- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- King Charles' latest blow puts Prince Harry to ultimate test
- College GameDay week 2: Start time, location, where to watch
- Olivia Rodrigo breaks new global record with 'you seem pretty sad' album
- Mitch McConnell hasn't been seen in public for 3 months: Will he return to Senate?
- Trump says Yemen's Houthis have asked US not to intervene
- NASCAR legend Gary Myers saw his family make racing history months before his death
- Jennifer Lopez's chai latte nails: Here's how to recreate them
- Prince William to join Tusk Awards celebrating Africa's natural heritage
- RM's birthday gets sweeter as BTS bandmates wish him
- Who are Anthropic researchers who quit over AI doomsday fears?
Urdu Poetry Hub
Explore the world of Urdu poetry and Shayari. Share your favorite verses, discover famous poets, and express your emotions through words. Post in Urdu, Roman Urdu, or English and connect with a passionate poetry community.
-
- 0 replies
- 759 views
اک بار جو بچھڑ جائے وہ دوبارا نہیں ملتا مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا . اُس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا . پھر دوبارا یہ بات بہت سوچ لے پہلے ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا . یہ سوچ کر دل پھر سے آمادہ ء الفت ہے ہر بار محبت میں خسارا نہیں ملتا . وہ شہر بھلا کیسے لگے اپنا جہاں پر اک شخص بھی ڈھونڈے سے ہمارا نہیں ملتا
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 2.2k views
سب کچھ اپنا واری بیٹھاں جتی بازی،،،، ہاری بیٹھاں دم کسے دا بھردے بھردے اپنا آپ،،، وساری بیٹھاں مجرم،،، اپنا آپ اى آں میں ہتھیں کھیڈ اجاڑی بیٹھاں ویچ کے ٹوٹے خواباں دے سپنا میں وپاری بیٹھاں مرضی دا،،، ہک ساہ نہ لیا اُنج میں عمر گزاری بیٹھاں ہواواں،،،،،،، راکھ اڈاون پئیاں اِنج میں قسمت ساڑی بیٹھاں اوہلے،،،، کی میں رکھدا یارو زندگی اس توں واری بیٹھاں اپنے آپ نوں،، قیدی کر کے اُچیاں کنداں چاڑی بیٹھاں کوئی کسے دا دردی نئیں ساری گل، نتاری بیٹھاں مُکیئے آپ ایہہ غم نئیں مکدے ہن ایہہ سوچ وچاری بیٹھاں
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 979 views
Mohabbat Cheez Aisi Hai, Kabhi Hoti Hai Apnon Se, Kabhi Anjaan Rahoon Sy Kabhi Gumnaam Rahon Sy Mohabbat Cheez Aisi Hai Kabhi Hoti Hai Phoolon Sy Kabhi Bachpan Ky Jhoolon Sy Kabhi Be-Ikhtiyaari Mein Kabhi Pakke Usoolon Sy Mohabbat Cheez Aisi Hai Mohabbat Bas Mohabbat Hai Mohabbat Ik Sadaqat Hai Mohabbat Cheez Hi Aisi Hai Dukhon Mein Rool Deti Hai Dard Anmool Deti Hai Zehar Bhi Ghool Deti Hai Mohabbat Cheez Aisi Hai
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 1.1k views
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣِﺮﮮ ﺣﺮﻑ ﺣﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﺳﮑﮯ ﺗﺮﮮ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺷﮕﻔﺘﮕﯽ ﻣﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﻭﺟﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﺳﮑﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﺴِﯽ ﮔﮩﺮﮮ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻣﺮﮮ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﺳﮑﮯ ﺗﺮﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﺯﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺎﻝ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﺎﺯﻭﺅﮞ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺟُﮭﻮﻟﺘﮯ ﮨُﻮﺋﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﮐﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﻮ ﺳﺮﺷﺎﻡ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﺅﮞ ﺍِﺳﯽ ﺟﮭﻠﻤﻼﺗﯽ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟِﮑﮭﻮﮞ ﻧﻈﻢ ﺟﻮ ﺗﺮﺍﺭُﻭﭖ ﮨﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﺟﺎﮌﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺟﻮ ﭼﻤﮏ ﺍُﭨﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺳﯽ ﺩُﮬﻮﭖ ﮨﻮ ﺟﻮ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺗﺎﻝ ﮐﮯ ﺭﻗﺺ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﯿﺘﺎ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﻋﮑﺲ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺮﮮ ﺣﺮﻭﻑ ﺗﺎﺯﮦ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺭﺍﺯ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﻣُﻨﮑﺸﻒ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺟﮩﺎﻥ ﺷﻌﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻣِﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮐ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 943 views
