- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- King Charles' latest blow puts Prince Harry to ultimate test
- College GameDay week 2: Start time, location, where to watch
- Olivia Rodrigo breaks new global record with 'you seem pretty sad' album
- Mitch McConnell hasn't been seen in public for 3 months: Will he return to Senate?
- Trump says Yemen's Houthis have asked US not to intervene
- NASCAR legend Gary Myers saw his family make racing history months before his death
- Jennifer Lopez's chai latte nails: Here's how to recreate them
- Prince William to join Tusk Awards celebrating Africa's natural heritage
- RM's birthday gets sweeter as BTS bandmates wish him
- Who are Anthropic researchers who quit over AI doomsday fears?
Famous Urdu Poets
Explore profiles and poetry of famous Urdu and international poets. Discover timeless verses from legends like Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Faiz Ahmed Faiz, and many more. Share your favorite poets and their best poetry with the community.
📜 Poet Section Rules
Please post content related to specific poets only.
• Create topics using the poet’s name (e.g., “Mirza Ghalib Poetry”, “Faiz Ahmed Faiz Shayari”)
• Share authentic poetry and mention the poet’s name clearly
• Avoid posting random or unrelated poetry in this section
• Do not post only images — include text (poetry) in your post
• Respect copyright and give credit where possible
Topics that do not follow these rules may be edited or removed.
– FundayForum Team
-
- 1 reply
- 2.5k views
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے …
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.3k views
”کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا“ وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے عاشقی کرتے تھے ھم جیتے جی مصروف رھے کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رھا اور عشق سے کام اُلجھتا رھا پھر آخر تنگ آ کر ھم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا ”فیض احمد فیض“
Last reply by jannat malik, -
- 3 replies
- 2.5k views
مانگا تھے جسے دن رات ھواؤں میں تم چھت پر نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ھے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی ھواؤں میں موسم کا اشارہ ھے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ھے پھولوں کی خطاؤں میں ھم چاند ستاروں کی راھوں کے مسافر ھیں ھر رات چمکتے ھیں تاریک خلاؤں میں بھگوان ھی بھیجیں گے چاول سے بھری تھالی مظلوم پرندوں کی معصوم سبھاؤں میں دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے کچھ زہر بھی ھوتا ھے انگریزی دواؤں میں
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.8k views
تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو …
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.5k views
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام …
Last reply by Waqas Dar, -
- 6 replies
- 2.5k views
زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا ر…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 1 reply
- 1.4k views
الف اللہ نال رتّا دل میرا مینوں ”ب“ دی خبر نہ کائی ”ب“ پڑھدیاں مینوں سمجھ نہ آوے لذّت الفِ دی آئی ”ع“ تے ”غ“ نوں سمجھ نہ جاناں گل الفِ سمجھائی بُلّھیا، قول الف دے پورے جیڑے دل دی کرن صفائی بلھے شاہ
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے…
Last reply by ROHAAN, -
- 0 replies
- 3.2k views
گر نہیں ہے تو اسے مت کیجے گر نہیں ہے تو اسے مت کیجے یونہی ضائع نہ محبت کیجے کیا دکھاوے کا تعلق رکھنا اس سے بہتر ہے کہ نفرت کیجے جو نہیں تیرا اسی کا ہونا ہے حماقت نہ حماقت کیجے مار ڈالے گی مروت ہم کو ختم ہر اپنی عنایت کیجے بے وفا ہو یا ہو مجبور کوئی بہ خوشی ایسوں کو رخصت کیجے جانے والوں کو دعا دے کے کہو پھر سے آنے کی نہ زحمت کیجے مانا مشکل ہے سنبھلنا دل کا دل سے ہر گز نہ رعایت کیجے دل کی فطرت ہے بغاوت کرنا اب کہ اس دل سے بغاوت کیجے ایک ہی شخص کو لکھے جانا بند ابرک یہ بلاغت کیجے اپنے حصے میں بھی کچھ رکھ لیجے اب کہ ابرک جو محبت کیجے ..... اتباف ابرک .....
