- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Kate Middleton's chic look came amid uncertainty with Prince William
- Anthropic CEO urges AI companies to slow model development amid fears over misuse
- Harry, Meghan take heat off Andrew, Sarah Ferguson with one bold move
- LG denies Smart TV spying claims: What is found, how to protect yourself
- Dylan O'Brien honours Taylor Swift for direction in 'All Too Well'
- Babar 'confident' to continue as Pakistan's Test captain despite England whitewash
- Prince Harry and Meghan honour 9/11 heroes with powerful tribute
- Apple TV leads 2026 Emmys nights 1-2 with record 20 early wins
- Suki Waterhouse roasts Role Model in new social media update
- Prince William reaches out to Earthshot finalist amid Nepal disaster
Jaun Elia
Joan Elia A Unique Poet of Urdu Poetry. Find out his best poetry.
Jon Elia Biography
Jon Elia. Jaun Elia (Urdu: جون ایلیا, 14 December 1931 – 8 November 2002) was a Pakistani Urdu poet, philosopher, biographer, and scholar. He was the brother of Rais Amrohvi and Syed Muhammad Taqi, who were journalists and psychoanalysts. He was fluent in Urdu, Arabic, English, Persian, Sanskrit and Hebrew.
38 topics in this forum
-
- 2 replies
- 1.7k views
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی بعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماں یاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئی صحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراق جب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئی اس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھر اس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئی اس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپ عمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئی اس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیے حالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئی تیرا فراق جانِ جاں، عیش تھا کیا مرے لیے یعنی ترے فراق میں، خوب شراب پی گئی اس کی گل…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 2 replies
- 979 views
مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟ اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.2k views
بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمھاری ہے اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں رات دن تیری انتطاری ہے ایک مہک سمت دل سے آئی تھی میں یہ سمجھا تری سواری ہے خوش رہے تو کہ زندگی اپنی عمر بھر کی امید واری ہے (جون ایلیا)
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.2k views
ضبط کر کے ہنسی کو بُھول گیا میں تو اُس زخم ہی کو بُھول گیا ذات در ذات ہمسفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بُھول گیا صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات میں اُسے شام ہی کو بُھول گیا عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہِ وابستگی کو بُھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اِسی کو بُھول گیا کیوں نہ ہو ناز اِس ذہانت پر ایک میں، ہر کسی کو بُھول گیا سب سے پُراَمن واقعہ یہ ہے آدمی، آدمی کو بُھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہرغِم زندگی کو بُھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بُھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اِک شخص اپنی خوش قسمتی کو بُھول گیا سوچ کر اُس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بُھول گیا سب بُرے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بَھلا…
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 7.6k views
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﭼﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮨﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮑﺴﺖ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺟﻮ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﺑﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮕﻨﺆﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﺟﻮ ﺷﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﻭﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻟﺐ ﭘﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻭﻩ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻩ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻋﮩﺪ ﻧﺸﺎﻁ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﻭﻩ ﺟﻮ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﺧﻤﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮩﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺳﺖ ﻟﺸﮑﺮ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺧﺮﻭ ﻣﮧ ﻭ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﮯ ﻭﻩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻮ …
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1k views
یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں دامن میں کیے ہیں جمع گرداب جیبوں میں حباب رکھ رہا ہوں آئے گا وہ نخوتی سو میں بھی کمرے کو خراب رکھ رہا ہوں تم پر میں صحیفہ ہائے کہنا اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.1k views
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 988 views
ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺩﺍﻍ ﮨﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺍﺛﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﻧَﻘﺺ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﮮ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﻮﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﺎﻧﺎ ﺁﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﮮ ﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻧﺴﯿﻢِ ﺑﮩﺎﺭ ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﺧﺎﮎ ﺍﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﺗﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺗُﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ) ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ )
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
