جس کو پڑھ کر لوگ اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔چونکہ بہت سےلوگ ناخواندگی کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے ان کے لئے ریڈیو ٹیلی ویژن پر معلوماتی پیغام نشر کئے جائیں۔ جویریہ صدیق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ @javerias ان کا ٹویئٹر اکاونٹ ہے

    View the full article
  13. ADMIN
    ۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ قومی پریس و میڈیا کی اطلاعات کےمطابق 4 جنوری کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا تو کمیٹی کے تمام ارکان انگشت بدنداں رہ گئے کہ 2010 سے 2013 کے دوران سندھ پولیس نظام کی تبدیلی کی آڑ میں محکمے کے مالیاتی معاملات میں 2 ارب 87 کروڑ روپے کا خطیر گھپلا پایا گیا ہے ہرسال بجٹ میں خسارہ دکھانے والے اس صوبے کے مالیات کی یہ وہ ہوشرباء رقم ہے جو کہ مختلف ناجائز طریقوں سے ہڑپ کرلی گئی جبکہ سندھ پولیس 99 کروڑ روپے کا تو جھوٹا سچا کوئی حساب تک نہ پیش کرسکی ،،، اس شرمناک کارکردگی کے بعد یہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ عوام کے جان و مال محفوظ ہاتھوں میں ہیں جبکہ اسکی محافظ یعنی پولیس کے اہم منصبداروں نے تو خود اپنے ہی محکمے میں ڈاکا ڈالدیا ہے- یہ سپوت باہر کے چوروں کو کیا خاک پکڑیں گے کہ جب انہیں خود اپنے محکمے ہی میں ڈاکا زنی سے فرصت نہیں ہے،،، اور ڈاکا بھی ایسا کہ اربوں روپے کا ،،، جوکہ کوئی گھاگ سے گھاگ ڈاکوؤں کا گروہ بھی کبھی نہیں مارسکتا ،،، بلکہ لگتا یوں ہے کہ اب وہ بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو باکمال کرنے کیلیئے سندھ پولیس سے رابطہ کرنے پہ مجبور ہونگے تفنن برطرف ، یہ سفاکانہ و کثیر خورد برد اس حقیقت کے تناظر میں اور بھی افسوسناک ہوجاتی ہے کہ یہ اس غریب و مفلوک الحال قوم کی پولیس کے کرتوت ہیں کے جسکا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے اور جسکے ہر فرد پہ ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ غیرملکی قرضہ چڑھا ہوا ہے ،،،، لیکن یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ جسے میں بیان کیئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ یہ جو تین ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم ہڑپ کی گئی ہے یہ پولیس کے سارے محکمے نے ملکر نہیں کھائی ہے، اور اس سے عام پولیس اہلکار کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ یہ حضرات تو بے اختیار ہوتے ہیں اور بڑے فیصلوں اور اقدامات کی تاب نہیں رکھتے یہ تو صرف چند بڑے بڑے افسران نے ڈکاری ہے کیونکہ انکے ہاتھ پکڑنے والا بظاہر کوئی نہیں ،،، لیکن یہاں اربوں کے غبن ہورہے ہیں اور وہاں عام پولیس اہلکار کی ابتر معاشی حیثیت کی خبر لینے والا کوئی نہیں حالانکہ ہر طرح کے خطرناک معاملات و حالات میں یہی لوگ سامنے ہوتےہیں اور آئے دن اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہتےہیں جبکہ انکے افسران میں سے کئیوں نے تو اپنے دفتر سے ملحق کمروں میں راحت کدے سجارکھے ہیں اور یہ لوگ اپنے ان آرام دہ شبستانوں سے نکل کر عام عوام میں جانے اور امن و امان کے مسائل سے آگاہ ہونے کی زحمت یہ کبھی شاز ہی کرتے ہیں سندھ پولیس کے عام اہلکار کا یہ حال ہے کہ وہ اب بھی ایک باعزت زندگی گزارنے کے