- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Kate Middleton's chic look came amid uncertainty with Prince William
- Anthropic CEO urges AI companies to slow model development amid fears over misuse
- Harry, Meghan take heat off Andrew, Sarah Ferguson with one bold move
- LG denies Smart TV spying claims: What is found, how to protect yourself
- Dylan O'Brien honours Taylor Swift for direction in 'All Too Well'
- Babar 'confident' to continue as Pakistan's Test captain despite England whitewash
- Prince Harry and Meghan honour 9/11 heroes with powerful tribute
- Apple TV leads 2026 Emmys nights 1-2 with record 20 early wins
- Suki Waterhouse roasts Role Model in new social media update
- Prince William reaches out to Earthshot finalist amid Nepal disaster
Urdu Poetry Hub
Explore the world of Urdu poetry and Shayari. Share your favorite verses, discover famous poets, and express your emotions through words. Post in Urdu, Roman Urdu, or English and connect with a passionate poetry community.
-
- 1 reply
- 1.7k views
تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا
Last reply by Waqas Dar, -
دشوار
by Urooj Butt- 1 reply
- 930 views
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.6k views
ھُوں مَیں احوال فراموش مِرے ساتھ رھو آج سچ مُچ ھُوں مَیں بےہوش مِرے ساتھ رھو میری مستی کو ہے آغوشِ محبّت کی ھوَس اور نایاب ہے آغوش مِرے ساتھ رھو اے مِرے ہم نفسانِ روِش نیم شبی ھوچُکی بادہ سر جوش مِرے ساتھ رھو بس سُنے جاؤ تُمھاری ھی کہے جاؤں گا میرے یارو ہمہ تن گوش مِرے ساتھ رھو خواب کی شب کا ھُوں مَیں ھی تو بس خوش گُفتار خواب کے شہر میں خاموش مِرے ساتھ رھو کیا خبر راہ میں مُجھ سے کوئی سر ٹکرا دے ھوں گے کُچھ اور بھی مدھوش مِرے ساتھ رھو پی کے آیا تھا مَیں پھر ساتھ تمھارا بھی دیا میکشو تُم کہ ھو کم نوش مِرے ساتھ رھو وعدہء شام کا مطلب ہے سَحر کا وعدہ وہ ہے اِک وعدہ فراموش مِرے ساتھ رھو تُم مِرے ساتھ رھو مست خیالو تم کو…
Last reply by Hareem Naz, -
-
- 1 reply
- 1.5k views
یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں …
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 1.5k views
رَنـــجِ فـــراقِ یار میں رُســــوا نہیں ہُوا اتنا مــــیں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا ایساسفر ہےجس میں کوئی ہمسفر نہیں رستہ ہے اس طــرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا مشکل ہُوا ہے رہنا ہمـــیں اِس دیار مــیں برسوں یہاں رہے ہـــیں ، یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شــہر سے یا شــہر سے ہُوا جــو کام بھی ہُوا ، یـــہاں اچھا نہیں ہُوا ملنا تھا ایک بار اُسے پھـــر کہیں ' منیرؔ ایسا مـــیں چاھتا تھا، پر ایسا نہیں ہُوا؎! منیر نیازی
Last reply by Hareem Naz, -
- 2 replies
- 1.9k views
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
View File Dard_Gar by Umme_Maryam Read online and free Urdu novel download Dard_Gar by Umme Maryam. Free Urdu books online of Umme Maryam. in PDF format. The largest Urdu Books Download Link Collection. Read Online Or Download social novels for free. Free Download Social novels collection in PDF by Umme Maryam. For read only click at support topic button. Submitter waqas dar Submitted 09/13/2018 Category Urdu Novels Writer/Author …
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.2k views
تجھ کا آتا ہی نہیں میری محبت کا یقیں کب سے یہ ہاتھ تیری سمت بڑھا رکھا ہے دل کی گھاٹی میں دبے پاؤں اتر جاتی ہیں تیری آنکھوں نے تو دیوانہ بنا رکھا ہے
Last reply by jannat malik, -
- 8 replies
- 2.4k views
اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی
Last reply by Urooj Butt, -
- 1 reply
- 1.1k views
اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار راز کی ساری بات سُن لیں گے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا سانس کا شور بھی نہ سُن پائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا آئیے بند کر لیں دروازے رات سپنے چُرا نہ لے جائے کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے اور آہستہ کیجیے باتیں دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہو گا
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.3k views
