- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- King Charles' latest blow puts Prince Harry to ultimate test
- College GameDay week 2: Start time, location, where to watch
- Olivia Rodrigo breaks new global record with 'you seem pretty sad' album
- Mitch McConnell hasn't been seen in public for 3 months: Will he return to Senate?
- Trump says Yemen's Houthis have asked US not to intervene
- NASCAR legend Gary Myers saw his family make racing history months before his death
- Jennifer Lopez's chai latte nails: Here's how to recreate them
- Prince William to join Tusk Awards celebrating Africa's natural heritage
- RM's birthday gets sweeter as BTS bandmates wish him
- Who are Anthropic researchers who quit over AI doomsday fears?
All Shayari (Urdu, Roman Urdu & English)
A general space for all types of poetry and Shayari. Share your favorite verses or post your own creations in Urdu, Roman Urdu, or English. Express your thoughts, emotions, and creativity through words.
🌙 Poetry Guidelines
Please do not create topics that contain only poetry images.
You may add images to make your post more attractive, but every topic must include written poetry (text) either in the post or description.
If you want to share only poetry images or designs, please use the Gallery section where a dedicated poetry category is available.
“Topics without text may be removed by moderators.”
Thank you for your cooperation.
– FundayForum Team
768 topics in this forum
-
- 0 replies
- 1.2k views
کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کر یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 1.4k views
ﻋﺸـﻖ ﺗﯿـــــــــﺮﺍ ﮐﻤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﮨﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﮨـــﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺗﯿــــﺮﯼ ﻧﻔﺮﺕ ﮨــﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿـﺮﯼ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﺧـــــﯿـﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺫﮐﺮ ﺗﯿــــﺮﺍ ﮨــﮯ ﻟﺐ ﭘﮧ ﻣﯿــﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮨــــﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺩﮬـــﻤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺩﺭﺩ ﺍﻟﻔﺖ ﺳـــــﮯ ﻧﺎﭼـــﻨﺎ، ﺭﺣﻤﺖ ﯾﺎ ﮨـــــــﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻭﺑﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻗﯿـــﺪ ﺳـــــﮯ ﺭﮨﺎ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮨﺮ ﻣﮩــﯿـﻨـﮧ ﻭ ﺳـــــــﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﮏ ﮐــــﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﮬﻮﮞ، ﭘﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺑﺤﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﺳﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮬﻮ ! ﮨﺎﺋــــﮯ ﺗﯿــــــﺮﺍ ﺳـــﻮﺍﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﺟﯿﺴـــﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺭﻭﺡ ﮐـﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﯿـــــﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭــﯿﮟ ﻏــﺰﺍﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘــــﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮﮞ ﺑﺲ ﻧﻘــﺎﻝ ﻣﯽ ﺭﻗﺼﻢ ﻋﺸـــﻖ ﮐﮭﻮﻧـــــﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨــــﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﺱ ﻟﯿــــــ…
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 775 views
ﻣﯿﮉﯼ ﻣَﺮﺽ ﺩﯼ ﻓِﮑﺮ ﻃﺒِﯿﺐ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺟﻮﮌ ﺩﻭﺍ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﻧﮧ ﺷَﺮﺑﺖ ﻋﺮﻕ ﺍِﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﺩﮮ ﻧﮧ ﺑﻮﺗﻼﮞ ﭼﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺗﯿﮉﮮ ﮐُﻞ ﻧُﺴﺨﮯ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮔﺌﮯ ﻧﮧ ﺯﮨﻦ ﮐﮭﭙﺎ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ ﺳﺎﮐُﻮﮞ ﻟﻮﮌ ﻧﺌﯿﮟ ﺗﯿﺮﯾﺎﮞ ﭘَﮭﮑِﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﻣﯿﮑُﻮﮞ ﺳَﺠﻦ ﻣِﻼ ، ﻣﯿﮟ ﭨِﮭﯿﮏ ﮨﺎﮞ
Last reply by Urooj Butt, -
- 1 reply
- 755 views