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 3.5k views
عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا ایک پَل کو تیری یاد آئے تو مَیں سوچتا ہوُں خواب کے دشت میں بھٹکا ہوُا آہُو ہو گا تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں کیا خبر تھی کہ تو اِک پیکرِ خوشبو ہو گا اب سمیٹا ہے تو پھر مُجھ کو ادھُورا نہ سمیٹ زیرِ سر سنگ نہ ہو گا، میرا بازُو ہو گا مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا اِس توقّع پہ مَیں اب حشر کے دن گِنتا ہوُں حشر میں، اور کوئی ہو کہ نہ ہو، تُو ہو گا احمد ندیم قاسمی
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
ساتھ چلتے جا رہے ہیں ساتھ چلتے جا رہے ہیں پاس آ سکتے نہیں اک ندی کے دو کناروں کو ملا سکتے نہیں دینے والے نے دیا سب کچھ عجب انداز سے سامنے دنیا پڑی ہے اور اٹھا سکتے نہیں اس کی بھی مجبوریاں ہیں میری بھی مجبوریاں روز ملتے ہیں مگر گھر میں بتا سکتے نہیں کس نے کس کا نام اینٹوں پر لکھا ہے خون سے اشتہاروں سے یہ دیواریں چھپا سکتے نہیں راز جب سینے سے باہر ہو گیا اپنا کہاں ریت پر بکھرے ہوئے آنسو اٹھا سکتے نہیں آدمی کیا ہے گزرتے وقت کی تصویر ہے جانے والے کو صدا دے کر بلا سکتے نہیں شہر میں رہتے ہوئے ہم کو زمانہ ہو گیا کون رہتا ہے کہاں کچھ بھی بتا سکتے نہیں اس کی یادوں سے مہکنے لگتا ہے سارا بدن پیار کی خوشبو کو سینے میں چھپا …
Last reply by Sherry, -
- 1 reply
- 2.3k views
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتماد دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا مرزا اسداللہ غالب
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 2.4k views
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو میں دل کسی سے لگا لوں اگراجازت ہو تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو جون ایلیا
Last reply by Urooj Butt, -
- 2 replies
- 2.4k views
جون ایلیا زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا …
Last reply by jannat malik, -
- 3 replies
- 4.3k views
مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 1 reply
- 1.3k views
اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے ایک درد کی خاطر کتنے درد اپنائے تھک کے سو گیا سورج شام کے دھندلکوں میں آج بھی کئی غنچے پھول بن کے مرجھائے ہم ہنسے تو آنکھوں میں تیرنے لگی شبنم تم ہنسے تو گلشن نے تم پہ پھول برسائے اس گلی میں کیا کھویا اس گلی میں کیا پایا تشنہ کام پہنچے تھے تشنہ کام لوٹ آئے پھر رہی ہیں آنکھوں میں تیرے شہر کی گلیاں ڈوبتا ہوا سورج پھیلتے ہوئے سائے جالبؔ ایک آوارہ الجھنوں کا گہوارہ کون اس کو سمجھائے کون اس کو سلجھائے
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.4k views
باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی جائیں جالبؔ غم دوراں ہو کہ یاد رخ جاناں تنہا مجھے رہنے دیں مرے دل سے سبھی جائیں
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.8k views
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ مانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ اس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل یہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نما سائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ اور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل …
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.3k views
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا پہنچ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.2k views
جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی گزارنی تھی مگر زندگی، گزاری تھی سواد شوق میں ایسے بھی کچھ مقام آئے نہ مجھ کو اپنی خبر تھی نہ کچھ تمہاری تھی لرزتے ہاتھوں سے دیوار لپٹی جاتی تھی نہ پوچھ کس طرح تصویر وہ اتاری تھی جو پیار ہم نے کیا تھا وہ کاروبار نہ تھا نہ تم نے جیتی یہ بازی نہ میں نے ہاری تھی طواف کرتے تھے اس کا بہار کے منظر جو دل کی سیج پہ اتری عجب سواری تھی تمہارا آنا بھی اچھا نہیں لگا مجھ کو فسردگی سی عجب آج دل پہ طاری تھی کسی بھی ظلم پہ کوئی بھی کچھ نہ کہتا تھا نہ جانے کون سی جاں تھی جو اتنی پیاری تھی …
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں کن فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ وہ سرائے ہے کہ جس می…
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.7k views
تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا …
Last reply by jannat malik, -
-
- 0 replies
- 1.2k views
ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.8k views
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.2k views
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں
Last reply by jannat malik, -
- 7 replies
- 3.3k views
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے 'کن فیکوں' علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
Last reply by jannat malik, -
- 2 replies
- 2.6k views
Sab MayA hAi Sab Dhalti Phirtii Chaya hAi Is Ishq Mein hUm Ney jO khOya jO Paya hAi jO tUm Ney Kha "Faiz" Ney Jo Farmaya hAi Sab MayA hAi Haan Gahay Gahay Deed Ki dOulat Haath Aaii Ya Eik Wo Lazat nAam hAi Jis Ka rUSwaii Bus Is K Siwa To jO Bhe Sawaab KamayA hAi Sab MayA hAi Eik nAam To baQii Rehta hAi Gar jAan Nhien jAb Dekh Leya Is SOuday Mein NuQsAan Nhien Tab Shama Pey jAan Dainay Patanga AayA hAi Sab MayA hAi malOom Hamein Sab "Qais" Miyaan Ka QiSsa Bhe Sab Eik Sey hAin Yeh Ranjha Bhe Yeh "InSha" Bhe Farhaad Bhe Jo Eik Nehar Sii khOud K LayA hAi Sab MayA hAi kyOu dArd K Namay Likhtay Likhtay Raat Karo Jis Saat Samandar Paar Ki Naar Ki Baat Karo Us Naar Sey kO…
Last reply by Sherry, -
- 0 replies
- 2.2k views
Dil Hai Be-Khabar, Zara Hosla دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ کوئی ایسا گھر بھی ھے شہر میں جہاں ھر مکین ھو مطمئن کوئی ایسا دن بھی کہیں پہ ھے جسے خوفِ آمدِ شب نہیں یہ جو گردبادِ زمان ھے یہ ازل سے ھے کوئی اب نہیں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہیں مُستقِل کوئی مَرحلہ یہ جو خار ھیں تیرے پاؤں میں یہ جو زخم ھیں تیرے ھاتھ میں یہ جو خواب پھرتے ھیں دَر بہ دَر یہ جو بات اُلجھی ھے بات میں یہ جو لوگ بیٹھے ھیں جا بجا کسی اَن بَنے سے دیار میں سبھی ایک جیسے ھیں سر گراں غَمِ زندگی کے فشار میں یہ سراب ، یونہی سدا سے ھیں اِسی ریگزارِ حیات میں یہ جو رات ھے تیرے چار سُو نہیں صرف تیری ھی گھات میں دلِ بے خبر ، ذرا حوصلہ نہ…
Last reply by Waqas Dar, -
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
