Jump to content

Recommended Posts

Posted

مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا
مجھے پھر دیکھنا اور دیکھ کر خاموش ہو جانا
قسم ہے چشمِ ذیبا کی مجھے بھولے نہیں بھولا
تجھے کلیوں کا ایسے دیکھ کر مدہوش ہو جانا
تجھے یہ شہر والے پھر مرے بارے میں پوچھیں گے
نظر سے مسکرانا اور پھر خاموش ہو جانا
زمانہ سانس بھی لینے نہیں دیتا ہمیں لیکن
ہمارے واسطے تم چین کی آغوش ہو جانا
نہ مجھ میں وصفِ موسیٰ تھے نہ میں محوِ تکلم تھا
مرا بنتا نہیں تھا اس طرح بے ہوش ہو جانا
مرے زخموں مرے نالوں کا اکلوتا محافظ ہے
مرے شانوں پہ تیرے ہجر کا بَردوش ہو جانا
سو اب اس نازنیں کی عادتوں میں یہ بھی شامل ہے
چمن میں رات کر لینا، وہیں گُل پوش ہو جانا

3.jpg

Posted

ابھی ٹھہرو
ابھی کچھ دن لگیں گے
وصل کو خوا ھش بنانے میں
تمھیں اپنا سمجھنےکے لیے دل کو منانے میں
ابھی کچھ دن لگیں گے
ابھی ھم اپنی اپنی خوشبوؤں کو دل سے ملنے دیں
انھیں محسوس کرنے دیں
وفا کیا اور تقاضائے محبت کی حدیں کیا ھیں
حدوں کی سر حدیں کیا ھیں
پھر ان کے پار جانے کا سبب کیاھے
دھیان و بے دھیانی میں
تمھاری بھیگتی باتوں کی ندیا کی روانی میں
کہانی ھی کہانی میں
اگر بےجادہ و منزل
کوئی خواھش دلوں کی کو کھ سے پیدا ھوئی تو کون دیکھے گا
ھمارے نام کی سچائی کو
خواھشوں کے بے نسب مہتاب چہروں کو
ابھی ٹھہرو
ابھی کچھ دن لگیں گے
رشتہ بے نام کو ھم نام کرنے میں
کہانی کو کسی آغاز سے انجام کرنے میں
کہیں اظہار کرنے میں
ھمیں اقرار کرنے میں
ابھی ٹھہرو
 ابھی کچھ دن لگیں گے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.