ﺣﺒﺲ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮈﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﺩﻝ ﺟﻮ ﭨﻮﭨﮯ ﺗﻮ ﺳﺮﻣﺤﻔﻞ ﺑﺎﻝ ﺑﮯ ﻭﺟﮧ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﻨﺠﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺗﻮ ﺍُﺗﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺭﭼﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﺧﺎﻟﯽ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﺍﺷﮏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﻭ ﮔﮯ ﺳﻮﭼﻮ ﻭﺻﯽ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮏ ﮨﺎﺭ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 857 views
میں آئینہ تھا ، وہ میرا خیال رکھتی تھی میں ٹوٹتا تھا تو چن کر سنبھال رکھتی تھی ... میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا ، وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھی
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 2.2k views
تمہیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ھو ؟؟؟ بہت خوش فہم ھو تم بھی تمھاری خوش گمانی ہے میری آنکھوں کی سرخی میں تمھاری یاد کا مطلب ؟؟ میرے شب بھر کے جگنے میں تمھارے خواب کا مطلب ؟؟ یہ آنکھیں تو ہمیشہ سے ہی میری سرخ رہتی ہیں تمہیں معلوم ہی ہو گا اس شہر کی فضا کتنی آلودہ ہے تو یہ سوزش اسی فضا کے باعث ہے تمہیں کس نے کہا پگلی کہ میں شب بھر نہیں سوتا مجھے اس نوکری کے سب جھمیلوں سے فرصت ملے تو تب ہے نا میری باتوں میں لرزش ہے؟ میں اکثر کھو سا جاتا ہوں؟ تمہیں کس نے کہا پگلی محبت کے علاوہ اور بھی تو درد ہوتے ہیں فکر معاش، سکھ کی تلاش ایسے اور بھی غم ہیں اور تم ان سب غموں کے بعد آتی ھو تمہیں کس نے کہا پگلی؟ مجھے تم یاد آتی ھو یہ دنیا والے پاگل ہیں زرا سی بات کو یہ افسانہ سمجھتے ہیں م…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 4.4k views
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلس…
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2.5k views
Tujhay tujh say churana chahta hon Janon ko aazmana chahta hon Hamaray darmiyan jo mojzan tha Wahi rishta purana chahta hon Makan badlay hai kitnay is nagar mein Mein ab kay ghar basana chahta hon Samay ki aandhiyon say bujh na paye Dia aisa jalana chahta hon Yeh dunya to bhat choti hai jana'n Teray dil mein samana chahta hon Tumhara sath ho aur geet likhon Mein jiwan shairana chahta hon
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.9k views
Ye aur baat teri gali mein na aayen hum lekin ye kya ke shehar tera chod jayen hum muddat hui hai ku-e-butan ke taraf gaye aavaragi se dil ko kahan tak bachayen hum shayad baqaid-e-zist ye saat na aa sake tum dastan-e-shauq suno aur sunayen hum benoor ho chuki hai bahut shehar ke fiza tarekh raston mein kaheen kho na jayen hum us ke bagair aj bahut jee udas hai ‘jalib’ chalo kaheen se use dhundh layen hum
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 2.8k views
سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں نا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں سنا ہے حشر ہیںاس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیںکاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.1k views
لَاگے تَوسے نَیناں سَائیں اُجڑت سُکھ اور چَیناں سَائیں - بیٹھی سُدھ بُدھ نِیر بَہاؤں کیا دِن اور کیا رَیناں سَائیں - پِھیکے ہَوت باَل سُنیہری پھیکے کاجل، گہنا سَائیں - آہ سُنے ہے لال حَویلی پَربت دیکھیں بَیناں سَائیں - گَر ھو تَوھے، دُکھ گوارا آگ لگاؤں چَیناں سَائیں - سَائیاں مُوری بِنتی سُن لو تُجھ بِن اب نہیں رہنا سَائیں - تَوری دید کی خاطر بیٹھے جُگنو، بُلبل، مَیناں سَائیں - خاکِ پَا کو سُرمہ کر لوں مُوہے کُچھ مت کہنا سَائیں - قَلب جلا کر رَاہ تَکے ھے حاضر شُجاعت حُسیناں سَائیں - شُجاعت حُسین
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.7k views
تو ملا ہے تو اب یہ غم ہے پیار زیادہ ہے زندگی کم ہے (پروین شاکر)
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.8k views
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی ____________________________________ پروین شاکرؔ
Last reply by Ch Wish, -
- 0 replies
- 1.1k views
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا ,, اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے اب تک زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا ,, موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا ,, تیرے چہرے کی تپش تھی کہ پلٹ کر دیکھا ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا ,, آگ کی ضد میں نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے راکھ کی تہہ میںشرارہ نہیں دیکھا جاتا ,, زخم آنکھوں کے بھی ملتے تھے کبھی دل والے اب تو ابرو کا اشارہ نہیں دیکھا جاتا ,, کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسن دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا کلامِ محسن نقوی,,,!!
