- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Kate Middleton's chic look came amid uncertainty with Prince William
- Anthropic CEO urges AI companies to slow model development amid fears over misuse
- Harry, Meghan take heat off Andrew, Sarah Ferguson with one bold move
- LG denies Smart TV spying claims: What is found, how to protect yourself
- Dylan O'Brien honours Taylor Swift for direction in 'All Too Well'
- Babar 'confident' to continue as Pakistan's Test captain despite England whitewash
- Prince Harry and Meghan honour 9/11 heroes with powerful tribute
- Apple TV leads 2026 Emmys nights 1-2 with record 20 early wins
- Suki Waterhouse roasts Role Model in new social media update
- Prince William reaches out to Earthshot finalist amid Nepal disaster
Famous Urdu Poets
Explore profiles and poetry of famous Urdu and international poets. Discover timeless verses from legends like Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Faiz Ahmed Faiz, and many more. Share your favorite poets and their best poetry with the community.
📜 Poet Section Rules
Please post content related to specific poets only.
• Create topics using the poet’s name (e.g., “Mirza Ghalib Poetry”, “Faiz Ahmed Faiz Shayari”)
• Share authentic poetry and mention the poet’s name clearly
• Avoid posting random or unrelated poetry in this section
• Do not post only images — include text (poetry) in your post
• Respect copyright and give credit where possible
Topics that do not follow these rules may be edited or removed.
– FundayForum Team
-
- 2 replies
- 2.6k views
تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادی ء رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب ! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی ؟ میری محبوب ! پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جزبے ان کے لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر ، یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں سینہ ء دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جزب ہے ان میں ترے اور مرے…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 2 replies
- 1.5k views
میں اس کے ہاتھ نہ آؤں اور وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تومیری پستیوں کا ساتھی ہو افتخارعارف دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں اور وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تومیری پستیوں کا ساتھی ہو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ہو کرے کلام مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں اور وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے میرے حوالے سے میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
Last reply by Hareem Naz, -
- 0 replies
- 1.6k views
ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے پروین شاکر عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے ! ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ ! آپ سوتے رہ جائیں، اور ہات ہوجائے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.7k views
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی کوئے ستم میں سب کو خطا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جد اکر چکے ہیں ہم ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے سو بار اُن کی خو کا گِلا کر چکے ہیں ہم فیض احمد فیض
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.8k views
Khwaba hi khwab tha خواب ہی خواب تھا، تصویریں ہی تصویریں تھیں یہ ترا لطف، ترے مہر و محبت، لیکن تیرے جانے سے یہ جینے کے بہانے بھی چلے تجھ کو ہونا تھا کسی روز تو رخصت لیکن اپنا جینا بھی کوئی دن ہے، ہمیشہ کا نہیں تو نے کچھ روز تو دی زیست کی لذّت لیکن پھر وہی دشت ہے، دیوانگئ دل بھی وہی پھر وہی شام، وہی پچھلے پہر کا رونا اب تری دید، نہ وہ دور کی باتیں ہوں گی......................... ابن انشا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 2k views
گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیںجانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں اے مجھے جاگتا پاتی ہوئی رات وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں بھیڑ میں کھویا ہوا بچہ تھا اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں مجھ کو تکمیل سمجھنے والا اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں بند کمرے میں کبھی میری طرح شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں میری خود داری برتنے والے تیرا پندار بھی ٹوٹا کہ نہیں الوداع ثبت ہوئی تھی جس پر اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں پروین شاکر
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 1.2k views
ab tak na khul sakha اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! کس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون! سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں؟ مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون! ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تو سوال تجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تو ہے کون! اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے تاروں کی رہگزر میں یہ ماہ رو ہے کون! باہر کبھی تو جھانک کے کھڑکی سے دیکھتے، کس کو کو پکارتا ہوا یہ کُو بہ کُو ہے کون! آنکھوں میں رات آ گئی لیکن نہیں کُھلا میں کس کا مدعا ہوں؟ مری جستجو ہے کون! کس کی نگاہِ لُطف نے موسم بدل دئیے فصلِ خزاں کی راہ میں یہ مُشکبو ہے کون! بادل کی اوٹ سے کبھی تاروں کی آڑ سے چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو …
