Daagh Dehlvi
Daag Dehlvi Poetry and Biography:
Daag Dehlvi is an Indian National Urdu poet, Daagh is his pen name. Daagh wrote romantic
Read More ◄►↓
poems and ghazals with a little touch of Persian language. His simple way of writing was admired and impressed people from all walks of life. Read the latest and best collection of Daag Dehlvi shayari in urdu and english as Daag Dehlvi famous poets, song writer in Pakistan and around the world. Nawab Mirza Khan was born in 1831 & died on 1905, He normally known as Daagh Dehlvi. He was a marvelous Mughal poet well-known for his Urdu ghazals and belonged to the Delhi school of Urdu poetry. He wrote poems and ghazals under the takhallus Daagh Dehlvi.
6 topics in this forum
-
- 22 replies
- 5.9k views
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں داغ دہلوی
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 2k views
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا…
Last reply by Urooj Butt, -
- 4 replies
- 2.9k views
عجب اپنا حال ہوتا_________، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی،______ کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت_________ نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش اے ظالم____ مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمھیں منصفی سے کہہ دو_ تمہیں اعتبار ہوتا.. ¡? غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے یہ وہ زہر ہے کہ_______ آخر میں خوشگوار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا_______، کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا،________ نہ مجھے قرار ہوتا یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا،_________ کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پر ستمگر،_____ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا،_________ ہمیں اعتبار ہوتا یہ وہ دردِ دل نہ…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 3.1k views
نگاہ پھیر کے،،،،،،،، عذرِ وصال کرتے ہیں مجھے وہ الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں زبان قطع کرو،،،،،،،،، دل کو کیوں جلاتے ہو اِسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے مریضِ غم کی،،، یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں میرے مزار کو وہ ٹھوکوں سے ٹھکرا کر فلک سے کہتے ہیں یوں پائمال کرتے ہیں پسِ فنا بھی،،،، میری روح کانپ جاتی ہے وہ روتے روتے جو آنکھوں کو لال کرتے ہیں اُدھر تو کوئی نہیں جس سے آپ ہیں مصروف اِدھر کو دیکھیے،،،،،،، ہم عرض حال کرتے ہیں یہی ہے فکر کہ ہاتھ آئے تازہ طرزِ ستم یہ کیا خیال ہے،، وہ کیا خیال کرتے ہیں وہاں فریب و دغا میں کمی کہاں توبہ ہزار چال کی،، وہ ایک چال کرتے ہیں …
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 2k views
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.8k views
ﻏﻀﺐ ﮐﯿﺎ ﺗﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﮧ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺍﺕ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺍﺱ ﺑﺖ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﻣﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺏ ﺷﺮﻣﺴﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻨﺴﺎ ﮨﻨﺴﺎ ﮐﮯ ﺷﺐِ ﻭﺻﻞ ﺍﺷﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﺴﻠﯿﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮐﮯ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺟﻠﻮﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺮِ ﻣﺰﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺷﻮﺭ ﺍﭨﮭﺎ ﮨﺎﺋﮯ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﻎ ﮐﻮ ﻗﺎﺗﻞ ﻧﮯ ﺁﺏ ﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﺷﺒﮧ ﮨﻢ ﭘﮧ ﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﺭﺍﮦ ﭘﮧ ﻭﮦ ﻋﺠﺰ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺷﺐِ ﻭﺻﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻭﻋﺪۂ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐِﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺗﺎﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻮ ﻣﺂﻝ ﺍﻧﺪﯾﺶ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺻﺒﺮ ﮐﮧ ﺩﻡ ﭘﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻇﺎﻟﻢ ﺑﮧ ﺗﻨﮓ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﺎﻝِ ﺩﻝ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮍﭖ ﭘﮭﺮ ﺍﮮ ﺩ…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
