- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- King Charles' latest blow puts Prince Harry to ultimate test
- College GameDay week 2: Start time, location, where to watch
- Olivia Rodrigo breaks new global record with 'you seem pretty sad' album
- Mitch McConnell hasn't been seen in public for 3 months: Will he return to Senate?
- Trump says Yemen's Houthis have asked US not to intervene
- NASCAR legend Gary Myers saw his family make racing history months before his death
- Jennifer Lopez's chai latte nails: Here's how to recreate them
- Prince William to join Tusk Awards celebrating Africa's natural heritage
- RM's birthday gets sweeter as BTS bandmates wish him
- Who are Anthropic researchers who quit over AI doomsday fears?
Famous Urdu Poets
Explore profiles and poetry of famous Urdu and international poets. Discover timeless verses from legends like Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Faiz Ahmed Faiz, and many more. Share your favorite poets and their best poetry with the community.
📜 Poet Section Rules
Please post content related to specific poets only.
• Create topics using the poet’s name (e.g., “Mirza Ghalib Poetry”, “Faiz Ahmed Faiz Shayari”)
• Share authentic poetry and mention the poet’s name clearly
• Avoid posting random or unrelated poetry in this section
• Do not post only images — include text (poetry) in your post
• Respect copyright and give credit where possible
Topics that do not follow these rules may be edited or removed.
– FundayForum Team
-
- 2 replies
- 2.1k views
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
Last reply by Hareem Naz, -
- 3 replies
- 1.6k views
ھُوں مَیں احوال فراموش مِرے ساتھ رھو آج سچ مُچ ھُوں مَیں بےہوش مِرے ساتھ رھو میری مستی کو ہے آغوشِ محبّت کی ھوَس اور نایاب ہے آغوش مِرے ساتھ رھو اے مِرے ہم نفسانِ روِش نیم شبی ھوچُکی بادہ سر جوش مِرے ساتھ رھو بس سُنے جاؤ تُمھاری ھی کہے جاؤں گا میرے یارو ہمہ تن گوش مِرے ساتھ رھو خواب کی شب کا ھُوں مَیں ھی تو بس خوش گُفتار خواب کے شہر میں خاموش مِرے ساتھ رھو کیا خبر راہ میں مُجھ سے کوئی سر ٹکرا دے ھوں گے کُچھ اور بھی مدھوش مِرے ساتھ رھو پی کے آیا تھا مَیں پھر ساتھ تمھارا بھی دیا میکشو تُم کہ ھو کم نوش مِرے ساتھ رھو وعدہء شام کا مطلب ہے سَحر کا وعدہ وہ ہے اِک وعدہ فراموش مِرے ساتھ رھو تُم مِرے ساتھ رھو مست خیالو تم کو…
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.5k views
یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں …
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 1.5k views
رَنـــجِ فـــراقِ یار میں رُســــوا نہیں ہُوا اتنا مــــیں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا ایساسفر ہےجس میں کوئی ہمسفر نہیں رستہ ہے اس طــرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا مشکل ہُوا ہے رہنا ہمـــیں اِس دیار مــیں برسوں یہاں رہے ہـــیں ، یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شــہر سے یا شــہر سے ہُوا جــو کام بھی ہُوا ، یـــہاں اچھا نہیں ہُوا ملنا تھا ایک بار اُسے پھـــر کہیں ' منیرؔ ایسا مـــیں چاھتا تھا، پر ایسا نہیں ہُوا؎! منیر نیازی
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 1.9k views
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.4k views
اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی
Last reply by Urooj Butt, -
- 3 replies
- 2k views