لائق نہیں بنایا گیا ہے اور اسکے اہلخانہ اب بھی مناسب علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہیں اور وہ کسی بہتر نجی ہسپتال میں علاج کرنے کی سکت نہیں رکھتے اسی طرح انکے بال بچوں کیلیئے تعلیمی سہولیات کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا ہے حالانکہ جب سنہ 2002 میں 1861 سے چلتے آرہے پرانے پولیس ایکٹ کو ختم کرکے نیا پولیس ریفارمز ایکٹ نافذ کیا گیا تھا تو اس میں قانونی ، تربیتی ، سماجی اور معاشی غرض ہر حوالے سے پولیس اہلکاران کی بہتری کے لیئے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال ان میں سے بیشتر منصوبے صرف کاغذوں ہی پہ موجود ہیں اور عملاً انکا کوئی وجود نہیں ،،، بدحالی و ابتری کی اس صورت کو برقرار رکھنے بلکہ گھمبیر سے گھمبیر تر کردینے میں انکے بیشتر رعونت زدہ افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر تو نچلے درجے کے اہلکاروں کو شاید اپنے جیسا انسان سمجھنے ہی کو تیار نہیں ہیں اور زندگی کی ہر راحت پہ صرف اپنا اور اپنے اہلخانہ ہی کا حق سمجھتے ہیں ،، ان افسران میں سے بیشتر کی نجی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی تنخواہ کے قطعی غیر مطابق اور نہایت رئیسانہ وسائل کے مالک ہیں اور انتہائی شاہانہ طرززندگی پہ مبنی ہیں اور اکثر کے بچے بیرون ملک نہایت مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور خود ان حضرات کے رویئے کسی راجہ مہاراجہ سے کم نہیں ،،، گو سبھی افسران بدعنوان نہیں لیکن اس مصرفانہ زندگی کے تقاضوں کی وجہ سے سندھ پولیس کے یہ چند افسران نہ صرف ہر جگہ اپنے اختیارات و طاقت کا فائدہ اٹھاکر لوٹ مار میں مشغول رہتےہیں بلکہ انکی ہوس اور لالچ کا یہ عالم ہے کہ اپنے محکمے کو بھی معاف نہیں کرتےاور پولیس کی بہبود کیلیئے مختص کیئے فنڈز کو بھی نہیں چھوڑتے ۔۔۔انکے سامان ، اسلحہ اور راشن تک کی خریداریوں میں گھپلے کرتے ہیں ،،، حتٰی کہ انکی اچھی کارکردگی سے منسلک انکے نقد انعامات و اعزازات کا رخ بھی جبراً اپنی طرف موڑنے میں لگے رہتے ہیں ،،، جس سے عام اہلکاروں کی بہت دلشکنی ہوتی ہے اور وہ کسی شدید خطرے میں پیش پیش رہ کر جامنوں کا نذرانہ دینے سے گریز کرنے لگتے ہیں - اب جبکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے اور پولیس افسران کی یہ شرمناک کارکردگی و بدعنوانی بے نقاب کردی ہے تو اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے ،،، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سندھ پولیس کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہوں لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ مختلف طریقوں سے ان پہ پردے ڈالے جاتے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن اب وہ پہلے جیسا دور نہیں ۔۔۔ اب میڈیا آزاد ہے اور عوام بھی کافی حد تک باخبر و بیدار ہوچکے ہیں لہٰذا اب حکومت تین ارب روپے ڈکارجانے والے افسران میں سے کسی کو بھی قطعی معاف نہ کرے اور کڑی تحقیقت کے نتیجے میں جو جو بھی اس خرد برد کے ذمہ دار پائے جائیں انہیں بلا کسی ہچکچاہٹ و تذبذب کے، نشان عبرت بنادیا جائے ،،، اسی میں سندھ پولیس کی بھی بہتری ہے اور اور اس قوم کی بھی کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ان اداروں کے بھاری اخراجات برداشت کرتی ہے

