- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Kate Middleton's chic look came amid uncertainty with Prince William
- Anthropic CEO urges AI companies to slow model development amid fears over misuse
- Harry, Meghan take heat off Andrew, Sarah Ferguson with one bold move
- LG denies Smart TV spying claims: What is found, how to protect yourself
- Dylan O'Brien honours Taylor Swift for direction in 'All Too Well'
- Babar 'confident' to continue as Pakistan's Test captain despite England whitewash
- Prince Harry and Meghan honour 9/11 heroes with powerful tribute
- Apple TV leads 2026 Emmys nights 1-2 with record 20 early wins
- Suki Waterhouse roasts Role Model in new social media update
- Prince William reaches out to Earthshot finalist amid Nepal disaster
Famous Urdu Poets
Explore profiles and poetry of famous Urdu and international poets. Discover timeless verses from legends like Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Faiz Ahmed Faiz, and many more. Share your favorite poets and their best poetry with the community.
📜 Poet Section Rules
Please post content related to specific poets only.
• Create topics using the poet’s name (e.g., “Mirza Ghalib Poetry”, “Faiz Ahmed Faiz Shayari”)
• Share authentic poetry and mention the poet’s name clearly
• Avoid posting random or unrelated poetry in this section
• Do not post only images — include text (poetry) in your post
• Respect copyright and give credit where possible
Topics that do not follow these rules may be edited or removed.
– FundayForum Team
-
- 4 replies
- 2.3k views
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
Last reply by Zarnish Ali, -
-
- 3 replies
- 2.7k views
ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﻨﮕﮭﭧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﻠﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻮﮞ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻧﺎﭼﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﺎ ﮐﮯ ﻣُﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﻮﮞ ﻣﻮﮨﮯ ﭘﻨﮕﮭﭧ ﮐﯽ ﺭﺍﻧﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻣﯿﻠﮧ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺳﺠﻦ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﮭﻨﮑﺎﺭ ﮨﺮ ﺁﻡ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﭼﺒﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﺍﺏ ﺗﻮ ﭘﺎﺋﻞ ﺑِﻨﺎﮞ ﮐﻞ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮑﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻼﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮫ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ___________________________قتیل شفائی !!!
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2k views
Chura ky ly gaya jaam aur payas choor gaya چُرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا وہ ایک شخص جو مجھ کو اُداس چھوڑ گیا جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر وہ ایک دھند مرے آس پاس چھوڑ گیا غزل سجاؤں قتیلؔ اب اُسی کی باتوں سے وہ مُجھ میں اپنے سُخن کی مٹھاس چھوڑ گیا قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.3k views
اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم ایک ساعت بھی شبِ وَصل کی بھولی نہ ہمیں آج بھی تیری ملن رات پہ مجبور ہیں ہم چشمِ تر قَلب حزیِں آبلہ پاؤں میں لئے تری الفت سے ترے پیار سے معمور ہیں ہم انکی محفل میں ہمیں اِذنِ تکّلم نہ ملا ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم یوں ستاروں نے سنائی ہے کہانی اپنی گویا افکار سے جذبات سے محروم ہیں ہم اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم تیرا بیگانوں سا ہم سے ہے رویہ محسن باوجود اس کے ترے عشق میں مشہور ہیں ہم محسن نقوی
Last reply by Kainat Khan, -
- 2 replies
- 1.8k views