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 1.4k views
یہ اگر انتظام ہے ساقی پھر ہمارا سلام ہے ساقی آج تو اذن عام ہے ساقی رات رندوں کے نام ہے ساقی میرے ساغر میں رات اُتری ہے چاند تاروں کا جام ہے ساقی ایک آئے گا،ایک جائے گا مے کدے کا نظام ہے ساقی جام ٹوٹے ،صراحیاں ٹوٹیں یہ بھی اک قتل عام ہے ساقی تیرے ہاتھوں سے پی رہا ہوں شراب مے کدہ میرے نام ہے ساقی بشیر بدر
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 2.4k views
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے، اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں، اک پیاس کے دونوں پیاسے ہیں ہم کھیتی ہیں، تم بادل ہو، ہم ندیا ہیں تم ساگر ہو یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں، اک درد کا پھوڑا الہڑ سا نہ گپت رہے، نہ پھوٹ بہے، کوئی مرہم ہو، کوئی نشتر ہو ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں، تم چڑھتی رات کی چندرما ہم جاتے ہیں، تم آتے ہو، پھر میل کی صورت کیونکر ہو اب حسن کا رتبہ عالی ہے، اب حسن سے صحرا خالی ہے چل بستی میں بنجارہ بن، چل نگری میں سوداگر ہو وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں، وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں، جب دکھ کا سورج سر پر ہو اب انشاء جی کو بلانا کیا، اب پیار کے دیپ جلانا…
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 2.3k views
یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو ک…
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.5k views
ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ! ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮑﻮﺕ ِ ﺷﺐ ِ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ِ ﺟﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﭘﺎﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﻣﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ ﻣﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮨﻮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.9k views
یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا اپنے خطوں کے لفظ، جلانے پڑے مجھے شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 5k views
میں چاہنے والوں کو مخاطب نہیں کرتا اور ترک تعلق کی میں وضاحت نہیں کرتا میں اپنی جفاؤں پہ نادم نہیں ہوتا میں اپنی وفاؤں کی تجارت نہیں کرتا خوشبو کسی تشہیر محتاج نہیں ہوتی سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا احساس کی سولی پہ لٹک جاتا ہوں اکثر میں جبر مسلسل کی شکائیت نہیں کرتا میں عظمت انسان کا قائل تو ہوں محسن لیکن کبھی بندوں کی میں عبادت نہیں کرتا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.5k views
مل گیا تھا تو اُسے خود سے خفا رکھنا تھا دل کو کچھ دیر تو مصروفِ دُعا رکھنا تھا میں نا کہتا تھا کے سانپوں سے اَٹے ہیں راستے گھر سے نکلے تھے تو ہاتھوں میں عصا رکھنا تھا بات جب ترکِ تعلق پہ ہی ٹھہری تھی تو پھر دل میں احساسِ غمِ یار بھی کیا رکھنا تھا دامن موجِ ہوا یوں تو نا خالی جاتا گھر کی دہلیز پہ کوئی تو دِیا رکھنا تھا کوئی جگنو تہہِ داماں بھی چھپا سکتے تھے کوئی آنسو پسِ مژگاں ہی بچا رکھنا تھا کیا خبر اُس کے تعاقب میں ہوں کتنی سوچیں ¿ اپنا انداز تو اوروں سے جدا رکھنا تھا چاندنی بند کواڑوں میں کہاں اُترے گی ¿ اِک دریچہ تو بھرے گھر میں کھلا رکھنا تھا اُس کی خوشبو سے سجانا تھا جو دل کو محسؔن اُس کی سانسوں کا لقب موجِ صبا رکھنا تھا (محسن نقو…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
Chahat ka rang th na wafa ki lakeer thi چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کي لکير تھي قاتل کے ہاتھ ميں تو حنا کي لکير تھي خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا ميرے لبوں پہ حرف دعا کي لکير تھي ميں کارواں کي راہ سمجھتا رہا جسے صحرا کي ريت پر وہ ہوا کي لکير تھي سورج کو جس نے شب کے اندھيروں ميں گم کيا موج شفق نہ تھي وہ قضا کي لکير تھي گزرا ہے سب کو دشت سے شايد وہ پردہ دار ہر نقش پا کے ساتھ ردا کي لکير تھي کل اس کا خط ملا کہ صحيفہ وفا کا تھا محسن ہر ايک سطر حيا کي لکير تھي
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 2.4k views
ABHI JURM-MUHABBAT MAI FAQT BHEEGI HAIN YA ANKHAIN ابھی جرمِ محبت میں فقط بھیگی ہیں یہ آنکھیں ابھی تو ہجر کے دشت و بیاباں پار کرنے ہیں ابھی ان ریگزاروں میں لہو بہنا ھے وعدوں کا ابھی راہوں کے سب کا نٹے مجھے پلکوں سے چننے ہیں ابھی پر خار راہوں میں مجھے تنہا نہیں چھوڑو ابھی تو ٹھیک سے مجھکو سنبھلنا بھی نہیں آتا رسیور میں مقید ہیں تمہارے رس بھرے لہجے ابھی پاؤں سے لپٹے ہیں وصال و قرب کے لمحے ہمارے درمیان رشتے ابھی نازک سے دھاگے ہیں انہیں جھٹکے سے مت کھولو یہ سارے ٹوٹ جائیں گے ابھی تم ہاتھ مت چھوڑو سنو کچھ دن ٹھہر جاؤ تیرے لہجے سے لگتا ھے بچھڑنا اب مقدر ھے پلٹنا گر ضروری ھے چلو کچھ خواب دے جاؤ جلا کے انہی خوابوں کو اندھیرے دور کر لوں گی تمہاری ر…
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 3.1k views
--- احمد فراز --- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اس پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.6k views