    View the full article
  14. ADMIN
    ... فاضل جمیلی....اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں سزا کاٹنے کے بعد فاسٹ بالر محمدعامر کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔انہیں ون ڈے اور ٹی 20دونوں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ون ڈے ٹیم کےکپتان اظہرعلی ہیں جنہوں نے محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کی مخالفت کی تھی جبکہ ٹی 20کے کپتان شاہد آفریدی ہیں جو محمد عامر کی واپسی کے حق میں تھے۔شاہد آفریدی نے عمراکمل کے ’’حیدرآباداسکینڈل‘‘ کے باوجود انہیں ٹیم کا حصہ بنانے کی وکالت کی تھی جبکہ اظہرعلی کےساتھ محمد حفیظ بھی محمد عامر کو ٹیم میں واپس لینے کے خلاف تھے۔ان دونوں کھلاڑیوں نے محمد عامر کی موجودگی میں ٹریننگ کیمپ میں شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا لیکن چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان نے دونوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ واقفانِ حال کا خیال ہے کہ کچھ اور کھلاڑیوں کے خیالات بھی اظہرعلی اور محمد حفیظ کے ساتھ ملتے جلتے تھے لیکن ان کے ناموں کے ساتھ پردہ نشینی کا ٹیگ لگا کر سینوں میں دبا دیا گیا ۔اب وہ سینہ بہ سینہ ہی سامنے آئیں گے۔ایک ملاکھڑا البتہ ’’جیوسوپر‘‘ کے پروگرام میں سینہ تان کر ہوا۔آمنے سامنے دو پہلوان نہیں بلکہ انتہائی دھیمے مزاج کے دو سابق کپتان رمیز راجہ اور محمد یوسف تھےجو محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کے سوال پر آپس میں لڑپڑے تھے۔محمد یوسف نے رمیزراجہ کو ناکام کھلاڑی کا طعنہ دیا اور رمیز راجہ نے محمد یوسف کو جعلی مولوی قراردیا۔یوسف نے کہا کہ رمیز کو انگریزی آتی، کرکٹ نہیں آتی۔رمیز کا جواب تھاکہ یوسف کو تواُردو تک نہیں آتی۔ اس سارے قضیے میں البتہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا بیان زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ محمد عامر نے اپنی سزا پوری کر لی ہےلیکن ٹیم میں ان کی واپسی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو ابھی اندازہ نہیں ہے۔مصباح الحق کے اس بیان کر ذرا کھول کر دیکھا جائے تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ محمد عامر جب میدان میں اُتریں گے تو یقینی طور پر تماشائیوں کی جانب سے ان پر آوازے کسے جائیں گے۔اگر وہ مخالف کھلاڑیوں کو آئوٹ کریں گے تو مخالف ٹیم بھی انہیں دبائو میں لانے کے لیے ان پر جملے بازی کر سکتی ہے۔کپتان کو بھی تندوتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس صورتحال میں نہ صرف محمد عامر خود پریشر میں آئیں گے بلکہ پوری ٹیم بھی دبائو میں آسکتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر یا کسی بھی دوسرے کھلاڑی کی مستقبل میں مخالفت کا راستہ روکنے کے لیے قومی کیمپ میں موجود تمام کھلاڑیوں سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیے ہیںلیکن جن خدشات کااظہار مصباح الحق نے کیا ہے ان پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔میچ فکسلنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے اسٹار بیٹسمین سلیم ملک بھی’’اُمیدسے ہیں‘‘ کہ انہیں بھی ایک بار پھرکرکٹ کو روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کی اجازت دے دی جائے۔دیکھنا یہ ہے کہ محمد عامر کے ساتھ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جس حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، اسی طرح کا برتائو دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یا نہیں ؟