Biochemistry and Ecology of Algae – PowerPoint Presentation PPTX View File Biochemistry and Ecology of Algae – PPT Presentation Biochemistry and Ecology of Algae is an important topic in biological sciences that explains both the internal chemical processes of algae and their role in the environment. This presentation covers the structure, functions, and ecological importance of algae in aquatic and terrestrial ecosystems. Algae are simple, plant-like organisms that can be found in freshwater, marine, and even moist terrestrial environments. They play a crucial role in maintaining ecological balance by producing oxygen and ser…
Last reply by Narmeen Dar, -
-
- 2 replies
- 1.7k views
محبت راستہ ہوتی تو اس پہ عمر بهر چلتے کہیں تهک کے جو رک جاتے تو تیری آرزو کرتے تمہیں لا کر خیالوں میں تمهی سے گفتگو کرتے تمهی کو سوچتے پہروں تمهاری جستجو کرتے اگر تم زخم بهی دیتے تو ہم اس کو رفو کرتے کوئی شکوہ گلہ ہو تا تو وہ بھی رو برو کرتے محبت راستہ ہوتی تو اس پر عمر بهر چلتے
Last reply by shawn52, -
- 4 replies
- 1.5k views
ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خ…
Last reply by shawn52, -
- 0 replies
- 709 views
،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﻮ ﺳﺤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ،ﺳﻮﯾﺮﺍ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ،ﺗﻼﻃﻢ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﯿﻨﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ،ﺳﻔﺮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﺘﺎ ،ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻧﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮑﺘﺎ ،ﺳﻔﺮ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﺧﺪﺍ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﻇﺮ ﺑﮭﯽ ،ﺧﺪﺍ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ،ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ،ﻭﮨﯽ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ،ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ،ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ،ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﺱ ﮐﯽ ﮔﺎﮔﺮ ،ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮨﻮﺍ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮ ،ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ ،ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﯽ ﭼﮑّﯽ ،ﺫﺭﺍ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ،ﻣﮕﺮ ﭼﮑّ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 852 views
سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں دل کو برباد روح کو ناشاد خُود کو آباد سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر بار کامل جفا ہمیشہ بے خطا کبھی نہ وفا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں نئے عُذر تراشنا نئے بہانے بنانا جھوٹی قسمیں کھانا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں محبت میں مُنافقت مُنافقت میں رفاقت جُھوٹ میں صداقت سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں یار بدل لینا پیار بدل لینا اطوار بدل لینا سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں ہر اِک سے فریب ہونا سراپأِ فریب رہنا دیدہ زیب سیکھنا ہے مجھے تُم سے کیسے کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں بے و فائیاں کیسے کرتے ہیں کج ادائیاں کیسے کرتے ہیں…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 918 views
بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو ۔۔۔۔سلام ہو گا ناں ؟؟ کبھی کبھار ہی لیکن ۔۔پکارتے ہیں تجھے ہمارا چاہنے والوں میں نام ۔۔۔ہو گا ناں ؟؟ افتخار شاہد
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 856 views
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨُﻮﭨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺁﺯﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺤﺮﺍ ﺳُﻠﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﺑِﻠﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺤﺾ ﺍﮎ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﮕﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮐﯿﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﺧﺎﺭ ﺳﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﭼُﮭﻮ ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 779 views