Mai Dil Pe jabar Kero Ga, Tuje Bhula Dun Ga میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی میرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو ؟ میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسماں کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، نشانیاں تیری میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 2.1k views
Mere Qaatil Ko Pukaro Ky Mai Zinda Hun Abhi میرے قاتل کو پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی پھر سے مقتل کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ شب ہجر تو ساتھی ہے میری برسوں سے جاؤ سو جاؤ ستارو کے میں زندہ ہوں ابھی یہ پریشان سے گیسو دیکھے نہیں جاتے اپنی زلفوں کو سنوارو کے میں زندہ ہوں ابھی لاکھ موجوں میں گھرا ہوں ، ابھی ڈوبا تو نہیں مجھ کو ساحل سے پکارو کے میں زندہ ہوں ابھی قبر سے آج بھی محسن کی آتی ہے صدا تم کہاں ہو میرے یارو کے میں زندہ ہوں ابھی محسن نقوی شہید
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.4k views
یہ سال بھی اُداس رہا رُوٹھ کر گیا تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی ہر لمحہ برگِ زرد کی صورت بکھر گیا کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتے میں ڈر گیا جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.3k views
ہر گھڑی رائیگاں گزرتی ہے زندگی اب کہاں گزرتی ہے درد کی شام، دشتِ ہجراں سے صُورتِ کارواں گزرتی ہے شب گراتی ہے بجلیاں دل پر صبح آتش بجاں گزرتی ہے زخم پہلے مہکنے لگتے تھے اب ہوا بے نشاں گزرتی ہے تُو خفا ہے تو دل سے یاد تری کس لیے مہرباں گزرتی ہے اپنی گلیوں سے امن کی خواہش تن پہ اوڑھے دھواں گزرتی ہے مسکرایا نہ کر کہ محسن پر یہ سخاوت گراں گزرتی ہے (محسن نقوی)
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.9k views
Bajiz hawa koi jaane na silsile tere ! ! ﺑﺠﺰ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ، ﮐﺮﻭﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ؟ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻧﮕﺎﺭِ ﭼﻤﻦ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﻧﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺋﻘﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ﺗﮭﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻋﮑﺲ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﮏ ﮐﮩﻮﮞ ﺳﻨﺎﺅﮞ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻼ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺗﯿﺮﮮ ! ﺟﺪﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺭﻻ ﮔﯿﺎ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺟﻼﺅﮞ ﺗﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻭﮦ ﺭﺗﺠﮕﮯ ﺗﯿﺮﮮ ، ﮨﻮﺍﺋﮯ ﻣﻮﺳﻢِ ﮔﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﺭﯾﺎﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﻓ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.9k views
CHAHRA PARHTA, ANKHAIN LIKHTA REHTA HUN چہرے پڑھتا، آنکھيں لکھتا رہتا ہوں ميں بھي کيسي باتيں لکھتا رہتا ہوں؟ سارے جسم درختوں جيسے لگتے ہيں اور بانہوں کو شاخيں لکھتا رہتا ہوں مجھ کو خط لکھنے کے تيور بھول گئے آڑي ترچھي سطريں لکھتا رہتا ہوں تيرے ہجر ميں اور مجھے کيا کرنا ہے؟ تيرے نام کتابيں لکھتا رہتا ہوں تيري زلف کے سائے دھيان ميں رہتے ہيں ميں صبحوں کي شاميں لکھتا رہتا ہوں اپنے پيار کي پھول مہکتي راہوں ميں لوگوں کي ديواريں لکھتا رہتا ہوں تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا ہجر کي ساري باتيں لکھتا رہتا ہوں سوکھے پھول، کتابيں، زخم جدائی کے تيري سب سوغاتيں لکھتا رہتا ہوں اس کي بھيگي پلکيں ہستي رہتي ہيں محسن ج…
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.9k views
ﻋﺠﺐ ﺧﻮﻑ ﻣﺴﻠﻂ ﺗﮭﺎ ﮐﻞ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻼﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺳﻨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ﻣﮕﺮ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻧﭗ ﺯﮨﺮ ﭼﮭﮍﮐﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﭼﻨﺒﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻭﺍﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﮭﺎ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺍﺱ ﭘﮩﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺟﻼ ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﺮﺍﻍ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﺳﺘﻢ ﻧﺎ ﮐﺮ ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ! ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.8k views