میں راہِ زندگانی پر قدم جب بھی بڑھاتا ہوں کہیں کانٹوں سے بچنا ہے کہیں دل کو کچلنا ہے کہیں اپنوں کی بے رخیاں کہیں غیروں کے طعنے ہیں میں تھک کر بیٹھ جاتا ہوں نگاہ اوپر اٹھاتا ہوں خدایا رستہ مشکل ہے میں ہمت کم ہی پاتا ہوں کہیں پھر پاس سے دل کے صدا اک خوب آتی ہے کہ راہیں جنّتوں کی کب بھلا آسان ہوتی ہیں ،،؟ کہیں صحرا کی تپتی ریت کہیں طائف کے پتھر ہیں کہیں اپنے ہی تلواریں لیے اس جاں کے در پے ہیں اگرچہ ہے بہت مشکل مگر اس راہ سے پہلے بھی کتنے لوگ گزرے ہیں انہی قدموں پہ چلنا ہے کہ پھر اک حسین منزل تمہاری منتظر ہو گی بس یہ یاد رکھنا تم منازل جب حسیں ہوں تو راہیں دشوار ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 991 views
بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 866 views
شکوہ جوابِ شکوہ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس وحشتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ جان لیوا دہشتیں ہیں عشق میں دیکھا جو میں نے جھانک کر حیرت کدوں میں بارہا دیکھی نہیں ہیں باخدا جو حیرتیں ہیں عشق میں ان کی حزینِ داستاں سن کر بڑا ہی دکھ ہوا ساری کی ساری لٹ گئیں جو راحتیں ہیں عشق میں وعدہ وفا کی آڑ میں کرتے رہے بیوپار جو ہیں تخمِ ناہنجار لوٹیں عصمتیں ہیں عشق میں بے چینیوں کا طبل بجتا ہی رہا دل میں مرے یہ جھوٹ ہے کہتے ہیں جو کہ راحتیں ہیں عشق میں مقتل میں جا کے روٹھ بیٹھے ہیں مرے ارمانِ دل پالا تھا ہم کو شوق سے کہ چاہتیں ہیں عشق میں ان کی جفاوؑں کا …
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 859 views
نفع کی صورت ہؤا ، جتنا بھی خمیازہ ہؤا ، غم سہا جاتا ہے کیسے، ہم کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ زندگی درویش کی مانند ہی میں نے کاٹ دی جب سے مجھ پہ بند اُس کے گھر کا دروازہ ہؤا ۔۔۔ موسمٍ گل! تیرا آنا بھی سزا سے کم نہیں ، وقت نے جو بھر دیا تھا ، زخم پھر تازہ ہؤا ۔۔۔ فکر کا سیاح میرے جیتے جی لوٹا نہیں ، جو مرے احساس میں باقی تھا شیرازہ ہؤا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے دُعا مقبول میری ہو گئ! آج اپنی حیثیت کا مجھ کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ مصلحت کوشی تجھے منزل تلک لے جائے گی! روح کی گہرائیوں میں ایسا آوازہ ہؤا ۔۔۔ تیرے چہرے کی اُداسی وہ چھپا سکتا ہے اب ، آجکل ایجاد پارس ایسا بھی غازہ ہؤا ۔۔۔!
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.1k views
تم ابرِ گریزاں ہو میں صحرا کی مانند ہوں دو بوند جو برسو گے بے کار میں برسو گے ہے خشک بہت مٹی ہر سمت بگولے ہیں صحرا کے بگولوں سے اٹھتے ہوئے شعلے ہیں تم کھل کہ اگر برسو تو صحرا میں گلستاں ہو پر تم سے کہیں کیسے تم ابرِ گریزاں ہو جل تھل جو اگر کر دو تن من میں نمی بھر دو ہے خشک بہت مٹی پوری جو کمی کر دو پھر تم کو بتائیں گے تم میری محبت ہو لیکن تم تو ابرِ گریزاں ہو اور میں صحرا کی مانند ہوں تم ابرِ گریزاں ہو تم ابرِ گریزاں ہو
Last reply by Waqas Dar, -
غزل دیواروں پہ کیا لکھا ہے شہر کا شہر ہی سوچ رہا ہے غم کی اپنی ہی شکلیں ہیں درد کا اپنا ہی چہرہ ہے عشق کہانی بس اتنی ہے قیس کی آنکھوں میں صحرا ہے کو زہ گر نے مٹی گوندھی چاک پہ کوئی اور دھرا ہے عنبر تیرے خواب ادھورے تعبیروں کا بس دھوکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد
Last reply by Hareem Naz, -
گناہ زانیوں کے پاس نئی نئی دلیلیں ہیں نئے نئے الفاظ ہیں بے شمار جواز ہیں بدلتے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ نئے قصے سناتے ہیں سوچ کے نئے زاویے تلاش کرتے ہیں اضطراب کا ایک ہی حل سوچتے ہیں بدبودار لمحات کو بستر کی سلو ٹوں میں سوۓ پوشیدہ تجربات کو شراب کے بُو میں گھول لیتے ہیں پھر اسُ لمحے تھوڑ ا سا سچ بھی بول لیتے ہیں گزرے لذت آشنا تجربات کا بھید بھی کھول لیتے ہیں کسی نئے بدن کی خوشبو میں گمُ میقاس الشباب سے پُر کیف لمحات تک شراب کے جام سے ناف تک راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں دلدل میں اُترتے قدموں کے واسطے کوئی جواز بھی سوچ لیتے ہیں حوا کے بیٹے بنت ِ حوا سے کھیل لیتے ہیں ۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام …
Last reply by Hareem Naz, -
- 6 replies
- 1.3k views
میں لفظ چُنوں .. دلکش چُنوں پھر ان سے تیرا احساس بُنوں تجھے لکھوں میں دھڑکن اس دل کی یا تجھ کو ابر کی رم جھم لکھوں ستاروں کی عجب جھلمل کبھی پلکوں کی تجھے شبنم لکھوں .. کبھی کہہ دوں تجھے میں جاں اپنی کبھی تجھ کو میں اپنا محرم لکھوں کبھی لکھ دوں تجھے ہر درد اپنا کبھی تجھ کو زخم کا مرہم لکھوں تو زیست کی ہے امید میری میں تجھ کو خوشی کی نوید لکھوں لفظوں پہ نگاہ جو ڈالوں کبھی ہر لفظ کو بیاں سے عاجز لکھوں! میں تجھ کو تکوں.. تکتی جاؤں میں تجھ کو میری تمہید لکھوں! تو گفت ہو میرے اس دل کی.. میں تجھ کو فقط شنید لکھوں....