کب اس کا وصال چاہیے تھا بس اک خیال چاہیے تھا کب دل کو جواب سے غرض تھی ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا شوق اک نفس تھا اور وفا کو پاسِ مہ و سال چاہیے تھا اک چہرہِ سادہ تھا جو ہم کو بے مثل و مثال چاہیے تھا اک کرب میں ذات و زندگی میں ممکن کو مُحال چاہیے تھا میں کیا ہوں بس اک ملالِ ماضی اس شخص کو حال چاہیے تھا ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو کچھ دن تو ملال چاہیے تھا وہ جسم ، جمال تھا سراپا اور مجھ کو جمال چاہیے تھا وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا تھا وہ جو کمال' شوقِ وصلت خواہش کو زوال چاہیے تھا جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے وہ سال بہ سال چاہیے تھا جون_ایلیاء
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.9k views
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے…
Last reply by Sherry, -
- 1 reply
- 2.5k views
بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق …
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.5k views
Ik hunar hai jo kar gaya hon mein Sab ke dil se utar gaya hon mein Kaise apni hansi ko zabt karon Sun raha hon ki ghir gaya hon mein Kya bataon ki mar nahin paata Jeeteji jab se mar gaya hon mein Ab hai bas apna samna darpaish Har kisi se guzar gaya hon mein Wahi naaz-o-ada wahi ghamze Sar-ba-sar aap par gaya hon mein Ajab ilzam hon zamane ka Ki yahan sab ke sar gaya hon mein Kabhi ḳhud tak pohanch nahin paaya Jab ki waan umar bhar gaya hon mein Tum se janan mila hon jis din se Be-tarah ḳhud se dar gaya hon mein Koo-e-janan main sog barpa hai Ki achanak sudhar gaya hon mein
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2.1k views
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 1 reply
- 1.8k views
Sawan Ki Buniyad Mein Ye Kis K Ansuu Hain? Sadion Phly Shaid Koi.. Sadion Bhet K Roya Hai
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2k views
یوں چھوڑ کے جاتے نہ مجھے بے سرو ساماں کر لیتے مری جاں یہ ستم اور زیادہبڑھتا ہے تری یاد سے غم اور زیادہ روتے ہیں کہیں بیٹھ کے ہم اور زیادہ یوں چھوڑ کے جاتے نہ مجھے بے سرو ساماں کر لیتے مری جاں یہ ستم اور زیادہ اس دل پہ ابھی آبلے پڑنے ہیں بہت سے یہ مٹی ابھی ہونی ہے نم اور زیادہ بے کار گزر جاتی ہے معمولی سی مہلت ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کم اور زیادہ اچھا ہے کہ چھپ چھپ کے سسکتے رہو ورنہ کھل جائے گا لوگوں پہ بھرم اور زیادہ فرحت عباس شاہ
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.4k views
دیوانی متواری نی میں منت کر کر ہاری نی میں دیوانی متواری نی میں بے کل بے کل کس بن جاؤں خار ہی خار ہیں جس بن جاؤں تیرے پریم کی ماری نی میں دیوانی، متواری نی میں ماتھے پر سو چاند سجایا پاؤں کی نوک سے جگ ٹھکرایا رہی کنیز تہاری نی میں دیوانی، متواری نی میں من آنگن میں سج بن آئے پیا تو مورے جج بن آئے صدقے نی میں واری نی میں دیوانی، متواری نی میں شاہ ہنسیں تو گرما جاؤں پل پل، چھل بل شرما جاؤں الہڑ نار، کنواری نی میں دیوانی، متواری نی میں فرحت عباس شاہ
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.9k views
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے نوشی گیلانی
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 2.1k views
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا…
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 1.9k views
