Urooj Butt👑 Posted November 29, 2016 Posted November 29, 2016 نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں نہیں ہے موت سے کم اک جہان کا چکر جنابِ خضر،،،،، یونہی انتقال کرتے ہیں چھری نکالی ہے مجھ پر عدو کی خاطر سے پرائے واسطے،،،،،،،،،،، گردن حلال کرتے ہیں یہاں یہ شوق، وہ نادان، مدعا باریک انھیں جواب بتا کر،،، سوال کرتے ہیں ہزار کام مزے کے ہیں داغ،،،، الفت میں جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں 3
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now