Last reply by Hareem Naz, -
- 0 replies
- 910 views
"لفظوں کے تھکے لوگ" ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے درد دل میں چھپا کے رکھتے ہیں آنکھ ویراں ہے اس طرح ان کی جیسے کچھ بھی نہیں رہا اس میں نہ کوئی اشک نہ کوئی سپنا نہ کوئی غیر نہ کوئی اپنا پپڑیاں ہونٹ پر جمی ایسی جیسے صدیوں کی پیاس کا ڈیرہ جیسے کہنے کو کچھ نہیں باقی درد سہنے کو کچھ نہیں باقی اجنبیت ہے ایسی نظروں میں کچھ بھی پہچانتے نہیں جیسے کون ہے جس سے پیار تھا ان کو کون ہے جس سے کچھ عداوت تھی کون ہے جس سے کچھ نہیں تھا مگر ایک بے نام سی رفاقت تھی سوکھی دھرتی کو ابر سے جیسے ایسی انجان سی محبت تھی رنگ بھرتے تھے سادہ کاغذ پر اپنے خوابوں کو لفظ دیتے تھے اپنی دھڑکن کی بات لکھتے تھے دل کی باتوں کو لفظ دیتے تھے اس کے ہونٹوں سے خامش…
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 836 views
کیا حال سنائیں دُنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا کچھ لوگ مثال ابر رواں کچھ اونچے درختوں کا سایہ کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجا…
Last reply by Urooj Butt, -
- 2 replies
- 1.9k views
جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے لذت غم سے آشنا ہو کر اپنے محبوب سے جدا ہو کر دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا تیرے لب پہ نام ہو گا پیار کا شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا زندگی کے درد کو سہو گے تم دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم زخم دل جب تمہیں ستائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا جب کوئی پیار سے بولائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.7k views
تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا
Last reply by Waqas Dar, -
دشوار
by Urooj Butt- 1 reply
- 929 views
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.2k views
تجھ کا آتا ہی نہیں میری محبت کا یقیں کب سے یہ ہاتھ تیری سمت بڑھا رکھا ہے دل کی گھاٹی میں دبے پاؤں اتر جاتی ہیں تیری آنکھوں نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 1.1k views
اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار راز کی ساری بات سُن لیں گے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا سانس کا شور بھی نہ سُن پائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا آئیے بند کر لیں دروازے رات سپنے چُرا نہ لے جائے کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہو گا
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.7k views
محبت راستہ ہوتی تو اس پہ عمر بهر چلتے کہیں تهک کے جو رک جاتے تو تیری آرزو کرتے تمہیں لا کر خیالوں میں تمهی سے گفتگو کرتے تمهی کو سوچتے پہروں تمهاری جستجو کرتے اگر تم زخم بهی دیتے تو ہم اس کو رفو کرتے کوئی شکوہ گلہ ہو تا تو وہ بھی رو برو کرتے محبت راستہ ہوتی تو اس پر عمر بهر چلتے
Last reply by shawn52, -
- 4 replies
- 1.5k views
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خ…
Last reply by shawn52, -
- 0 replies
- 709 views
،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ،ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ،ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ ،ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ ،ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺧﺪﺍ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﻇﺮ ﺑﮭﯽ ،ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ،ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ،ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ،ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ ،ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ ،ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼﮑّﯽ ،ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﭼﮑّ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 918 views
بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو ۔۔۔۔سلام ہو گا ناں ؟؟ کبھی کبھار ہی لیکن ۔۔پکارتے ہیں تجھے ہمارا چاہنے والوں میں نام ۔۔۔ہو گا ناں ؟؟ افتخار شاہد
Last reply by ADMIN, -
- 4 replies
- 852 views
سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں دل کو برباد روح کو ناشاد خُود کو آباد سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر بار کامل جفا ہمیشہ بے خطا کبھی نہ وفا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں نئے عُذر تراشنا نئے بہانے بنانا جھوٹی قسمیں کھانا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں محبت میں مُنافقت مُنافقت میں رفاقت جُھوٹ میں صداقت سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں یار بدل لینا پیار بدل لینا اطوار بدل لینا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر اِک سے فریب ہونا سراپأِ فریب رہنا دیدہ زیب سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں بے و فائیاں کیسے کرتے ہیں کج ادائیاں کیسے کرتے ہیں…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 778 views
ذات کا گنجل کھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ اس رات کی کالی چادر کو یہ چاند ستارے اوڑھ چکے۔۔۔ کچھ جان سے پیارے یار سجن دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے۔۔۔ خود آپ بھٹکتی راہوں میں یہ تن تنہا مت رول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا اب رات کٹے گی خوابوں میں۔۔۔ میں نام ترے جیون جیون تم اب تک دور سرابوں میں۔۔۔ جو راکھ ہوئی ان خوابوں میں یہ ہستی ہے انمول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ تو جب تک اپنے پاس رہا گرداب کا گھیرا راس رہا۔۔۔ پر تول چکا، سب بول چکا اب من پنچھی بے آس رہا۔۔۔ جذبات نہیں معصیت کے یوں زہر نہ ان میں گھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ دربار لگا ہے زخموں کا دردوں کی نمائش جاری ہے۔۔۔ رِستا ہے لہو ان پھو…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 856 views
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 841 views
دل ﻣﻀﻄﺮ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺗﮍﭘﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﺮﮎِ ﺁﺭﺯﻭ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺎ ﺑﮭﯽ ، ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﺘﻢ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ❤ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1k views
فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمھارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ھیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاوں جیسی ھیں کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے محسن ہم اپنے خواب کی خوشبو خیال کا موسم
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 861 views
کو ئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے کوئی لفظ تحمّل والا ھو کوئی بات کہ جیسے ماں بولے جسے سن کر زخم بھریں دل کے جسے چُھو کے رنج نہ ھو کوئی کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ھو جو جیون بھر کا عطر بنے جو رستہ ھو دیوار نہ ھو کوئی کافی شاہ عنایت سی کوئی رمز بِھٹائی چاھت سی کوئی ھُوک سچل سرمست بھری جس لفظ کی گدڑی کے اندر انسان کی اک پہچان بھی ھو جو پورب پچھم سے آگے بغداد بھی ھو ملتان بھی ھو کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جسے پڑھ کر اک حیرانی ھو جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں ھر مشکل کی آسانی ھو جو طنز نہ ھو تحقیر نہ ھو کوئی ھو جو ایسا شبد لکھے وہ چاھے سنت فقیر نہ ھو بھلے ناسخ غالب میر نہ ھو پر ھو تو سہی کوئی ایسا …
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1k views
میں نازک دل دا مالک ہاں میڈا دل نہ یار دکھایا کر نہ کوڑے وعدے کیتے کر نہ کوڑیاں قسماں چایا کر تیکوں کئی واری میں آکھیا ہے میکوں ول ول نہ آزمایا کر تیڈی یاد وچ "سجن" مر ویساں میکوں اتنا ❤❤❤یاد نہ آیا کر
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 747 views
فُضول بیٹھ کے صفحات بھرتی رہتی ہُوں میں اَپنے آپ کو اِلہام کرتی رہتی ہُوں اَگر ، مگر ، نہیں ، ہرگز کی کند قینچی سے اَنوکھے خوابوں کے پَر ، شَر کترتی رہتی ہُوں میں سانس نگری کی بے حد عجیب مالی ہُوں لگائے پودوں کے بڑھنے سے ڈَرتی رہتی ہُوں نجانے کس نے اُڑا دی کہ ’’ دِن معین ہے ‘‘۔ یقین مانیے میں روز مرتی رہتی ہُوں مرے وُجود کو اَشکوں نے گوندھ رَکھا ہے ذِرا بھی خشک رَہوں تو بکھرتی رہتی ہُوں دُعا کو ہاتھ اُٹھاتی تو اُس پہ حرف آتا اَبھی تو سستی پہ اِلزام دَھرتی رہتی ہُوں کسی کے حُسن کا ہے رُعب اِس قَدَر مجھ پر میں خواب میں بھی گلی سے گزرتی رہتی ہُوں بہت سے شعروں کے آگے لکھا ہے ’’ نامعلوم ‘‘۔ بہت سے شعر میں کہہ کر مکرتی رہتی ہُوں اُدھورے قص…
Last reply by ADMIN,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