IK DIYA DIL MAI JALANA BHI, BUJHA BHI DENA اک دیا دل میں جلانا بھی، بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اسے روز، بھلا بھی دینا کیا کہوں میری چاہت ہے یا نفرت اس کی نام لکھنا بھی میرا، لکھ کے مٹا بھی دینا پھر نہ ملنے کو بچھڑتا ہوں تجھ سے لیکن مڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا اس سے منسوب بھی کر لینا پرانے قصے اس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا صورتِ نقش ِ قدم، دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 3.5k views
HER IK ZAKHM KA CHAHRA GILLA JESA HAI ہر ايک زخم کا چہرہ گلا جيسا ہے مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جييسا ہے يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 2.2k views
Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟ یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟ خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر شاعر: محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.1k views
کن سوچوں میں گم رہتے ہو اِتنے خائف کیوں رہتے ہو ہر آہٹ سے ڈرتے ہو تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں تم دریا سے بھی گہرے ہو کون سی بات ہے تم میں ایسی اِتنے اچھے کیوں لگتے ہو پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا پتھر بن کر کیا تکتے ہو جاؤ جیت کا جشن مناؤ میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو اپنے شہر کے سب لوگوں سے میری خاطر کیوں اُلجھے ہو کہنے کو رہتے ہو دل میں پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا رات بہت ہی یاد آئے ہو ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے اپنی کہو اب تم کیسے ہو محسن تم بدنام بہت ہو جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو محسن نقوی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 950 views
کبھی خوابوں پہ مرتا ہوں، کبھی تعبیر مارے ہے کبھی تدبیر سے مرتا، کبھی تقدیر مارے ہے ہوس ہے میرے اندر کی جو مجھ کو ہے دغا دیتی کبھی پانے کی حسرت تو کبھی تسخیر مارے ہے کبھی سوچوں بھلا ہے یہ، کبھی سوچوں کہ وہ اچھا انہی سوچوں میں گم اکثر مجھے تاخیر مارے ہے عجب فطرت ہے انساں کی وہ چاہے جو نہیں ہوتا کبھی زندان کی خواہش، کبھی زنجیر مارے ہے بنے یکتا یگانہ یہ، نہیں کچھ ہاتھ میں اس کے کبھی لشکر پہ حاوی ہے، کبھی اک تیر مارے ہے فنا ہونا ہی قسمت ہے، بدلنا جس کا ناممکن نہ پیتا زہر جو ظالم اسے اکسیر مارے ہے کتابوں میں لکھے قصے، بتاتے ہیں مجھے فاتح جو اپنا حال اب دیکھوں تو وہ تحریر مارے ہے محبت بھی ہے اک پھندا، نہ جس سے کوئی بچ پایا وہ جو اپنوں سے بچ جائے اس…
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.9k views
Bhula Bhi De Use Jo Baat Ho Gai Pyarey. Naye Chiragh Jala Raat Ho Gai Pyarey. Teri Nigaah-E-PasheMan Ko Kese Daikhunga. Kabhi Jo Tujh Se Mulaqat Ho Gai Pyarey. Na Teri Yaad Na Dunya Ka Ghum Na Apna Khyal. Ajab Soorat-E-Haal Ho Gai Pyarey. Udas Udas Hain Shaamen Bhujhay Bhujhay Sagar. Ye Kaisi Shaam-E- Kharabaat Ho Gai Pyarey. Kabi Kabi Teri Yaadon Ki Saanwli Rut Me. Bahay Jo Ashak Tu Barsaat Ho Gai Pyarey. Wafa Ka Naam Na Le Ga Koi Zamaney Me. Hum Ahl-E-Dil Ko Aagar Maat Ho Gai Pyarey. Tumhen Tu Naaz Bohat Dosto Pe Tha..... Alag Thalag Se Ho Ky…
Last reply by ZD Gold Fish, -
- 3 replies
- 2.1k views
umar guzregi imtehaan mein kya daagh hi denge mujh ko daan mein kya meri har baat be asar hi rahi naqs hai kuch mere bayaan mein kya mujh ko to koi tokta bhi nahin yahi hota hai khandaan mein kya apni mehroomiyan chhupate hain hum ghareebon ki aan baan mein kya khud ko jaana juda zammane se aa gaya tha mere gumaan mein kya bolte kyun nahin mere haqq mein aable paR gaye zubaan mein kya dil kay aate hain jis ko dhyaan bohot khud bhi aata hai apne dhyaan mein kya woh mile to yeh poochhna hai mujhe ab bhi hun main teri amaan mein kya yun jo takta hai aasmaan ko tu koi rehta hai aasmaan mein kya yeh mujhe chain kyu…
