Zarnish Ali👑 Posted January 2, 2017 Posted January 2, 2017 مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا مجھے پھر دیکھنا اور دیکھ کر خاموش ہو جانا قسم ہے چشمِ ذیبا کی مجھے بھولے نہیں بھولا تجھے کلیوں کا ایسے دیکھ کر مدہوش ہو جانا تجھے یہ شہر والے پھر مرے بارے میں پوچھیں گے نظر سے مسکرانا اور پھر خاموش ہو جانا زمانہ سانس بھی لینے نہیں دیتا ہمیں لیکن ہمارے واسطے تم چین کی آغوش ہو جانا نہ مجھ میں وصفِ موسیٰ تھے نہ میں محوِ تکلم تھا مرا بنتا نہیں تھا اس طرح بے ہوش ہو جانا مرے زخموں مرے نالوں کا اکلوتا محافظ ہے مرے شانوں پہ تیرے ہجر کا بَردوش ہو جانا سو اب اس نازنیں کی عادتوں میں یہ بھی شامل ہے چمن میں رات کر لینا، وہیں گُل پوش ہو جانا 3
waqas dar⚙ Posted January 3, 2017 Posted January 3, 2017 یہ ارتعاش مہ و مہر کتنا دھیما ہے کہ سال سال سفر کا پتا نہیں چلتا احمد حماد 2
waqas dar⚙ Posted January 3, 2017 Posted January 3, 2017 ابھی ٹھہرو ابھی کچھ دن لگیں گے وصل کو خوا ھش بنانے میں تمھیں اپنا سمجھنےکے لیے دل کو منانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے ابھی ھم اپنی اپنی خوشبوؤں کو دل سے ملنے دیں انھیں محسوس کرنے دیں وفا کیا اور تقاضائے محبت کی حدیں کیا ھیں حدوں کی سر حدیں کیا ھیں پھر ان کے پار جانے کا سبب کیاھے دھیان و بے دھیانی میں تمھاری بھیگتی باتوں کی ندیا کی روانی میں کہانی ھی کہانی میں اگر بےجادہ و منزل کوئی خواھش دلوں کی کو کھ سے پیدا ھوئی تو کون دیکھے گا ھمارے نام کی سچائی کو خواھشوں کے بے نسب مہتاب چہروں کو ابھی ٹھہرو ابھی کچھ دن لگیں گے رشتہ بے نام کو ھم نام کرنے میں کہانی کو کسی آغاز سے انجام کرنے میں کہیں اظہار کرنے میں ھمیں اقرار کرنے میں ابھی ٹھہرو ابھی کچھ دن لگیں گے 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now