ذات کا گنجل کھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ اس رات کی کالی چادر کو یہ چاند ستارے اوڑھ چکے۔۔۔ کچھ جان سے پیارے یار سجن دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے۔۔۔ خود آپ بھٹکتی راہوں میں یہ تن تنہا مت رول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا اب رات کٹے گی خوابوں میں۔۔۔ میں نام ترے جیون جیون تم اب تک دور سرابوں میں۔۔۔ جو راکھ ہوئی ان خوابوں میں یہ ہستی ہے انمول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ تو جب تک اپنے پاس رہا گرداب کا گھیرا راس رہا۔۔۔ پر تول چکا، سب بول چکا اب من پنچھی بے آس رہا۔۔۔ جذبات نہیں معصیت کے یوں زہر نہ ان میں گھول پِیا کچھ بول پِیا۔۔۔ دربار لگا ہے زخموں کا دردوں کی نمائش جاری ہے۔۔۔ رِستا ہے لہو ان پھو…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 861 views
کو ئی ایسا شبد لکھے کوئی جو دلگیروں کا گیت بنے کوئی لفظ تحمّل والا ھو کوئی بات کہ جیسے ماں بولے جسے سن کر زخم بھریں دل کے جسے چُھو کے رنج نہ ھو کوئی کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جو ٹھنڈک ھو، آزار نہ ھو جو جیون بھر کا عطر بنے جو رستہ ھو دیوار نہ ھو کوئی کافی شاہ عنایت سی کوئی رمز بِھٹائی چاھت سی کوئی ھُوک سچل سرمست بھری جس لفظ کی گدڑی کے اندر انسان کی اک پہچان بھی ھو جو پورب پچھم سے آگے بغداد بھی ھو ملتان بھی ھو کوئی ایسا شبد لکھے کوئی جسے پڑھ کر اک حیرانی ھو جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں ھر مشکل کی آسانی ھو جو طنز نہ ھو تحقیر نہ ھو کوئی ھو جو ایسا شبد لکھے وہ چاھے سنت فقیر نہ ھو بھلے ناسخ غالب میر نہ ھو پر ھو تو سہی کوئی ایسا …
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1k views
فراق یار کی بارش، ملال کا موسم ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم وہ اک دعا میری جو نامراد لوٹ آئی زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں ٹھہر گیا ہے تمھارے خیال کا موسم جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ھیں تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم محبتیں بھی تیری دھوپ چھاوں جیسی ھیں کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے محسن ہم اپنے خواب کی خوشبو خیال کا موسم
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 841 views
دل ﻣﻀﻄﺮ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻝ ﻧﮯ ﺗﮍﭘﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﺮﮎِ ﺁﺭﺯﻭ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺎ ﺑﮭﯽ ، ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﺘﻢ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻠﺘﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ❤ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 748 views
فُضول بیٹھ کے صفحات بھرتی رہتی ہُوں میں اَپنے آپ کو اِلہام کرتی رہتی ہُوں اَگر ، مگر ، نہیں ، ہرگز کی کند قینچی سے اَنوکھے خوابوں کے پَر ، شَر کترتی رہتی ہُوں میں سانس نگری کی بے حد عجیب مالی ہُوں لگائے پودوں کے بڑھنے سے ڈَرتی رہتی ہُوں نجانے کس نے اُڑا دی کہ ’’ دِن معین ہے ‘‘۔ یقین مانیے میں روز مرتی رہتی ہُوں مرے وُجود کو اَشکوں نے گوندھ رَکھا ہے ذِرا بھی خشک رَہوں تو بکھرتی رہتی ہُوں دُعا کو ہاتھ اُٹھاتی تو اُس پہ حرف آتا اَبھی تو سستی پہ اِلزام دَھرتی رہتی ہُوں کسی کے حُسن کا ہے رُعب اِس قَدَر مجھ پر میں خواب میں بھی گلی سے گزرتی رہتی ہُوں بہت سے شعروں کے آگے لکھا ہے ’’ نامعلوم ‘‘۔ بہت سے شعر میں کہہ کر مکرتی رہتی ہُوں اُدھورے قص…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1.1k views
میں نازک دل دا مالک ہاں میڈا دل نہ یار دکھایا کر نہ کوڑے وعدے کیتے کر نہ کوڑیاں قسماں چایا کر تیکوں کئی واری میں آکھیا ہے میکوں ول ول نہ آزمایا کر تیڈی یاد وچ "سجن" مر ویساں میکوں اتنا ❤❤❤یاد نہ آیا کر
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1.5k views
میری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا تمھارے کام آئے گا، یہ سامان لے جانا تمھارے بعد کیا رکھنا اَنا سے واسطہ کوئی؟ تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا شکستہ دل کے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر چن لو اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے جانا ادھر لماریوں میں چند اوراق پریشاں ہیں مرے یہ باقی ماندہ خواب میری جان لے جانا تمھیں ایسے تو خالی بات رخصت کر نہیں سکتے پرانی دوستی ہے، اس کی کچھ پہچان لے جانا ارادہ کر لیا ہے گر تم نے سچ مچ بچھڑنے کا تو پھر اپنے یہ سارے وعدہ و پیمان لے جانا اگر تھوڑی بہت ہے شاعری سے اُن کو دلچسپی تو ان کے سامنے تیم میر…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 1.2k views
ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﭼﻨﺎ ﮔﻼﺑﻮﮞ ﮐﺎ ............... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ .............. ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﻧﺸﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ................... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ............... ﺗﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﺌﮯ ﮨﻮ ﻧﺎﮞ ! ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ ﮨﻮ .............. ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ .................. ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﻧﯽ ﮨﻮﮞ ، ﭨﻮﭨﻨﺎ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ .................... ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ .................. ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﺑﻮ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﮯ ............... ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﺼﻞ ﮨﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ .................. ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﺎ ﺳﺮﺍﺑﻮﮞ ﮐﺎ ................. ﺭﯾﺖ ﺍﺱ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ ................. ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﮯ …
Last reply by ADMIN, -
- 3 replies
- 879 views
لگتا تو یوں ہے جیسے سمجھتا نہیں ہے وہ معصوم جتنا لگتا ہے اتنا نہیں ہے وہ مجھ میں بسا ہوا بھی ہے وہ سر سے پیر تک اور کہہ رہا ہے یہ بھی کہ میرا نہیں ہے وہ کر دونگا موم باتوں میں سوز و گداز سے جذبات کی تپش سے مبرا نہیں ہے وہ واضح یہ کر چکا ہے یقیں دل کے وہم پر میرا ہے صرف اور کسی کا نہیں ہے وہ رہتا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ مرا خیال تنہایوں میں رہ کے بھی تنہا نہیں ہے وہ ہوگا غلط بیان میں مجبوریوں کا ہاتھ حق بات ورنہ یہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہے وہ ٹھہرا وہ پھول، بوسے لبوں کے ملے اسے پتوں کی طرح پیروں میں آیا نہیں ہے وہ مرنے کے بعد آیا ہے کرنے مرا علاج مانا کہ چارہ گر ہے. مسیحا نہیں ہے وہ جاوید رات دن ہے ترا انتظار اسے کہنے کو تی…
Last reply by ADMIN, -
-
- 3 replies
- 1.4k views
تم کن پر نظمیں لکھتے ھو ؟؟ تم کن پر گیت بناتے ھو ؟؟ تم کن کے شعلے اوڑھتے ھو؟؟ تم کن کی آگ بجھاتے ھو ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو اُس آگ پہ تم نے کیا لکھا؟؟ جس آگ میں سب کچھ راکھ ھُوا مری منزل بھی ، میرا رستہ بھی مرا مکتب بھی ، میرا بستہ بھی مرے بستے کے لشکارے بھی مرے ست رنگے غبارے بھی مرے جگنو بھی ، میرے تارے بھی اے دیدہ ورو انصاف کرو وہ راہ نہیں دیکھی میں نے جو مکتب کو جاتی ھے اِس ھَوا نے مجھ کو چُھوا نہیں جو نیندوں کو مہکاتی ھے اور میٹھے خواب دکھاتی ھے اس کرب پہ تم نے کیا لکھا ؟؟ اے دیدہ ورو انصاف کرو مری تختی کیسے راکھ ھُوئی ؟؟ مرا بستہ کس نے چھین لیا ؟؟ مری منزل کس نے کھوٹی کی ؟؟ مرا رستہ کس نے چھین لیا ؟؟ …
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 2.3k views
اِک سوچ عقل سے پھسل گئی مجھے یاد تھی کےبدل گئ میری سوچ تھی کے وہ خواب تھا میری زندگی کا حساب تھا میری جستجو کے بر عکس تھی میری مشکلوں کا وہ عکس تھی مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی جو نہ یاد ہو تو گُمان تھا مجھے بیٹھے بیٹھے گُماں ہوا گُماں نہیں تھا وہ خُدا تھا میری سوچ نہیں تھی-خُدا تھا وہ وہ خُدا کے جس نے زباں،دِل دیا جان دی وہ زباں کے جسے نا چلا سکیں وہی دِل جسے نا منا سکیں وہی جاں جسے نا لگا سکیں کبھی مل تو تُجھے بتا ئیں ہم تُجھے اس طرح سےستائیں ہم تیرا عشق تُجھ سے چھین کر تُجھے مے پِلا کے رُلائیں ہم تُجھ درد دوں تو نہ سہے َسکے تُجھے دوں زُباں تو نا کہے سَکے تُجھے دوں مکاں تو نہ رہے سَکے تُجھے مشکلوں میں گِھرا کر میں کوئی ایسا رس…
Last reply by ADMIN, -
- 1 reply
- 47.5k views
View File Reham Khan Book in PDF 2018 Download free Please share , Like and give views below. Reham Khan, the former wife of Imran Khan is ready to reveal it all in her upcoming book, which is scheduled to drop next week in London. The book is considered to be an autobiography and explains in length the incidents surrounding her short marriage with Imran Khan. The TV anchor and ex-wife of Imran Khan, the president of Pakistan Tehrik-e-Insaaf (PTI) announced the release of her autobiography a few months back but what gained it immense media coverage is the leaked manuscript last month. The revelations made in the manus…
Last reply by Admin001,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
