- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Kate Middleton's chic look came amid uncertainty with Prince William
- Anthropic CEO urges AI companies to slow model development amid fears over misuse
- Harry, Meghan take heat off Andrew, Sarah Ferguson with one bold move
- LG denies Smart TV spying claims: What is found, how to protect yourself
- Dylan O'Brien honours Taylor Swift for direction in 'All Too Well'
- Babar 'confident' to continue as Pakistan's Test captain despite England whitewash
- Prince Harry and Meghan honour 9/11 heroes with powerful tribute
- Apple TV leads 2026 Emmys nights 1-2 with record 20 early wins
- Suki Waterhouse roasts Role Model in new social media update
- Prince William reaches out to Earthshot finalist amid Nepal disaster
Famous Urdu Poets
Explore profiles and poetry of famous Urdu and international poets. Discover timeless verses from legends like Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Faiz Ahmed Faiz, and many more. Share your favorite poets and their best poetry with the community.
📜 Poet Section Rules
Please post content related to specific poets only.
• Create topics using the poet’s name (e.g., “Mirza Ghalib Poetry”, “Faiz Ahmed Faiz Shayari”)
• Share authentic poetry and mention the poet’s name clearly
• Avoid posting random or unrelated poetry in this section
• Do not post only images — include text (poetry) in your post
• Respect copyright and give credit where possible
Topics that do not follow these rules may be edited or removed.
– FundayForum Team
-
- 1 reply
- 1.6k views
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں میز پر گرد جمتی جاتی ہے سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے سوگئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے آپ اپنے سے ہم سخن رہنا ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے کیا ستم ہے کہ اب تِری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے جون ایلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.9k views
……. (جون ایلیاء) ……… لمحے کو بےوفا سمجھ لیجئے جاودانی ادا سمجھ لیجئے میری خاموشئ مسلسل کو اِک مسلسل گِلہ سمجھ لیجئے آپ سے میں نے جو کبھی نہ کہا اُس کو میرا کہا سمجھ لیجئے جس گلی میں بھی آپ رہتے ہوں واں مجھے جا بہ جا سمجھ لیجئے آپ آ جایئے قریب مرے مجھ کو مجھ سے جُدا سمجھ لیجئے جو نہ پہنچائے آپ تک مجھ کو آپ اُسے واسطہ سمجھ لیجئے نہیں جب کوئی مدعا میرا کوئی تو مدعا سمجھ لیجئے جو کبھی حالِ حال میں نہ چلے اُس کو بادِ صبا سمجھ لیجئے جو کہیں بھی نہ ہو، کبھی بھی نہ ہو آپ اُس کو خدا سمجھ لیجئے …………………
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.7k views
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی بعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماں یاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئی صحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراق جب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئی اس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھر اس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئی اس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپ عمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئی اس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیے حالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئی تیرا فراق جانِ جاں، عیش تھا کیا مرے لیے یعنی ترے فراق میں، خوب شراب پی گئی اس کی گل…
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.9k views
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت وگرنہ ترکِ تعلق کی صورتیں تھیں بہت ملے تو ٹوٹ کے روئے نہ کھل کے باتیں کیں کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت بھلا دیئے ہیں تیرے غم نے دکھ زمانے کے خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا؟ امیرِ شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہاوگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت احمد فراز
Last reply by Mehak Amin, -
- 2 replies
- 1.7k views
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2k views
چشمِ گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس گرچہ کہتے رہے مجھ سے مرے غم خوار کہ بس , زندگی تھی کہ قیامت تھی کہ فرقت تیری ایک اک سانس نے وہ وہ دیے آزار کہ بس , اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا یہی ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اِس بار کہ بس , اب وہ پہلے سے بلا نوش و سیہ مست کہاں اب تو ساقی سے یہ کہتے ہیں قدح خوار کہ بس , لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فرازؔ ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2k views
ﺷﻌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺟﻮ ﺯﮨﺮ ﭘﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺧﺴﺮﻭﺍﻥِ ﺷﮩﺮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﮐﺐ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.3k views
Itne Bhi Tou Wo Khafaa Nahi Thay Jaisay Kubhi Aashna Nahi Thay Maana Ke Behem Kahan Thay Aisay Per Yun Bhi Judaa Judaa Nahi Thay Thi Jitni Bisaat, Ki Parastish Tum Bhi Tou Koi Khudaa Nahi Thay Had Hoti Hai Tanz Ki Bhi Aakhir Ham Tere Nahi Thay, Jaa Nahi Thay Kis Kis Se Nibhaatay Rafaaqat Hum Loog Ke Bewafa Nahi Thay Rukhsat Howa Wo Tou Mein Ne Dekha Phool Itnay Bhi Khushnuma Nahi Thay Thay Yun Tou Hum Oski Anjuman Mein Koi Hamain Dekhta, Nahi Thay Jab Osko Tha Maan Khud Pe Kia Kia Tab Ham Bhi “Faraz” Kia Nahi Thay
Last reply by Hareem Naz, -
- 5 replies
- 2.5k views
دن کو مسمار ہوئے ، رات کو تعمیر ہوئے خواب ھی خواب فقط ، روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے ، پھر بھی ورق ساده رہا جانے کیا لفظ تھے ، جو ھم سے نا تحریر ھوئے یہ الگ دکھ ہے کے ، ہاں تیرے دکھوں سے آزاد یہ الگ قید ہے ہم ، کیوں نا زنجیر ہوئے دیده و دل میں تیرے ، عکس کی تشکیل سے ہم دھول سے پھول ہوئے ، رنگ سے تصویر ہوئے کچھ نهیں یاد گزشتہ شب کی محفل میں فراز هم جدا کس سے ہوئے ، کس سے بغل گیر ہوئے
Last reply by Bint e Hawwa, -
-
- 6 replies
- 2.4k views
ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮮ ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ ، ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﮬﮯ ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮬﮯ ، ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﭘﻞ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺩﮬﻨﺪ ﮬﮯ ، ﺑﺎﺩﻝ ﮬﮯ ، ﺳﺎﯾﮧ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺍﺱ ﺩﯾﺪ ﮐﯽ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ , ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮬﯿﮟ ﻟﺮﺯﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﮞ , ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﮯ , ﺩﻧﯿﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮬﯿﮟ , ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ , ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﮬﺮ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺿﻮﻉِ ﺳﺨﻦ ﺩﻝِ ﺯﺩﮔﺎﮞ ﮐﺎ ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ , ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮬﮯ ، ﻟﯿﻠﯽٰ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﻼ ﮬُﻮﺍ , ﺻﺤﺮﺍ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮬُﻮﮞ ﺍﮎ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮬُﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ , ﮐﮧ ﺩﻝِ ﺯﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮬﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺁﺑﺎﺩ ﮬﻢ ﺁ…
Last reply by Bint e Hawwa, -
- 4 replies
- 2.1k views
اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے اس کی آنکھوںکو مرے زخم کی گہرائی دے تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو ان کو پتھر نہیں دیتا ہے تو بینائی دے جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے وہ برہنہ ہیں انہیں خلعتِ رسوائی دے کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
Last reply by Bint e Hawwa, -
- 3 replies
- 1.1k views
نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی رمیدگی تھی تو پھر ختم تھا گریز اس پر سپردگی تھی تو بے انتہا زیادہ تھی غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی وفا کی بات الگ پر جسے جسے چاہا کسی میں حسن، کسی میں ادا زیادہ تھی فراز اس سے وفا مانگتا ہے جاں کے عوض جو سچ کہیں تو یہ قیمت ذرا زیادہ تھی احمد فراز
Last reply by Bint e Hawwa, -
- 5 replies
- 2.1k views
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تها آج وہ مزاج نہیں اس تلوان کا کچھ علاج نہیں کهوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹهرا در ہم داغ کا رواج نہیں دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں عشق ہے بادشاہ عالم گیر گر چہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت میں اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں صبر بھی دل کو داغ دے لیں گے ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں داغ دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.4k views