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں بڑھ گئی اس حد تلک بے اعتمادی تجھ کو تجھ سے بھی چھپانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں اس لیے کی ہے تڑپنے کی تمنا رقص کرنے کا بہانا چاہتا ہوں آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں جو بنا باعث مری ناکامیوں کا میں اُسی کے کام آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی پراندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں پھول سے پیکر تو نکلے بے مروّت پتھروں کو آزمانا چاہتا ہوں رہ گئی تھی کچھ کمی رسوائیوں میں پھر قتیل اُس در پہ جانا چاہتا ہوں قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 3.1k views
فرحت عباس شاہ میرا شام سلونا شاہ پیا ♡ کبھی جڑوں میں زہر اتار لِيا کبھی لبوں کے پیچھے مار لِيا اس ڈر سے کہ دُکھ کی شدت میں کہیں نکل نہ جائے آہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں جنگل جنگل بھٹکا دو ہمیں سُولی سُولی لٹکا دو جو جی چاہے سو يار کرو ہم پڑ جو گئے تيری راہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ تيری شکل بصارت آنکھوں کی تيرا لمس رياضت ہاتھوں کی تيرا نام لبوں کی عادت ہے ميری اک اک سانس گواہ پِيا ميرا شام سالونا شاہ پِيا ♡ کہیں روح میں پياس پُکارے گی کہیں آنکھ میں آس پُکارے گی کہیں خون کہیں دل بولے گا کبھی آنا مقتل گاہ پِيا ميرا شام سلونا شاہ پِيا ♡ ہمیں مار گئی تيری چاہ پِيا ♡
Last reply by Sherry, -
- 1 reply
- 1.9k views
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں صد شُکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں،دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچہء جاناں میں، کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے،اس جاں کی تو کوئی بات نہیں میدانِ وفا دربار نہیں ، یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں گر بازی عشق کی بازی ہے،جو چاہو لگا دو ڈر کیسا گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں (فیض احمد فیض)
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.9k views
ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں ہے گھٹن اتنی کہ لفظو…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.2k views
فیض احمد فیض ہم پر تُمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے دُشنام تو نہیں ہے، یہ اِکرام ہی تو ہے دِل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے لبمی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن، کوئی جُرم تو نہیں شوقِ فضُول و اُلفتِ ناکام ہی تو ہے دِل مُدّعی کے حرفِ مَلامت سے، شاد ہے اے جانِ جاں ! یہ حرف تِرا نام ہی تو ہے ! دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں دستِ فلک میں گردشِ ایّام ہی تو ہے ! آخر تو ایک روز، کرے گی نظر وفا وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے بھیگی ہے رات، فیض! غزل اِبتدا کرو وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے فیض احمد فیض
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 2.8k views
غیر کے چاک گریباں کو بھی ٹانکا کیجے اور کچھ اپنے گریباں میں بھی جھانکا کیجے بن کے منصف جو کٹہروں میں بلائیں سب کو اس ترازو میں ذرا خود کو بھی جانچا کیجے خود میں دعویٰ جو بڑائی کا لئے پھرتے ہیں یہ بھی فتنہ ہے ذرا اس کو بھی چلتا کیجے سب کو دیتے ہیں سبق آپ بھلے کاموں کا پہلے اس فن میں ذرا خود کو تو یکتا کیجے راستی پر ہیں فقط آپ غلط ہیں سارے اس تعصب میں حقیقت کو نہ دھندلا کیجے ہے توقع کہ محبت سے سبھی پیش آئیں خود محبت سے کوئی ایک تو اپنا کیجے اور کے نقص پہ جو اُگلے زباں تیری زہر اپنے حصے کا ذرا زہر بھی پھانکا کیجے برہمی ٹھیک ہے جاہل کی جہالت پہ مگر علم حاضر ہے ذرا خود کو تو بینا کیجے کاہے ابرک ہے گلہ رات کی تاریکی کا آ…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 2.6k views