Last reply by ZD Gold Fish, -
- 2 replies
- 2.2k views
منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے نیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کے تیری گلی سے چاند زیادہ حسیں نہیں کہتے سنے گئے ہیں مسافر خلاؤں کے پل بھر کو تیری یاد میں دھڑکا تھا دل مرا اب دور تک بھنور سے پڑے ہیں صداؤں کے داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں ہم نے مٹا دئیے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے جب تک نہ کوئی آس تھی، یہ پیاس بھی نہ تھی بے چین کر گئے ہمیں سائے گھٹاؤں کے ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ رہ جائیں گے زمین پہ کچھ داغ چھاؤں کے (قتیل شفائی)
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 4 replies
- 2.1k views
Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ke Door Jane Se, Taluq Toot Jane Se, Kisi Ke Maan Jane Se, Kisi Ke Rooth Jane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta! Kisi Ko Aazmane Se, Kisi Ke Aazmane Se. Kisi Ko Yaad Karne Se. Kisi Ko Bhool Jane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ko Chor Dene Se, Kisi Ke Chor Jane Se. Na Samaa Jalane Se, Na Sama Bujhane Se, Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Akele Muskurane Se Kabhi Aansu Bahane Se Na Is Sare Zamane Se Haqeeqat Se Fasane Se Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Kisi Ki Naa_Rasai Se Kisi Ke Paa_Rsai Se Kisi Ki Bewafai Se Kisi Dukh Intehai Se Mujhe Ab Dar Nahi Lagta Na To Is Paar Rehne Se Na To Us Paar …
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.3k views
Zabt kar ke hansi ko bhool geya,Main to us zakhm hi ko bhool geya, Zaat-dar-zaat hamsafar reh kar, Ajnabi ajnabi ko bhool geya, Subh tak vajh-e-jaan-kani thi jo baat, Main usay shaam hi ko bhool geya, Ehd-e-vabastagi guzaar ke main, Vajh-e-wabastagi ko bhool geya, Sab daleelen to mujh ko yaad rahin, Behss kya thi ussi ko bhool geya main, Kyun na ho naaz is zehaanat par, Ek main har kisi ko bhool geya, Sab se pur-amn waaqiya hai yeh, Aadmi aadmi ko bhool geya, Qehqaha maartay hi deewana, Har gham-e-zindagi ko bhool geya, Kya qayamat hui agar ik shakhss, Apni khush-qismati ko bhool geya, Sab buray mujh ko yaad reh…
Last reply by Momina Haseeb, -
- 2 replies
- 1.3k views
کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زرنگار سے خواب دے ترا کیا اصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا حساب دے جو بچھا سکوں ترے واسطے، جو سجا سکیں ترے راستے مری دسترس میں ستارے رکھ، مری مٹھیوں کو گلاب دے یہ جو خواہشوں کا پرند ہے، اسے موسموں سے غرض نہیں یہ اڑے گا اپنی ہی موج میں، اسے آب دے کہ سراب دے تجھے چھو لیا تو بھڑک اٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے اسی آگ میں مجھے راکھ کر، اسی شعلگی کو شباب دے کبھی یوں بھی ہو ترے رو برو، میں نظر ملا کے یہ کہہ سکوں "مری حسرتوں کو شمارکر، مری خواہشوں کا حساب دے تری اک نگاہ کے فیض سے، مری کشتِ حرف چمک اٹھے مرا لفظ لفظ ہو کہکشاں، مجھے ایک ایسی کتاب دے
Last reply by jannat malik, -
- 2 replies
- 1.9k views
سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
Last reply by Kainat Khan, -
- 8 replies
- 2.8k views
Suna hai log usay aankh bhar kay daikhtay hain, So us kay sheher main kuch din theher kay daikhtay hain, Suna hai rabt hai usko kharab haaloun say, so apnay aap ko barbaad kar kay daikhtay hain, Suna hai dard ki gahak hai chashm-e-naaz uski, so ham bhi us ki gali say guzar kay daikhtay hain, suna hai us ko bhi hai sher o shayari say shaghaf, so ham bhi mojzay apnay hunar kar dekhtay hain, suna hai bolay to batoun say phool jhartay hain, yeh bat hai t chalo bat kar kay daikhtay hain, Suna hai rat usay chand takta rehta hai, sitaray baam e falat se utar kay daikhtay hain, suna hai din ko usay titliyan stati hain, suna hai rat k…