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 1.4k views
سحرِ آئینہ کچھ ایسا ہے کہ ڈر پیدا ہو بول کچھ بول کہ دیوار میں در پیدا ہو پھر وہی سلسلہء نقشِ قدم دکھلا دے چشمکِ برقِ رواں، بارِ دگر پیدا ہو دل وہ پاگل ہے کہ ہو جائے گا غرقاب وہیں جھیل کی تہہ میں اگر عکسِ قمر پیدا ہو حسن ہے حسن وہی جس کے مقابل آ کر دیدہء کور میں بھی تارِ نظر پیدا ہو ہم نمائش کے تو قائل نہیں لیکن خورشید خود کو پنہاں بھی زمانے سے نہ کر، پیدا ہو !!!خورشيد رضوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.7k views
گھول جا دن بھر کا حاصل اس دلِ بے تاب میں ڈوب جا، اے ڈوبتے سورج مرے اعصاب میں ,, آنکھ میں ہر لحظہ تصویریں رواں رہنے لگیں جم گیا ہے خواب سا اک دیدۂ بے خواب میں ,, دل ہمارا شاخساروں سے، گلوں سے کم نہیں اے صبا کی موجِ لرزاں، کچھ ہمارے باب میں ,, ہاں اسی تدبیر سے شاید بنے تصویرِ دل رنگ ہم نے آج کچھ گھولے تو ہیں سیماب میں ,, دھیان بھی تیرا تری موجودگی سے کم نہ تھا کنجِ خلوت میں بھی ہم جکڑے رہے آداب میں ,, دسترس ہے موج کی ساحل سے ساحل تک فقط تہ کو جا پہنچے اگر اترے کوئی گرداب میں ,, پیشِ دل کچھ اور ہے پیشِ نظر کچھ اور ہے ہم کھلی آنکھوں سے کیا کیا دیکھتے ہیں خواب میں خورشيد رضوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.3k views
ﯾﮧ ﮔﺮﺩ ﺑﺎﺩِ ﺗﻤﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺭُﮐﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﯾﺪِ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﻮﻥ ﺧﻼ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻧﺠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻧﮧ ﺁﭖ ﭼﻠﺘﮯ ، ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﯽ ﺗﮭﮑﯽ ﺳﯽ ﯾﮧ ﺷﺎﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻭﻧﮕﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺁﺝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﭩﮯ ﮔﯽ ﭘﮩﺎﮌ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺩﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﻣﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﻤﮩﯽ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺟﻮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﭩﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭼﺎﭨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ ﻣﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺭ ﮨﺎ ﺍﻣﺠﺪؔ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻥ
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 822 views
،رہ وفا کے لیے ساز و رخت جمع کروں کہاں تلک جگر لخت لخت جمع کروں؟ ،کمک ملی ہے تو ادھڑی زمیں پہ سوچتا ہوں ،کہ پھر سے مہر و علم، تاج و تخت جمع کروں ،میں زخم زخم سہی پھر بھی ضد غنیم کی ہے ،کہ دست بستہ سبھی سنگ سخت جمع کروں ،لگاؤں پھر سے"پنیری" جلی زمینوں میں ،میں آندھیوں کے لیے پھر درخت جمع کروں ،زر دعا نہ اڑا لے ہوا تو میں بھی کبھی ،بجھے بجھے ہوئے ہاتھوں پہ بخت جمع کروں ،جلوس اہل "بغاوت" کی دھن ہے گر محسن ،تو ہاتھ کھردرے، چہرے کرخت جمع کروں "محسن نقوی"
Last reply by Sherry, -
- 0 replies
- 903 views
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑھ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں ۔ کیوں تیرے درد کو دیں تہمت ویرانی دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں ۔ موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں ۔ اب کوئی کیا میرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں ۔ شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں ۔ سوچ کا آئینہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں ۔ شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں ۔ وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں ۔
Last reply by Sherry, -
- 0 replies
- 2.1k views
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے ۔ دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں تند ہیں شعلے سرخ ہیں آہن۔ کھلنے لگے قفلوں کے دھانے پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن ۔ بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے جسم و زباں کی موت سے پہلے ۔ بول کہ سچ زندہ ہے اب تک بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے۔ فیض احمد فیض
Last reply by ADMIN, -
- 0 replies
- 10.8k views
جگر دریدہ ھُوں چاکِ جگر کی بات سنو امیدِ سحر کی بات سنو الم رَسیدہ ھُوں دامانِ تر کی بات سنو امیدِ سحر کی بات سنو زباں بریدہ ھُوں زخمِ گلو سے حرف کرو امیدِ سحر کی بات سنو شکستہ پاء ھُوں ملالِ سفر کی بات سنو اُمیدِ سحر کی بات سنو مسافرِ رہِ صحرائے ظلمتِ شب سے اب التفاتِ نگارِ سحر کی بات سنو سحر کی بات امیدِ سحر کی بات امیدِ سحر کی بات امیدِ سحر کی بات امیدِ سحر کی بات سنو۔۔۔ ”فیض احمد فیض“
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