    View the full article
  15. ADMIN
    ۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔۔ بلاشبہ 18 دسمبر کو ایک نہایت عمدہ روایت کا آغاز ہوا کہ جس کا تسلسل اسے عہد ساز بنا سکتا ہے ،،، اس روز چین کے شہر وژہن میں منعقدہ دوسری بین الاقوامی انٹرنیٹ کانفرنس سے صدر مملکت ممنون حسین نے اردو میں خطاب کرکے قومی تاریخ کے فخر کے قابل مواقع میں ایک اہم اضافہ کیا کیونکہ ایک اہم عالمی کانفرنس میں پاکستان کے کسی سربراہ کی جانب سے قومی زبان میں خطاب کا ایسا نادر اقدام پہلی بار اٹھایا گیا تھا ،،، اس قدم سے بلاشبہ جہاں ایک طرف پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا تو دوسری طرف اپنے کلچر اور زبان کے حوالے سے اسکی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ،،، صدر کے اس قابل ستائش اقدام پہ قوم بجاطور پہ انکی ممنون ہے ۔۔۔ لیکن مجھے کہنے دیجیئے کہ نہایت قابل تعریف ہونے کے باوجود یہ اقدام کافی ہرگز نہیں ، اصل ضرورت تو ملک کے ہرشعبے میں اور ہر سطح پہ اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا مقام دینے کی ہے،، میں صدر کے اس تاریخی خطاب کے بعد 2 ہفتے سے منتظر ہوں کہ وہ قومی زبان سے اپنی دوستی کے اس اقدام کے بعد ملک میں اردو کو اسکا جائز مقام دلانے کیلیئے اور اسے ملک کی سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کرنے کیلیئے اپنے منصب کا کوئی اختیار یا اسکا کوئی وزن استعمال کرتے ہیں یا نہیں لیکن ہنوز اس سمت کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی جہاں تک اپنی قومی زبان میں خطاب والے عمل کی بات ہے تو دو سو سے زائد ممالک کی عالمی براردی کے بیشتر ارکان کیلیئے تو یہ قطعی حیران کن بات نہیں ،،، درحقیقت یہ طرز عمل تو ان اکثر ممالک کا معمول ہے اور وہ اپنے سارے ملکی و غیرملکی امور کی انجام دہی میں اپنی قومی زبان ہی کو ترجیح دیتے ہیں ،،، جبکہ یہاں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ آزادی کے بعد اب جبکہ ساتویں دہائی بھی ختم ہونے کو ہے قومی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کی بیل ابھی تک منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے ،،، اس مایوس کن کیفیت میں ابھی 8 ستمبر کو جسٹس جود خواجہ کی سربراہی میں دیا گیا سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ مژدہ جانفزاء بنکے سامنے آیا ہے کہ جس میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئین کی مزید خلاف ورزی نہ کرے اور اس اہم آئینی تقاضے کی تکمیل کو یقینی بنائے اور تین مہینے میں تمام ملک میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ رائج اور نافذ کردے ،،،، گویا عدالت عظمیٰ نے گو بہت تاخیر سے ہی سہی لیکن اب جبکہ اپنے حصے کا کام کر ہی دیا ہے تو اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے ،،، لیکن حددرجہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب جبکہ نفاذ اردو کی عدالتی مہلت کی مدت ختم ہوئے بھی دو ہفتے ہوچلے ہیں ۔ حکومت نے تا حال اس حوالے سے کوئی بھی قابل ذکر پیشرفت نہیں کی ہے سپریم کورٹ ملک کا سب سے بڑا آئینی عدالتی ادارہ ہے اور اسکے فیصلوں کو ملک کے قانونی نظام میں جو اہمیت دی جانی چاہیئے اسکی ضرورت سے ہر عاقل و بالغ واقف ہے وگرنہ لاقانونیت کا چلن تو ہر آئین اور ادارے کو فنا کرڈالتا ہے اور اس سے نراجیت اور طوائف الملوکی جنم لیتے ہیں ،،،، اردو کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 ستمبر کے تاریخی فیصلے پہ وفاقی حکومت جس طرح کان لپیٹے بیٹھی ہے اور کمیٹی کمیٹی کھیلنے کے سوا کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی ، اس سے ایسی ہی لاقانونیت پسندی کا تاثر ملتا ہے اور لگتا یوں ہے کہ غافل حکمران طاقتور نوکر شاہی اور بےلگام اشرافیہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریزی کا تسلط کبھی ختم ہو جو کہ یہاں طبقاتی نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے اور یہ بات انکے لییئے کسی سخت ڈراؤنے خواب کی مانند ہے کہ گاؤں دیہات کے گورنمنٹ اسکولوں کے طالبعلم کبھی گرامر اسکولوں کے طلباء کے مقابل یا برابر آسکیں - سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ہر سطح پہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کردیا جاتا اور مقابلے کے یہ جو امتحانات فروری میں منعقد ہورہے ہیں ان میں بھی اردو کو امتحانی زبان کا درجہ دیدیا جاتا ،،، لیکن عملاً کچھ بھی نہ کیا گیا اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی عمال اور اشرافیہ دونوں کسی صورت اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے اور نہایت لاپرواہی بلکہ سفاکی سے اس تاریخی فیصلے کو فراموشی کے اسی کوڑہ دان پہ پھینک دینا چاہتے ہیں کہ جہاں یہ گزشتہ 67 برسوں سے پڑا ہوا تھا اور یوں قومی تاریخ میں طویل و پیہم انتظار کے بعد عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو اہم تاریخی موڑ آیا تھا اس پہ عملدرآمد کے سوال کو عملاً ایک مذاق بناکر رکھدیا گیا ہے ،،، وزیراعظم نے اس معاملے میں کہنے کی حد تک ایک پارلیمانی کمیٹی بنا ضرور دی ہے لیکن اسکی کارکردگی نہایت افسوسناک حد تک سست روی کا شکار ہے لیکن وزیراعظم کو اتنی توفیق یا فرصت ہی نہیں کہ وہ اس اہم قومی معاملے کا جائزہ لیں - لہٰذا اس سست روی کو دیکھتے ہوئے بہر صورت یہ صدرمملکت کا فرض بن جاتا ہے کہ اس سلسلے میں اصلاح احوال کیلیئے حکومت کو سخت تنبیہ کریں کیونکہ وہ اپنے حلف کی روشنی میں اس امر کے پابند ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں وگرنہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظراندازی انکے حلف کی خلاف ورزی بھی ہوگی اور توہین عدالت بھی ۔۔۔

