Ibn-e-Insha
8 topics in this forum
-
- 2 replies
- 2.5k views
Sab MayA hAi Sab Dhalti Phirtii Chaya hAi Is Ishq Mein hUm Ney jO khOya jO Paya hAi jO tUm Ney Kha "Faiz" Ney Jo Farmaya hAi Sab MayA hAi Haan Gahay Gahay Deed Ki dOulat Haath Aaii Ya Eik Wo Lazat nAam hAi Jis Ka rUSwaii Bus Is K Siwa To jO Bhe Sawaab KamayA hAi Sab MayA hAi Eik nAam To baQii Rehta hAi Gar jAan Nhien jAb Dekh Leya Is SOuday Mein NuQsAan Nhien Tab Shama Pey jAan Dainay Patanga AayA hAi Sab MayA hAi malOom Hamein Sab "Qais" Miyaan Ka QiSsa Bhe Sab Eik Sey hAin Yeh Ranjha Bhe Yeh "InSha" Bhe Farhaad Bhe Jo Eik Nehar Sii khOud K LayA hAi Sab MayA hAi kyOu dArd K Namay Likhtay Likhtay Raat Karo Jis Saat Samandar Paar Ki Naar Ki Baat Karo Us Naar Sey kO…
Last reply by Sahrish Dar, -
-
- 2 replies
- 1.8k views
ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟ اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہر…
Last reply by ADMIN, -
- 2 replies
- 1.9k views
شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟ درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟ آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند ! ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟ انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور …
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.7k views
Khwaba hi khwab tha خواب ہی خواب تھا، تصویریں ہی تصویریں تھیں یہ ترا لطف، ترے مہر و محبت، لیکن تیرے جانے سے یہ جینے کے بہانے بھی چلے تجھ کو ہونا تھا کسی روز تو رخصت لیکن اپنا جینا بھی کوئی دن ہے، ہمیشہ کا نہیں تو نے کچھ روز تو دی زیست کی لذّت لیکن پھر وہی دشت ہے، دیوانگئ دل بھی وہی پھر وہی شام، وہی پچھلے پہر کا رونا اب تری دید، نہ وہ دور کی باتیں ہوں گی......................... ابن انشا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 2.3k views
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں، اک پیاس کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں، تم بادل ہو، ہم ندیا ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، اک درد کا پھوڑا الہڑ سا نہ گپت رہے، نہ پھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو، کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں، تم چڑھتی رات کی چندرما ہم جاتے ہیں، تم آتے ہو، پھر میل کی صورت کیونکر ہو اب حسن کا رتبہ عالی ہے، اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی میں بنجارہ بن، چل نگری میں سوداگر ہو وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں، وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں، جب دکھ کا سورج سر پر ہو اب انشاء جی کو بلانا کیا، اب پیار کے دیپ جلانا…
Last reply by Hareem Naz, -
- 4 replies
- 2k views
شہرِ دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں !چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح جاں کو ڈستی یے روح و جاں میں بستی ہے شہرِ دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سر شکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یاد گار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی صورتوں کی زیبائی قامتوں کی رعنائی ان سیاہ راتوں میں ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کس کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنائی یہ نگر کبھی پہلے اس قدر نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک ساماں تھا آج دل میں ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہرجائی پھ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 2.3k views
ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساہو کار بنے ہے کوئی جو دیون ہار بنے کچھ سال ،مہینے، دن لوگو پر سود بیاج کے بن لوگو ہاں ا پنی جاں کے خزانے سے ہاں عمر کے توشہ خانے سے کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں جب ناما دھر کا آیا کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں جنہیں جاننے والے جانے ہیں کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں ہم مانگتے نہیں ہزار برس دس پانچ برس دو چار برس ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے ہاں اور خراج بھی دے لیں گے آسان بنے، دشوار بنے پر کوئی تو دیون ہار بنے تم…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.9k views
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