ﻟﺒﻮﮞ ﭘﮧ ﭘُﮭﻮﻝ ﮐِﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﭗ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﺮﺍﻍِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻗِﺼّﮧ ﭼﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺭﮮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﭼﻠﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﺳُﻮﺭﺝ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗُﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﻡ ﺳﮯ، ﭘﮩﻠﮯ ﺩِﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﺗﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺗﺎﺭﺍﺝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺷﺎﻡ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺍﺏ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﮐِﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﮐﯿﮟ، ﻧﻮﺍﺡِ ﺩﺍﻡ ﺳﮯ ، ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﻣُﺮﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮑﻞ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺣﺮﻑ ﻣﮩﻤﻞ ﺗﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨُﻮﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻣُﻨﺼﻒ ﺗﻮ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁً ﮨﻢ ﺳﺰﺍ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪ
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 2.4k views
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی پھر لطفِ شب وصل کو دھراؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
Last reply by Waqas Dar, -
- 10 replies
- 3.9k views
ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻻ " ﺁﺝ ﺑﻌﺪ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ . ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻞ ﮐﮯ ﮬﻨﺴﺘﯽ ﮬﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮬﯽ ﮐﮭﻨﮑﮭﻨﺎﮨﭧ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﮔﯿﻠﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ . ﺁﺝ ﺑﻌﺪ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭼﺎﮬﺖ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻃﺮﺡ ﮬﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮬﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻻ ﺟُﺰ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻻ " ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ "
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.5k views
ﮨﺎﺗﻬﮧ ﮨﺎﺗﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﻬﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﮯ ﺗﻬﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﯾﮧ ﺑﻬﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺗﻬﺎ ﺟﻮ ﺍﺑﻬﯽ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺨﺖ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﺍ ﺗﻬﺎ ﺗﻢ ﻣﺠﻬﮯ ﻏﯿﺮ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﻬﮧ ﻟﯿﺘﮯ ﯾﮧ ﺳﺘﻢ ﺑﻬﯽ ﻣﺠﻬﮯ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﺗﻬﺎ ﺍﮎ ﻗﺪﻡ ﺑﻬﯽ ﺑﮍﻫﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺲ ﺁﺱ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻬﺎ ﮈﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ﺟﻮ ﺑﻬﯿﮍ ﺳﮯ ﻋﺎﻃﻒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺗﻬﺎ !!... ﻋﺎﻃﻒ ﺳﻌﯿﺪ —
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 902 views
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں ابھی تلک تو نہ کندن …
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 1.4k views
Aadat Hi Bana Li Hai Is Sheher Ke Logon Ne Andaaz Badal Lena, Awaaz Badal Lena Duniya Ki Muhabbat Main Atwaar Badal Lena Mosam Jo Naye Aaye Raftaar Badal Lena Aghyaar Wohi Rakhna Aehbaab Badal Lena Aadat Hi Bana Li Hai Es Shehar Ke Logon Ne Rasty Main Agar Milna Nazron Ko Jhuka Lena Awaaz Agar Do To Katra Ke Nikal Jana Har Ek Say Juda Rehna Har Ek Say Khafa Rehna Har Ek Ka Gila Karna Jaty Hoye Raahi Ko Manzil Ka Pata Day Kar Rasty Main Rula Dena Aadat Hi Bana Li Hai Es Sheher Ke Logon Ne........ Parveen Shakir
Last reply by jannat malik, -
- 7 replies
- 1.3k views
شاخِ مِژگانِ محبّت پہ سجا لے مجھ کو برگِ آوارہ ہُوں، صرصر سے بچا لے مجھ کو رات بھر چاند کی ٹھنڈک میں سُلگتا ہے بدن کوئی تنہائی کے دَوزخ سے نکِالے مجھ کو مَیں تِری آنکھ سے ڈھلکا ہُوا اِک آنسو ہُوں تو اگر چاہے، بِکھرنے سے بچا لے مجھ کو شب غنیمت تھی ، کہ یہ زخم نظارہ تو نہ تھا ڈس گئے صُبحِ تمنّا کے اُجالے مجھ کو میں مُنقّش ہُوں تِری رُوح کی دِیواروں پر تو مِٹا سکتا نہیں بُھولنے والے مجھ کو تہہ بہ تہہ موج ِ طلب کھینچ رہی ہے، مُحسنؔ کوئی گرداب ِ تمنّا سے نِکالے مجھ کو محسن نقوی
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.2k views
ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﺱِ ﻓﺮﺽ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﻧﯿﻨﺪ ﺁ ﮔﺌﯽ ﭼﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﻞِ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ۔۔۔۔۔۔۔ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﻧﮯ ﺟﯿﺖ ﻟﯽ ﻭﮦ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺧﻄﯿﺐ ﺟﻮ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﻤﺒﺮ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻗﺼﻮﺭ ﻭﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ۔۔۔۔۔ ﺧﻨﺠﺮ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺻﺤﺮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﺟﺐ ﭘﯿﺎﺱ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ۔۔۔۔۔۔۔ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺷﮩﺮِ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﮑﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺩﺷﺖِ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺩﮬﻮ ﺩﯾﺎ ﻣﺠﺮﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻍ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﭼﺎﺩﺭ ﭘﮧ ﺟﺎ ﮔﺮﺍ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺧﻨﺪﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭼﮭﭙﮯ ﻣﻠﺒﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﺤﺴﻦ ﭘ…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 2.1k views
کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپ…
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.7k views
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں، مائل بہ کرم آتے ہیں اور کچھ دیر گزرے شبِ فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں فیض احمد فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 2.7k views
نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقین کامل نہیں لیکن گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جائوں دل اس کی پوجا پہ بڑا اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شاید میرا دل ہے نشانے پر لبوں سے کچھ نہیں کہتا نظر سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں مجھ سے محبت ہے پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 1.5k views
یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گے وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے پروین شاکر
Last reply by Mubashir Aziz Arain, -
- 2 replies
- 979 views
مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟ اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 6.7k views
اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں مہیں میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے گیسئوں ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے تیرا ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں ناصر کاظمی
Last reply by Urooj Butt, -
-
- 0 replies
- 710 views
میں تھک گیا ہوں اساطیر جمع کرتے ہوئے گذشتگاں کی تصاویر جمع کرتے ہوئے میں سوچتا ہوں ابھی تک کہ کتنا پیچھے ہوں اُس ایک شام کی تاخیر جمع کرتے ہوئے کسی کی بزم میں دل کیا غزل سرا ہوتا گزر گیا میں مزامیر جمع کرتے ہوئے نظر گلاب ِ لب و رخ سے شرمسار نہیں بیاضِ آبِ طباشیر جمع کرتے ہوئے میں صوفیا کے مزاروں پہ عمر بھر منصور پھرا ہوں لفظ میں تاثیر جمع کرتے ہوئے اک ایک وصل کا اسباب جمع کرتے ہوئے گنوائیں آنکھیں کہیں خواب جمع کرتے ہوئے گرفتِ شب میں تھے سو 'چشمہ جھیل' میں اپنی یہ عمر گزری ہے مہتاب جمع کرتے ہوئے ہوئی نہ بلب کے جتنی بھی روشنی ہم سے ہزار کرمک ِ شب تاب جمع کرتے ہوئے بنا لیا ہے سمندر طلب کی نائو میں سیاہ بختی کے گرداب جمع …
Last reply by Urooj Butt, -
- 3 replies
- 1.4k views
میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشاں سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے کبھی اپنی سی، کبھی غیر نظر آئی ہے کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں ان تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن میری راتیں تری…
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 1.7k views
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا زندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تک یاد آتا ہے کوئی مارنے، مرنے والا اُس کو بھی ہم تیرے کُوچے میں گزار آئے ہیں زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا شام ہونے کو ہے اورآنکھ میں اِک خواب نہیں کوئی اِس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے سو بِکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا اِسی اُمّید پہ ہر شام بُجھائے ہیں چراغ ایک تارا ہے سرِ بام اُبھرنے والا
Last reply by Zarnish Ali, -
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