کب تلک مدعا کہے کوئی نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی غیرت عشق کو قبول نہیں کہ تجھے بے وفا کہے کوئی منتِ ناخدا نہیں منظور چاہے اس کو خدا کہے کوئی ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف کس کو درد آشنا کہے کوئی کون اچھا ہے اس زمانے میں کیوں کسی کو برا کہے کوئی کوئی تو حق شناس ہو یارب ظلم کو ناروا کہے کوئی وہ نہ سمجھیں گے ان کنایوں کو جو کہے برملا کہے کوئی آرزو ہے کہ میرا قصہء شوق آج میرے سوا کہے کوئی جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی دیوان (ناصر کاظمی)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 4 replies
- 2.2k views
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستا ہو جائیں دیر سے سوچ میں ہیں پروانے راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں ( احمد فراز )
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 1.8k views
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.6k views
ﺩﮐﮫ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﯿﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮈﻭﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﺮﺩ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﺳﯽ ﮔﻬﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﻧﺴﻮ ! ﭘﻠﮑﯿﮟ ﺭﻭﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﮧ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺐ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﮐﻬﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮐﮫ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ !... ﻓﺮﺣﺖ ﻋﺒﺎﺱ ﺷﺎﮦ
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.4k views
بھول شاید ہیت بڑی کر لی دل نے دنیا سے دوستی کرلی تم محبت کو کھیل کہتے ہو ہم نے برباد ذندگی کرلی۔۔ اس نے دیکھا بڑی عنایت سے آنکھوں ٓآنکھوں میں بات بھی کرلی عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کر لی ہم نہیں جانتے چراغوں نے کیوں ٓاندھیوں سے دوستی کرلی ڈھڑکنے دفن ہو گئی ہونگی دل میں دیوار کیوں کھڑی کرلی بشیر بدر
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا! آئینہ بات کرنے پہ مجبور ہو گیا دادی سے کہنا اس کی کہانی سنائیے جو بادشاہ عشق میں مزدور ہو گیا صبح وصال پوچھ رہی ہے عجب سوال وہ پاس آ گیا کہ بہت دور ہو گیا کچھ پھل ضرور آئیں گے روٹی کے پیڑ میں جس دن مرا مطالبہ منظور ہو گیا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.3k views
میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو میں یہ چاہتا تھا یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثہ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو میری دعا میں اثر نہ ہو میرے دل کے جادہٴ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کے تمہیں بھی اسکی خبر نہ ہو اسی احتياط میں ساری عمر گزر گئی وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو، وہی مر گئی اسی کشمکش نے کئی سوال اٹھاے ہیں وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں مرے دل کے جادہٴ خوش خبر کے رفیق تم ہی بتاؤ پھر کے یہ كاروبارِ حیات کس کے حساب میں مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے اک خواب ہے اور ت…
Last reply by Kainat Khan, -
- 2 replies
- 1.5k views
دل اداس رہتا ہے بارشوں کے موسم میں زندگی پگھلتی ہے خواہشوں کے موسم میں وقت ٹھہر جاتا ہے منتظر نگاہوں میں جنگلوں کے خطرے ہیں بستیوں کی راہوں میں ہو سکے تو لوٹ آنا پیار کی پناہوں میں عشق کا اجارہ ہے دل کی شاہراہوں پر فرحت عباس شاہ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 6 replies
- 2.7k views
آ ئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میں گلدستۂ نگاہِ سویدا کہیں جسے پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا افسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیے وہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاں شوقِ عناں گسیختہ، دریا کہیں جسے درکار ہے شگفتنِ گلہائے عیش کو صبحِ بہار پنبۂ مینا کہیں جسے غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے ایسا بھی کو ئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 2.6k views
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر سوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں چیختا ہوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں وہ جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ اس عمارت میں اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں خون تھوکا گیا شرارت میں وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں زندگی کس طرح بسر ہو گی دل نہیں لگ رہا محبت میں
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.7k views
وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا پروین شاکر
Last reply by jannat malik, -
- 19 replies
- 4.8k views
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کردو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کردو تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کردو اس کے سائے میں مرے خواب دھک اُٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اس قدر برسو میری روح میں جل تھل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھل کر دو تم چھپا لو مرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجل کردو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حل کردو اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے …
Last reply by Waqas Dar, -
- 11 replies
- 5.1k views
خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا! ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے خود نگران دل زدہ ، د…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