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 4 replies
- 6.2k views
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے مانگے زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ !!....مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے احمد فرازؔ
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 3.3k views
Hum tu yun khush th ky ik taara girebaan mai hy ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے - ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے - میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے - فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے - سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے - دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے - خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے [gallery640x480] [photo=https…
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 5 replies
- 2.6k views
ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﮭﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺑﻂ ﮬﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﺣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﮕﻨﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﺵ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﮐﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺷﻐﻒ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬُﻨﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﺎﮨﮓ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﻧﺎﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺣﺸﺮ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﮨﺮﻥ ﺩﺷﺖ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻤﮕﯿ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.2k views
اُداسی مُشتہر ہونے لگی ہے بھرے گھر میں تماشا ہو گئی ہُوں میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں سُخن کرنے سے پہلے سوچتی ہُوں اُداسی مُشتہر ہونے لگی ہے بھرے گھر میں تماشا ہو گئی ہُوں کبھی یہ خواب میرا راستہ تھے مگر اب تو اذاں تک جاگتی ہُوں بس اِک حرفِ یقین کی آرزو میں مَیں کتنے لفظ لکھتی جا رہی ہُوں مَیں اپنی عُمر کی قیمت پہ تیرے ہر ایک دُکھ کا ازالہ ہو رہی ہُوں غضب کا خوف ہے تنہائیوں میں اب اپنے آپ سے ڈرنے لگی ہُوں نوشی گیلانی
Last reply by jannat malik, -
- 3 replies
- 1.8k views
جگا سکے نہ ترے لب ، لکیر ایسی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی یہ ہاتھ چُومے گئے ، پھر بھی بے گلاب رہے جو رُت بھی آئی ، خزاں کے سفیر ایسی تھی وہ میرے پاؤں کو چھُونے جھُکا تھا جس لمحے جو مانگتا اُسے دیتی ، امیر ایسی تھی شہادتیں مرے حق میں تمام جاتی تھیں مگر خموش تھے منصف ، نظیر ایسی تھی کُتر کے جال بھی صیّاد کی رضا کے بغیر تمام عُمر نہ اُڑتی ، اسیر ایسی تھی پھر اُس کے بعد نہ دیکھے وصال کے موسم جُدائیوں کی گھڑی چشم گیر ایسی تھی بس اِک نگاہ مجھے دیکھتا ، چلا جاتا اُس آدمی کی محبّت فقیر ایسی تھی ردا کے ساتھ لٹیرے کو زادِ رہ بھی دیا تری فراخ دلی میرے دِیر ایسی تھی کبھی نہ چاہنے والوں کا خوں بہا مانگا نگارِ شہرِ سخن بے ضمیر ایسی تھی
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 1.7k views
Main bhi khush hun koi uss se jaa ke keh dena, agar woh khush hai mujhe be’qaraar karte hue. Tumhen khabar hi nahin hai ki koi toot gaya, mohabbaton ko bahut paaedaar karte hue. Main muskurata hua aaine mein ubharunga, woh ro padegi achaanak singhaar karte hue. Mujhe khabar thi ki ab laut kar na aaunga, so tujh ko yaad kiya dil pe waar karte hue. Ye keh rahi thi samundar nahin ye aankhen hain, main inn mein doob gaya aitbaar karte hue. Bhanwar jo mujh mein pade hain woh main hi jaanta hun, tumhare hijr ke dariya ko paar karte hue. !
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