    View the full article
  16. ADMIN
    There’s no end to the list of bodybuilding supplements.  One of the supplements which is widely used and claimed to offer tons of benefits is, Glutamine. What is Glutamine? Is it really essential and helpful to achieve the desired gains? Let's find out-
    Understanding Glutamine


    Glutamine aka L-glutamine is the most abundant form of amino acid found in our muscles, liver, brain and blood plasma. Since, the body is capable enough to produce glutamine, it is categorized as a conditionally essential amino acid. When the body undergoes a physical or physiological stress in the form of exercise or illness, the internal glutamine level of body depletes. Kidneys, small intestine and the white blood cells are the main sites where glutamine is utilized. While it’s okay to not consume Glutamine for a moderately active person, it’s really essential for lifters who break themselves in the gym.  Also, Glutamine is considered to be a powerful anti-catabolic amino acid and offers numerous health benefits.
    Benefits of Glutamine: 
    · Glutamine enhances protein metabolism and supports the production of human growth hormone.
    · It enhances the glutathione level (body's natural antioxidant) and helps in maintaining body's immunity.
    · It supports glycogen formation and cell hydration.
    · Glutamine also supports the intestinal health.
    · According to a study, it also supports electrolyte absorption and hence, supports neuro-transmission. 
    Application of Glutamine


    Though glutamine offers numerous benefits, one cannot expect  muscle hypertrophy just on the basis of glutamine consumption. For optimum results, glutamine should be stacked along with the BCAA's and creatine. The best time to take glutamine is post workout, before bed and first thing in the morning. 10-20gram of glutamine per day is what we require for the best results.
    Note: If you are on the ketogenic diet, avoid glutamine as it is highly gluconeogenic in nature and therefore, will bring you out of the ketosis state.
     
     


  17. ADMIN
    The whole nation is divided when it comes to Prime Minister Narendra Modi for his efforts like Swachh Bharat, Make in India and the recently imposed currency demonetization;, but what his younger brother, Prahlad Modi, said was something totally unexpected. 
    Prahlad Modi asked his community members to prefix “Modi” to their names. That’s right! He was attending an all-India meet of younger men and women of the Sahu community in Bhopal on Sunday, where he said, “After coming here I am only hearing one thing, Narendra Modi is the pride of India and his community. But why we, the members of Teli Samaj (oil-makers’ community) are not ready to prefix Modi to our names.” 
    © BCCL, wikimedia
    He further added that the leaders of his community use names of sub-castes like Sahu, Rathod and Chauhan, for their selfish motives. Talking about sub-castes, he said that the Patidar and Rajput communities too have sub-castes; however, their identity as Patidar and Rajput remains intact. 
    Prahlad even said, “If we start with the prefix Modi, I believe that our community’s population will add up to 14 crore” (across India). What’s more, he referred to his community being the children of Goddess Karma Devi who was a Teli, and they are Teli and Modis. “We should resolve today that henceforth our name would begin with Modi,” he added. Calling for unity of the community, he spoke about how the community was being divided due to groupism and the political parties that fooled them.
    Source: The Huffington Post


  18. ADMIN
    In a country that’s ruled by what’s telecast on our TV screens, it’s important that the entertainment industry acts responsibly with the content it shows its audiences. Sexism is as real as Monday blues and whether or not you’d like to admit it, it’s all over our films. It’s ridiculous, really, to look back at old Hindi films and realize the man chases the girl down the street, follows her up to her house, gets violent, threatens and molests until she finally agrees to go out with him. All that in the name of romance and flirting. And it’s an aspect that’s always been celebrated – they write songs on it FFS! 
    AIB’s new video featuring Richa Chadha, Vicky Kaushal and Mallika Dua talks about the same. It’s hilarious, only, you stop laughing halfway through and realize how f*cked up our films really are. And it’s not just about the old films. There’s still a lot of propagation and glorification of sexism, misogyny and molestation in mainstream films.
    With celebrities like Richa Chada, Vicky Kaushal and Mallika Dua standing against Bollywood’s blatant ways of objectifying women, here’s hoping we see better days in our cinema!


  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...