اپنے تن دی خبر نہیں سجن دی خبر لوےکون؟ نہ میں خاکی نہ میں آتِش نہ پانی نہ پاوُن اپنے تن دی خبر نہیں سجن دی خبر لوےکون؟ نہ میں خاکی نہ میں آتِش نہ پانی نہ پاوُن وے بُهلیاں سائیاں وے گُهٹ گُهٹ روئیاں ِ وے بُهلیاں سائیاں وے گُهٹ گُهٹ روئیاں جِنوں آٹے وِچ لون ، جِنوں آٹے وِچ لون اپنے تن دی خبر نہیں سجن دی خبر لوےکون؟ اساں نازک دل دے لوک آں ساڈا دل نہ یار دُکهایاکر نہ چهوٹے وعدے کیتا کر نہ چهوٹی کسماں کهایا کر تینوں کینی واری آکهیاں اے سانو اَل وَل نہ آزمایہ کر تیرے پیار دے وچ میں مر جاسا مینوں اینا یاد نہ آیا کر سجنہ وے آ جا وے مُڑچهیتی نئ اُڈیکاں تیریاں دُبدہ پهرے گا فیرلبنیاں تینوں مٹی دییاں ڈیهریاں سجنہ وے آ جا وے مُڑچهیتی نئ…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 2 replies
- 2.5k views
اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگان…
Last reply by Sherry, -
- 2 replies
- 3.2k views
Short Biography of Nasir Kazmi a Poet of Modern Urdu Ghazal ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925 ہندوستانی پنجاب کے شہر امبالہ میں ایک ہندوستانی رائل آرمی کے ایک صوبیدار میجر محمد سلطان کے گھر پیدا ہوئے والد کی نوکر ی کی وجہ سے ناصر کو کئی شہروں میں رہنے کا موقع ملتا رہا۔ مگر ناصر کاظمی نے اپنا میٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول انبالہ سے پاس کیا۔ پھر کالج کی تعلیم کے لیے وہ لاہور کے اسلامیہ کالج آگئے جہاں پر وہ ہاسٹل میں رہائش پزیر رہے۔باوجود اس کے ناصر کاظمی رفیق خاور کے چہیتے شاگرد رہے ناصر کا دل جانے کیو ں پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ۔۔ اور نا صر نے اپنا بی اے بھی ادھورا چھوڑ دیا اور تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر کاظمی لاہور منتقل ہوگئے مگر جلد ہی ان…
Last reply by ADMIN, -
- 2 replies
- 1.9k views
ہم رات بہت روئے، بہت آہ و فغاں کی دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی اس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو کہتے ہو کبھی جا کے وہاں بات یہاں کی ؟ اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی ہوتا ہے یہی عشق میں انجام سبھی کا باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں غزلیں یہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو تاراج کرو زندگیاں اہلِ جہاں کی انشاؔ سے ملو، اس سے نہ روکیں گے وہ، لیکن اُس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام، میاں کی اے دوستو! اے دوستو! اے درد نصیبو گلیوں میں، چلو سیر کریں، شہرِ بتاں کی ہم جائیں کسی سَمت، کسی چوک میں ٹھہر…
Last reply by ADMIN, -
- 0 replies
- 2.4k views
زندگی کی بے سمتی... دیکھ تجھ سے ہاری میں خامشی سے ہاری میں جان تجھ پہ واری میں تِیرگی کے موسم میں روشنی …پُکاری میں عشِق میں بکھرنے تک حوصلہ نہ ہاری میں ڈھونڈنے نے وفا نِکل قِسمتوں کی ماری میں اُس طرف زمانہ تھا اِس طرف تھی ساری میں زندگی کی بے سمتی دیکھ تجھ سے باری میں
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.4k views
I Am A Good Person to Forgive You.. but not Stupid Enough to trust U Again!!!!! cxrazy _MaNo .....MaNu....
Last reply by ADMIN, -
- 0 replies
- 2.9k views
درد سینے میں ہوا نوحا سرا تیرے بعد دل کی دھڑکن ہے کہ ماتم کی صدا تیرے بعد محسن نقوی دشتِ ہجراں میں نہ سایہ نہ صدا تیرے بعد کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد کوئی پیغام نہ دلدارِنوا تیرے بعد خاک اڑاتی ہوئی گزری ہے صبا تیرے بعد لب پے اک حرفِ طلب تھا نہ رہا تیرے بعد دل میں تاثیر کی خواہش نہ دعا تیرے بعد عکس و آئینہ میں اب ربط ہو کیا تیرے بعد ہم تو پھرتے ہیں خود اپنے سے خفا تیرے بعد دھوپ عارض کی نہ زلفوں کہ گھٹا تیرے بعد ہجر کی رت ہے کہ محبس کی فضا تیرے بعد لیئے پھرتی ہے سرِ کوئے جفا تیرے بعد پرچمِ تار گریباں کو ہوا تیرے بعد پیرہن اپنا نہ سلامت نہ قبا تیرے بعد بس وہی ہم ہیں وہی صحرا کی ردا تیرے بعد نکہت و نے ہے ن…
Last reply by Zarnish Ali, -
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
